پاک بھارت کشیدگی، پاکستانی اور بھارتی کھلاڑی آمنے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
منگل اور بدھ کی درمیانی شب پاکستان پر بھارت کے بزدلانہ حملے کے بعد پاکستان کی مسلح افواج نے بزدلانہ حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے 3 رافیل طیاروں سمیت 5 جنگی طیارے گرائے اور ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر سمیت متعدد فوجی چیک پوسٹوں کو تباہ کردیا تھا۔ جس کے بعد بھارتی فوج نے ایل او سی پر سفید جھنڈا لہرا کر شکست تسلیم کر لی تھی۔
پاک بھارت کشیدگی کے بعد بھارتی کھلاڑی بھی ’آپریشن سندور‘ کی حمایت کرتے نظر آئے اور سوشل میڈیا پر دونوں ممالک کے درمیان جنگی ماحول کو ہوا دینے لگے جبکہ دوسری جانب پاکستانی کھلاڑی بھی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے۔
سابق لیجنڈری بلے باز سچن ٹنڈولکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ’اتحاد بے خوفی کی علامت ہے، بھارت کی سب سے بڑی طاقت اس کے عوام ہیں۔ دنیا میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہم سب ایک ہی ٹیم کا حصہ ہیں‘۔ آخر میں انہوں نے جے ہند کا نعرہ لگایا اور ’آپریشن سندور‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کیا۔
Fearless in unity.
Jai Hind ????????#OperationSindoor
— Sachin Tendulkar (@sachin_rt) May 7, 2025
سابق بھارتی کرکٹر ویرندر سہواگ نے لکھا کہ ’اگر کوئی آپ پر پتھر پھینکے تو اُس پر پھول پھینکو لیکن گملے کے ساتھ‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن سندور کتنا موزوں نام ہے۔
Agar koi aap par patthar phenke toh uspar Phool Phenko,
Lekin Gamle ke saath.
Jai Hind#OperationSindoor , what an apt name
— Virrender Sehwag (@virendersehwag) May 7, 2025
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کوچ گوتم گمبھیر نے ’جے ہند‘ کے نعرے کے ساتھ ’آپریشن سندور‘ کا پوسٹر شیئر کیا۔
Jai Hind! ???????????????? pic.twitter.com/dTN5Cm8yiX
— Gautam Gambhir (@GautamGambhir) May 7, 2025
سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر آکاش چوپڑا نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ‘ہم سب ایک ساتھ کھڑے ہیں’۔ انہوں نے ساتھ لکھا جے ہند۔
Together we stand. Jai Hind ???? ???????? pic.twitter.com/sZZhBm9O0L
— Aakash Chopra (@cricketaakash) May 6, 2025
بھارت کے حملے کے بعد پاکستانی کرکٹرز بھی پاک فوج کی حمایت میں سامنے آ گئے۔ لاہور قلندرز کے کھلاڑیوں کپتان شاہین شاہ آفریدی، عبد اللہ شفیق، نعیم خان، زمان خان اور فخر زمان نے اپنے ویڈیو پیغام میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کی اور کہا کہ ’ہم اپنی مسلح افواج سے محبت کرتے ہیں، ہمیں اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور ہم ایک قوم ہیں‘۔
قومی کرکٹرز نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔
Rallying behind our armed forces ????????
Pakistan Zindabad ????????@imabd28 @ZamanKhanPak pic.twitter.com/Ncz5eI7sfp
— Lahore Qalandars (@lahoreqalandars) May 7, 2025
سابق کرکٹر محمد حفیظ نے لکھا کہ بھارت کی جانب سے بزدلانہ اور غیر قانونی حملے شرمناک فعل میں بدل گئےہیں۔ ہم بحیثیت قوم اپنے پیارے وطن کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔
Coward & unlawful attacks from India ???????? turned into Shameful act. We are UNiTED as a nation to defend our beloved motherland ????????❤️. Pakistan ???????? Zindabad
— Mohammad Hafeez (@MHafeez22) May 7, 2025
آخر میں کھلاڑیوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔
Shaheen sends his support for the armed forces protecting our land!
Standing behind our defence forces. Pakistan Zindabad ????????@iShaheenAfridi pic.twitter.com/NbaayVZUdT
— Lahore Qalandars (@lahoreqalandars) May 7, 2025
واضح رہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے منگل (6 مئی) کی رات کیے گئے بھارت کے بزدلانہ حملے کے جواب میں بھارتی فضائیہ کے 3 رافیل سمیت 5 جنگی طیارے مارے گرائے جبکہ ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر سمیت متعدد فوجی چیک پوسٹوں کو تباہ کردیا۔
میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ تباہ کیے گئے بھارتی طیاروں میں 3 رافیل، ایک مگ 29 اور ایک ایس یو 30 شامل ہے، جبکہ دشمن کا ایک بڑا ڈرون بھی مار گرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کے تمام طیارے اور اثاثے محفوظ ہیں اور فضائی دفاع مکمل طور پر فعال ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان دشمن کی ہر جارحیت کا جواب دے رہا ہے اور دیتا رہے گا۔ پاک دھرتی کا دفاع اور اس پرجان قربان کردینا ہمارا نصب العین ہے۔ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کی غلط فہمی کو جلد ٹھیک کردیا جائے گا، اورپاکستان اپنی سالمیت پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کرے گا۔ پاکستان اپنے وقت، مقام اور طریقۂ کار کے انتخاب کے ساتھ جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن سندور انڈین کھلاڑی پاکستان انڈیا جنگ پاکستانی کرکٹ ٹیم پاکستانی کھلاڑی پہلگام
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈین کھلاڑی پاکستان انڈیا جنگ پاکستانی کرکٹ ٹیم پاکستانی کھلاڑی پہلگام مسلح افواج انہوں نے کے ساتھ کہا کہ کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔