غصے، جنون اورہیجان میں کیے گئے فیصلے ہمیشہ تباہی کا باعث بنتے ہیں، پاکستان پر حملہ بھارتی قیادت کی عقل دشمنی کی بہترین مثال ہے۔پہلگام واقعہ بھارتی قیادت کے اعصاب، ہوشمندی اور تدبر کا امتحان تھا جس میں وہ بری طرح فیل ہوئی ہے۔
چھ اور سات مئی کی درمیانی شب بھارت نے پاکستانی سرزمین پر میزائل داغ کر ثابت کردیا کہ مذہب اور قوم پرست نظریات کی حامل قیادت دانشمندانہ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ہوتی، پہلگام واقعہ کئی سربستہ راز لیے ہوئے ہے، پاکستان نے آفر بھی کی کہ مشترکہ یا غیرجانبدار عالمی ٹیم تحقیقات کرے تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ واقعہ کرانے والی قوتیں کون سی ہیں لیکن بی جے پی کوئی صائب فیصلہ نہ کرسکی۔ بھارت کے انتہاپسند میڈیا نے ریاست اور سیاست کو بے دست و پا کردیا،ارنب گوسوامی، گورو آریا، سدھیر چوہدری اور ان جیسے نیوز اینکرز ، رپورٹرز اور بی جے پی فلسفہ کے پرچارک تجزیہ کاروں نے شمالی ہند میں آگ لگا دی، فیک نیوز، تضحیک ،نفرت کو پروان چڑھایا، راہول گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے لیڈر سینسی ایبل بات کرتے ہیں لیکن بی جے پی کے گودی میڈیا کے اینکرز اور میزبانوں نے ان سیاستدانوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا۔
میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بھارتی میڈیا میں انڈر ورلڈ کی بھاری انوسٹمنٹ ہے۔ انڈر ورلڈمحض ایک ٹرم یا اصطلاح نہیں ہے، یہ ایک سوچ، فکر اور فلسفہ ہے، ایک معاشی ماڈل ہے،اس معاشی و اقتصادی ماڈل کی وسعت و حجم قانونی و آئینی معیِشت سے کہیں زیادہ ہے۔انفرمیشن ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ٹولز کو اگر کوئی صحیح معنوں میں استمعال کررہا ہے تو وہ انڈر ورلڈ ہے۔اس نے ریاستوں کے سسٹمز کو کرپٹ کردیا ہے بلکہ کھوکھلا کردیا ہے۔دہشت گرد گروہ اور جرائم پیشہ گروہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے اپنا ٹارگٹ حاصل کر رہے ہیں اور ان کا ٹارگٹ آگنائزڈ سسٹم کو کمزور کرنا، انھیں کرپٹ کرنا اور ان کے سسٹم کو اپنے حق میں استعمال کرنا تاکہ کالی دولت پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے۔ بہرحال یہ موضوع گہرا اور پیچیدہ ہے، اس پر بات پھر کبھی سہی ، سردست بھارت کی شرارت پر ہی توجہ رکھتا ہوں ۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوچکا ہے، اس میں پاک فوج کو مناسب کارروائی کرنے کے مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں‘ وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں یہ اجلاس دو گھنٹے تک جاری رہا‘ یقیناً اہم ترین فیصلے کر لیے گئے ہیں۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات بھارت نے آزاد کشمیر میں مظفر آباد، کوٹلی، باغ جب کہ پنجاب میں احمد پورشرقیہ، مریدکے اور بہاولپور سمیت 8 مقامات پر اپنی فضائی حدود سے میزائل فائر کیے اور سویلین آبادی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ چھبیس افراد شہید ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔پاک فوج نے ان حملوں کا فوری اور منہ توڑ جواب دیا جس کے بعد دشمن پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا ، بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، بھارت کے 5 طیارے گرائے اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو تباہ کردیا گیا۔
قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارت کا اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی اقدامات کے زمرے میں آتا ہے، معصوم شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے، بھارتی اقدام بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، مساجد اور تنصیبات کو نقصان پہنچا۔اعلامیے کے مطابق نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو نشانہ بنانا عالمی کنونشنز کی خلاف ورزی ہے، عالمی برادری بھارت کو غیرقانونی اقدامات پر جوابدہ بنائے، پاکستان امن کا حامی ہے لیکن خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، پاکستان کے معصوم عوام پر حملہ نا قابل برداشت اورنا قابل قبول ہے، بھارت نے ایک بار پھر غیر دانشمندانہ طرز عمل سے خطے میں آگ بھڑکائی ہے، نتائج کی تمام تر ذمے داری بھارت پر عائد ہو گی، پاکستان کسی بھی وقت، جگہ اور طریقے سے اپنے معصوم شہریوں کی شہادت کا بدلہ لینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
بھارت کی جارحیت اور اشتعال انگیزی نے واضح کر دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کو سب سے بڑا خطرہ نئی دہلی کی انتہا پسند پالیسیوں سے لاحق ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے جس طرح داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان دشمن بیانیے کو ہوا دی ہے، وہ نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہے بلکہ خطے کی سلامتی کو بھی داؤ پر لگا چکی ہے۔
مودی کی تقاریر ہوں یا بی جے پی کے دیگر رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات، ان سب کا مقصد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان پر دباؤ بڑھانا اور دنیا کو ایک غلط تصور دینا ہے کہ بھارت مظلوم ہے اور پاکستان جارح ہے۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔بھارت کی پالیسی اب محض دفاعی نہیں رہی بلکہ جارحانہ ہوگئی ہے۔ موجودہ بھارتی قیادت کے ذہن میں ایک شدت پسندانہ نظریہ کارفرما ہے، جو علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی اور اقتصادی مفادات کی خاطر بھارت کی آنکھ بند کر کے حمایت، ان تمام خطرات کو مزید بڑھا رہی ہے۔ حال ہی میں پہلگام کے مقام پر مبینہ فالس فلیگ آپریشن نے ایک بار پھر اس خطرناک رجحان کی نشاندہی کردی ہے جو بڑی جنگ کا خطرہ بن چکا ہے۔
بھارت کا پرانا وطیرہ رہا ہے کہ داخلی بحرانوں یا انتخابی دباؤ سے نکلنے کے لیے پاکستان کے خلاف مصنوعی الزامات تراشے جائیں، جھوٹے حملوں کا ڈراما رچایا جائے اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکی جائے۔ اس بار بھی کچھ مختلف نہیں ہوا۔ پہلگام واقعے کے فوری بعد جس تیزی سے بھارت نے انگلی پاکستان کی طرف اٹھائی اور اپنا میڈیا ہتھیار بنا کر فضا کو زہر آلود کیا، وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس واقعے کے پیچھے خود بھارتی اداروں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس معاملے پر بریفنگ بھی دی اور سلامتی کونسل کے ارکان نے بھی پاکستان کا ساتھ دیا لیکن بھارت نے کسی کی نہیں سنی۔ بھارت خطے کے امن، عالمی قوانین اور ایٹمی استحکام کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے۔
بھارت نے ماضی میں بھی کئی مواقع پر جھوٹے الزامات، فالس فلیگ آپریشنز اور جعلی سرجیکل اسٹرائیکس کے ذریعے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پلوامہ واقعہ اور اس کے بعد ہونے والی مبینہ کارروائی میں بھی یہی رویہ دیکھنے میں آیا۔ بعد میں خود بھارتی میڈیا اور اپوزیشن جماعتوں نے ان کارروائیوں پر سوالات اٹھائے۔ پہلگام کا حالیہ واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے ذریعے بھارت عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور داخلی سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے درپے ہے۔خطے کے کروڑوں عوام جنھیں بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے مسائل کا سامنا ہے، وہ اس کشیدگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہماری ایئر فورس، نیوی اور آرمی نے وقتاً فوقتاً یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا سکتی ہیں بلکہ ہر محاذ پر اپنی برتری کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے افواج پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا، جو قومی فہم و فراست کا مظہر ہے۔
پاکستان، جو پچھلی دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور مشکل جنگ لڑ چکا ہے، کسی بھی صورت میں ایک نئی جنگ کا خواہاں نہیں۔ ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے ہمیشہ امن کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور بارہا بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی حارحانہ پالیسی کا نوٹس لے۔ تاہم، بھارت کی جانب سے اشتعال انگیز اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
دشمن چاہتا ہے کہ پاکستان کے اندر اختلافات کو ہوا دے کر اسے اندر سے کمزور کیا جائے، لیکن حالیہ دنوں میں جس طرح سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ملکی سلامتی پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا، وہ اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کو کمزور سمجھنا ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔اس نازک صورت حال میں میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا کا جنگی پراپیگنڈہ جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے جب کہ پاکستانی میڈیا نے اب تک ذمے دارانہ رویہ اپنایا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اشتعال انگیزی عروج پر ہے ۔ اگر عوامی سطح پر اشتعال پھیلایا جاتا رہا تو حکومتیں بھی دباؤ میں آ کر غلط فیصلے کر سکتی ہیں۔ بھارت کے جنونی اور انتہا پسند میڈیا نے یہی کام کیا ہے۔پڑھا لکھا تو دور کی بات ان پڑھ دیہاتی بھی یہ جانتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیںہوتی تو پھر یہ دانا دانشور اور سوٹ میں ملبوس یہ کونسی مخلوق ہے جو اٹھتے بیٹھتے جنگ کا بگل بجاتے ہیں۔
عہد قدیم میں جنگیں عصبیت ‘عقیدے اور نفرتوںکی آگ بھڑکا کر لڑی جاتی تھیں حالانکہ اصل ہدف متحارب ملک کے وسائل اور خزانے پر قبضہ کرنا ہوتا تھا ‘عصبیتیں اور نفرتیں ابھارنے کا کام پروہت اور پجاری کیا کرتے تھے۔بادشاہ اور حملہ آور مخالفوں کا قتل اور مال جائز قرار دینے کے لیے انھیں منصب عطا کرتے تھے۔بھارت میں بی جے پی کی قیادت یہی کام کر رہی ہے۔ورنہ پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے میں کیا حرج تھا۔ریاست بہار کا الیکشن واضح کر دے گا کہ انتہا پسندی کا چورن بکتا ہے یا ریاست کا ووٹر یہ چورن خریدنے سے انکار کر دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی قیادت پاکستان کے سلامتی کو بھارت کی کو نشانہ بھارت نے بی جے پی کے خلاف اور ان رہا ہے
پڑھیں:
ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔
اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔
میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔
اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔
میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔
ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔
بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔
اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔
اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟
یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔
اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔
ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔
وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘