بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ نے طیارے تباہ ہونے کی خبر ویب سائٹ سے ہٹادی، ٹوئٹ بھی ڈیلیٹ
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
بھارت کے انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ نے بھی گودی میڈیا کی فہرست میں اپنا نام شامل کروالیا، بھارتی طیارے تباہ ہونے کی خبر ویب سائٹ سے ہٹادی، ٹوئٹر (ایکس) پر پوسٹ کی گئی خبر بھی ڈیلیٹ کردی۔
بھارت کے انگریزی روزنامے دی ہندو نے اپنی ویب سائٹ پر مقبوضہ کشمیر میں پاک فضائیہ کی کارروائی میں 3 بھارتی طیارے تباہ ہونے کی خبر شائع کی، کچھ دیر بعد خبر ویب سائٹ سے ہٹالی، ویب سائٹ پر ابتدا میں خبر دکھائی دے رہی ہے، تاہم کلک کرنے کے بعد تفصیلات سامنے نہیں آتیں، اور بعد میں خبر مکمل غائب ہوجاتی ہے۔
بھارت میں آزادانہ رپورٹنگ کرنے والے میڈیا ہاؤسز کا قحط ہے، مودی سرکار نے بھارتی میڈیا کو اپنے مکمل کنٹرول میں جکڑ رکھا ہے۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے صحافتی اصولوں سے انحراف کا سلسلہ جاری ہے، پہلگام حملے کے بعد پورا بھارتی میڈیا مودی سرکار کی پروپیگنڈا فیکٹری کا روپ دھار چکا ہے، ہر چینل اور اخبار مودی سرکار کے بیانیے کو فروغ دینے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش میں مگن رہا۔
گزشتہ رات پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھارتی حملے کے بعد پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا، پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارت کے رافیل طیاروں سمیت 5 جنگی جہاز مار گرائے تھے، جن کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی میڈیا میں بھارت کے حملے کے بعد ہونے والی شہری شہادتوں کو کھل کر رپورٹ کیا جارہا ہے، نہ صرف پاکستانی میڈیا بلکہ پاک فوج کے ترجمان نے بھی بھارتی جارحیت سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات خود میٖڈیا پر آکر بتائیں۔
واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ رات، اندھیرے میں پاکستان کے شہری علاقوں پر حملہ کرکے طبل جنگ بجادیا تھا۔
بھارتی حملے کے بعد پاکستان کی مسلح افواج نے بزدلانہ حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے 3 رافیل طیاروں سمیت 5 جنگی طیارے مارے گرائے، جب کہ ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر سمیت متعدد فوجی چیک پوسٹوں کو تباہ کردیا تھا، بھارتی فوج نے ایل اوسی کے چورا کمپلیکس پر سفید جھنڈ الہرا کر شکست تسلیم کرلی تھی۔
وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے صبح سویرے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی فوج نے سفید جھنڈا لہرا کر شکست تسلیم کرلی ہے، پاک فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر دشمن کی پوسٹوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے، پاکستان کے مؤثر جواب کے بعد بھارت کی متعدد پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ پاکستان نے بھارت کے 5 لڑاکا طیارے اور ایک ڈرون مار گرایا۔
اس کے علاوہ پاک فوج کی جوابی کارروائیاں تاحال جاری ہیں، اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچنے کی مسلسل اطلاعات مل رہی ہیں۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حملے کے بعد بھارت کے ویب سائٹ
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔