UrduPoint:
2026-07-24@09:13:27 GMT

پاکستان میں بھارتی میزائل حملے

اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT

پاکستان میں بھارتی میزائل حملے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 مئی 2025ء) پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارتی طیاروں نے بہاولپور، کوٹلی اور مظفر آباد میں مخلتف مقامات کو نشانہ بنایا۔خبریں آ رہی ہیں کہ بہاولپور میں ہونے والے حملے میں ایک بچہ ہلاک اور دو افراد کو زخمی ہیں۔ پاکستان فوج نے اپنے ردعمل میں اپنی مرضی کے وقت اور جگہ پر بھارتی حملوں کا جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان، بھارت نے اب تک ایک دوسرے کے خلاف کیا اقدامات کیے؟

بھارت پاک کشیدگی پر اقوام متحدہ کے اجلاس میں کیا ہوا؟

پاک بھارت کشیدگی: پاکستان کا دو دنوں میں دوسرا میزائل تجربہ

پاک بھارت کشیدگی: یورپی یونین کہاں کھڑی ہے؟

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارت نے بہاولپور میں مسجد سبحان اللہ کو نشانہ بنایا جبکہ کوٹلی اور مظفر آباد کے مضافات میں میزائل داغے۔

(جاری ہے)

تاہم ابھی تک ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔

بہاولپور اور مظفر آباد میں ہونے والے حملوں کی ڈی ڈبلیو کے مقامی نمائندوں کی جانب سے بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔ جن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں اور سرحدی علاقوں کی بجلی بھی بند کر دی گئی ہے۔

بھارتی فوج کی جانب سے ایکس پر بیان جاری کیا گیا ہے کہ 'انصاف کر دیا گیا‘۔

دوسری جانب پاکستان میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسے ایک شرمناک کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ پاکستان کی فضائیہ متحرک ہے، جس نے بھارتی طیاروں کو پاکستان میں داخل نہیں ہونے دیا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت نے اپنی حدود سے یہ میزائل داغے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کا جواب پاکستان اپنی مرضی اور وقت پر دے گا۔

ع ا / ع س (نیوز ایجنسیاں)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت