کراچی میں بارش ہوگی یا نہیں؟ محکمہ موسمیات کی نئی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
کراچی:
محکمہ موسمیات نے کراچی میں بارش ہونے یا نہ ہونے سے متعلق نئی پیش گوئی کر دی۔
شہر قائد کے مختلف علاقوں مں آج صبح فجر کے وقت تیز ہواؤں اور بادلوں کے باعث ہلکی بارش سے موسم خوش گوار ہوگیا تھا۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے پیر کو شام کے وقت بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی تھی تاہم شمال مشرقی خشک ہواؤں کی وجہ سے کراچی میں بارش کے امکانات کم ہوگئے۔
کراچی میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے منگل تک جاری رہنے کا امکان بتایا گیا تھا۔
دوسری جانب، لاڑکانہ میں 1991 کے بعد رواں مئی میں سب سے زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ مئی 1991 میں لاڑکانہ میں ایک مہینے کے دوران 24 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 21 مئی 1991 کو ایک دن میں 15.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کراچی میں بارش محکمہ موسمیات
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔