پاکستان کا بھارت پر سائبر حملہ،70فیصد بھارت بجلی سے محروم،سینکڑوں حکومتی ویب سائٹس بھی ہیک
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
پاکستان اور بھارت کے کشیدگی کے درمیان پاکستان نے بھارت کی بجلی تنصیبات پر زبردست سائبر حملہ کرتے ہوئے بھارت کے 70 فیصد بجلی گرڈ کو ناکارہ بنا دیا۔ اس حملے کے نتیجے میں پورے بھارت میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا اور بڑے پیمانے پر اندھیرا چھا گیا۔ حملے میں خاص طور پر مہاراشٹرا اسٹیٹ الیکٹرک ٹرانسمیشن کمپنی لمیٹڈ کو مکمل طور پر ہیک کر کے کمرشل اور ڈومیسٹک میٹروں کا تمام ڈیٹا مٹا دیا گیا۔ نتیجتاً، مہاراشٹرا سمیت کئی ریاستوں میں بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ صرف یہی نہیں، پاکستانی سائبر فورسز نے بھارتی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر ایک طوفانی یلغار کرتے ہوئے متعدد سرکاری، دفاعی اور حساس ویب سائٹس کو ہیک کر کے ان کا ڈیٹا یا تو مٹا دیا ہے یا لیک کر دیا ہے۔ ان ویب سائٹس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی آفیشل ویب سائٹ، کرائم ریسرچ اینڈ انویسٹیگیشن ایجنسی، مہا نگر ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ، بھارت ارتھ موورز لمیٹڈ، آل انڈیا نیول ٹیکنیکل سپروائزری سٹاف ایسوسی ایشن، ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ، بارڈر سیکورٹی فورس (BSF)، یونیک آڈنٹیفیکیشن اتھارٹی آف انڈیا (آدھار ڈیٹا بیس)، انڈین ائیر فورس کی ویب سائٹ، مہاراشٹر الیکشن کمیشن، 2500 سے زائد سرولینس کیمرے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہیک کی گئی ان ویب سائٹس کا تمام اندرونی ڈیٹا، خفیہ رپورٹس، اور الیکشن و شناختی معلومات یا تو حذف کر دی گئی ہیں یا عالمی ڈارک ویب پر لیک کر دی گئی ہیں۔ بھارتی حکومت تاحال اس حملے پر خاموش ہے، جبکہ اندرونِ بھارت میڈیا میں اس پر سخت سنسر عائد کر دیا گیا ہے تاکہ عوامی ردعمل اور خوف کو قابو میں رکھا جا سکے۔ سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ“آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص“ کے تحت اُن تمام بھارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے جن سے پاکستانی شہریوں، مساجد اور اہم مقامات پر حملے کیے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ویب سائٹس
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔