پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارتی فوج ،ایجنسیاں متحرک، سہولت کاری کے شواہد بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
دہشت گرد مجید بھارتی فوج کے آفیسرز اور ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں تھا، آئی ای ڈیز نصب کرنے کے بدلے بھارتی فوج سے پیسہ وصول کر رہا تھا، موبائل فون اور ڈرون فرانزک سے ثابت
بھارتی فوجی افسران میجر سندیپ ورما، صوبیدار سکھوندر، حوالدار امیت کے دہشت گرد سے رابطے،’’ دھماکے کی خبر میڈیا میں آگئی اور جتنے بندے مار دیے ، فی کس 10لاکھ روپے ملیں گے‘‘ ، گفتگو
پہلگام فالس فلیگ کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھارتی سہولت کاری کے مستند شواہد سامنے آگئے ۔ذرائع کے مطابق پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارتی فوج اور ایجنسیاں پوری طرح متحرک ہیں، جہلم سے گرفتار دہشتگرد مجید کے موبائل فون اور ڈرون فرانزک کے بعد ناقابل تردید شواہد سامنے آئے ۔دہشت گرد مجید بھارتی فوج کے آفیسرز اور ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں تھا، دہشت گرد آئی ای ڈیز نصب کرنے کے بدلے بھارتی فوج سے پیسہ وصول کر رہا تھا۔دہشت گرد مجید اور بھارتی آرمی کے افسران کے درمیان واٹس ایپ گفتگو سے متعلق ہوشربا انکشافات بھی سامنے آئے جس میں چار بھارتی آرمی افسران کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ان بھارتی فوجی افسران میں میجر سندیپ ورما، صوبیدار سکھوندر، حوالدار امیت اور ایک سپاہی شامل ہے ۔ اس گفتگو میں بھارتی ہینڈلر دہشت گرد مجید سے کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں شہریوں کی لاشیں چاہئیں۔ بھارتی ہینڈلرز دہشت گرد مجید کو بم بنانے کے طریقے پر مشتمل ویڈیوز بھیجتے ہیں۔دہشت گرد مجید سے بات کرتے ہوئے بھارتی میجر سندیپ نے کہا کہ ’’لاہور سے لیکر بلوچستان تک اس کا نیٹ ورک موجود ہے ، ہم نہ ہی بچے ہیں اور نہ ہی پاکستان میں یہ ہماری پہلی دہشت گردی کی کارروائی ہے ۔بھارتی میجر سندیپ نے کہا کہ ہم کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ ہمارا بندہ پکڑا جائے ، میں آپ کو یکمشت ایک لاکھ بھی بھیج سکتا ہوں مگر آپ پاکستانی ایجنسیوں کی نظر میں آسکتے ہیں، آپ کو باقاعدگی سے پیسے ملتے رہیں گے ۔ٹریس ہونے والی کال میں بھارتی آرمی کا صوبیدار سکھویندر دہشت گرد مجید کو بتاتا ہے کہ ’’اگر دھماکے کی خبر میڈیا میں آگئی اور جتنے بندے مار دیے ، فی کس 10لاکھ روپے ملیں گے ‘‘۔آڈیو کالز میں آئی ای ڈیز کی وصولی ان کو نصب کرنے کے مقامات کی بھی نشاندہی کی جاتی رہی، یہ آئی ای ڈیز بذریعہ ڈرون دہشتگرد مجید کو فراہم کی جاتی تھیں۔سکھوندر نے 24ستمبر کو دہشتگرد مجید کو برنالہ بھمبر میں بارودی مواد کی نشاندہی کی، جو اس نے وصول کیا۔ دہشتگرد مجید نے ضلع باغ میں 13 اکتوبر کو فوجی گاڑی پر بم حملہ کیا جس میں فوج کے تین جوان زخمی ہوئے ، 13 اکتوبر کے بم حملے کے لیے دہشتگرد مجید کو بھارتی ہینڈلر نے 1 لاکھ 80 ہزار روپے دیے ۔اسی طرح، 22 نومبر کو سکھوندر نے ہیڈ مرالہ کے قریب جگہ کی نشاندہی کی، دہشتگرد مجید نے تباہ شدہ ڈرون اور آئی ای ڈی حاصل کی۔ 30 نومبر کو دہشتگرد مجید نے جلالپور جٹاں میں آئی ای ڈی فوجی گاڑی پر لگائی جس سے 4 جوان زخمی ہوئے ، دہشت گرد مجید نے ٹاسک مکمل ہونے پر 6 لاکھ 56 ہزار روپے حاصل کیے ۔دہشتگرد مجید اور بھارتی فوجی آفیسرز کے درمیان آئی ای ڈیز کی وصولی کے لیے مٹھائی کے ڈبے کا لفظ استعمال کیا جاتا رہا۔سکھوندر نے 22 اپریل 2025 کو ندالہ کے قریب آئی ای ڈی پہنچائی جبکہ 23 اپریل کو سکھوندر نے دہشت گرد مجید کو بس اسٹینڈ پر بم حملے کا ٹاسک دیا۔ بھارتی فوجی افسران دہشت گرد مجید کو رش والے بس ا سٹینڈز پر دھماکے کا کہتے تاکہ نقصان زیادہ ہو۔دفاعی ماہرین کے مطابق دہشت گرد مجید اور بھارتی فوجی ہینڈلرز کے درمیان یہ آڈیو گفتگو ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی پھیلاتا ہے ، بھارت دہشت گردی پھیلانے کیلئے دہشت گردوں کو بھاری فنڈنگ میں بھی فراہم کرتا ہے۔ دفاعی ماہرین نے کہا کہ بلوچستان اور دیگر صوبوں میں دہشت گردوں کو کارروائیوں کے لیے تربیت تک بھارت ایجنسیاں دیتی ہیں، ان شواہد کے بعد یہ ضروری ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کا نام فیٹف میں شامل کیا جائے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔