لائن آف کنٹرول: بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ، 5 شہری شہید، 7 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
لائن آف کنٹرول پر شکست کھانے کے بعد، بھارتی فوج آزاد کشمیر میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے لگی، بھارتی فوج کی حالیہ بلااشتعال فائرنگ سے 5 شہری شہید جبکہ 7 زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی متعدد پاکستانی پوسٹس پر بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کا دندان شکن جواب
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی جارحیت میں بوکھلاہٹ کا عنصر نمایاں ہونا شروع ہوگیا، بھارتی فوج نے سول آبادی پر گولہ باری کرتے ہوئے ہجیرہ، فارورڈ کہوٹہ اور کھوئی رٹہ کو نشانہ بنایا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی فوج شہری آبادی پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے، دوسری جانب پاک فوج دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے میں مصروف ہیں۔
مزید پڑھیں: لائن آف کنٹرول پر بسنے والے کشمیری کن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں؟
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق لائن آف کنٹرول سے متصل آزاد کشمیر کے مختلف مقامات پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے 5 شہری شہید جبکہ 7 زخمی ہو گئے ہیں، جوابی کارروائی میں بھارتی فوج کی توپیں خاموش ہوگئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر بلااشتعال فائرنگ بھارتی فوج سول آبادی فارورڈ کہوٹہ کھوئی رٹہ لائن آف کنٹرول ہجیرہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلااشتعال فائرنگ بھارتی فوج سول آبادی لائن آف کنٹرول بلااشتعال فائرنگ بھارتی فوج
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔