Express News:
2026-07-24@08:14:32 GMT

وہ جو مزدوروں کا خواب دیکھتا تھا مارکس

اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT

پانچ مئی کا دن آیا اورگزرگیا۔ شاید بہت سوں کو یاد نہ رہا ہوکہ اسی دن جرمنی کے ایک چھوٹے سے شہر ٹریر میں ایک بچہ پیدا ہوا تھا جس نے اپنی آنکھوں میں ایک خواب بسایا تھا وہ خواب جس میں مزدورکا ہاتھ خالی نہ ہو، کسان بھوکا نہ ہو اور عورت محض جسم نہ سمجھی جائے، وہ بچہ کارل مارکس تھا۔

مارکس ایک ایسا نام جو سرمایہ دارکی نیندیں اڑا دیتا ہے اور پسے ہوئے انسان کے سینے میں امید کی ایک کرن جگا دیتا ہے، مگر یہ وہ مارکس بھی ہے جس کی زندگی کا ہر صفحہ دکھ، فاقہ، جلا وطنی اور محرومیوں کی تحریر سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے ایک بار لکھا تھا کہ دنیا کے بڑے خواب دیکھنے والوں کو اپنے خوابوں کی قیمت جسم اور روح سے ادا کرنا پڑتی ہے۔ مارکس انھی خواب دیکھنے والوں میں سے ایک تھا۔ اس نے محض لکھا نہیں جھیلا بھی، وہ سب کچھ جسے لکھنے کے لیے بڑا دل اور مسلسل اذیتوں کا سامنا درکار ہوتا ہے۔

مارکس کے خواب بہت بڑے تھے لیکن زندگی چھوٹی سخت اور سرد تھی۔ لندن کی گلیوں میں ایک ایسا شخص رہتا تھا جس کے نظریے نے دنیا کو بدلنے کی بنیاد رکھی لیکن جس کے گھر میں اکثرکوئلہ نہ ہوتا اور جس کے بچے بھوک اور بیماری سے ایک ایک کر کے ماں باپ کی آنکھوں کے سامنے دنیا سے رخصت ہوتے گئے۔اس کی جینی اس کی شریکِ حیات جس نے مارکس کے دکھ اپنے آنچل میں سمیٹ رکھے تھے وہ خاموشی سے اس کے ساتھ فاقوں کی دہلیز پر بیٹھی رہی۔ اس کی آنکھوں نے اپنے بچوں کو مرتے دیکھا مگر اس کی زبان پر شکوہ نہ آیا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سب ایک بڑے خواب کا حصہ ہے، وہ خواب جو مارکس نے دیکھا تھا ایک ایسا جہاں جہاں کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے۔

مارکس نے کہا تھا ’’ فلاسفہ نے دنیا کو مختلف انداز سے سمجھایا ہے، اصل کام تو اسے بدلنا ہے۔‘‘ یہ جملہ محض فلسفہ نہیں ایک اعلان تھا۔ ایک اعلان جنگ اس نظام کے خلاف جو دولت کو خدا بناتا ہے اور انسان کو غلام۔ مارکس کا قلم وہ ہتھیار تھا جس نے سرمایہ داری کی بنیادوں کو ہلایا اور تاریخ کو ایک نئی زبان عطا کی، جدوجہد کی زبان، سوال کی زبان اور بغاوت کی زبان۔جب وہ لکھتا ہے کہ’’ مزدور کی محنت سے سب کچھ پیدا ہوتا ہے لیکن خود مزدور محروم رہتا ہے‘‘ تو میرے سامنے سندھ کی وہ عورتیں آجاتی ہیں جوکپاس چنتی ہیں اور ان کے ہاتھوں میں چھالے ہوتے ہیں۔ جب وہ کہتا ہے کہ’’ سرمایہ خون چوستا ہے دن ہو یا رات‘‘ تو مجھے فیکٹریوں میں کام کرتے وہ بچے یاد آ جاتے ہیں جن کی آنکھوں میں نیند ہے لیکن تنخواہ محض چند سکے۔

مارکس نے محض معیشت کی بات نہیں کی، اس نے انسان کے رشتے اس کی اجنبیت اس کی بیگانگی کی بھی بات کی۔ اس نے کہا کہ سرمایہ داری انسان کو انسان سے جدا کردیتی ہے، اسے چیزوں سے جوڑتی ہے اور اس کے جذبے اس کی تخلیق اس کی روح سب کچھ بازار کے حوالے کردیتی ہے۔اس کا کمیونسٹ مینی فیسٹو ہو یا داس کیپیٹل ہر صفحہ مزدورکے لیے لکھا گیا ہے۔ ہر سطر میں کسان کی فریاد ہے، ہر دلیل میں عورت کے استحصال کی بازگشت ہے۔ اس کی تحریریں صرف کتابیں نہیں وہ ایک تحریک ہیں، ایک وہ مشعل جو آج بھی جل رہی ہے، اگرچہ ہوائیں اسے بجھانے کی ہر کوشش کرچکی ہیں۔

مارکس کے کئی بچے مرگئے۔ وہ خود بھی ساری زندگی معاشی تنگی کا شکار رہا۔ اس نے لکھا مگر اس کی تحریریں برسوں بعد چھپیں۔ اس نے بولنا چاہا مگر اکثر جلا وطن کردیا گیا۔ وہ جہاں گیا وہاں کی ریاستوں نے اس پر پہرہ بٹھا دیا۔ اس کے لیے کوئی اعزازکوئی خطاب کوئی آسائش نہ تھی، لیکن تاریخ نے اس کے نظریے کو تسلیم کیا۔ روس کے انقلاب سے لے کر ویتنام کیوبا چین اور دنیا بھرکی مزدور تحریکوں تک ہر جگہ اس کی آواز گونجی۔ میں یہ کہنے میں تامل محسوس نہیں کرتی کہ مارکس کا خواب آج بھی ادھورا ہے۔

آج بھی پاکستان سے لے کر فلسطین تک بنگلہ دیش سے لے کر برازیل تک مزدور پس رہا ہے، کسان خود کشیاں کر رہا ہے، عورت آج بھی کم اجرت پہ مزدوری کر رہی ہے اور دوہری چکی میں پس رہی ہے۔ وہ نظام جو مارکس نے ناپسند کیا آج بھی قائم ہے اور دن بہ دن اس کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ مگر میں جانتی ہوں، خواب مرتے نہیں۔ خواب سفرکرتے ہیں، نسل در نسل۔ مارکس ہماری آنکھوں میں خوابوں کے دیپ جلا گیا۔ ہم وہ قافلے والے ہیں جن کے قدم تھمتے نہیں۔ ہم وہ چراغ ہیں جو اندھیروں سے نبرد آزما رہتے ہیں۔

پانچ مئی کا دن میرے لیے صرف مارکس کی سالگرہ نہیں، ایک عہد کی تجدید کا دن ہے۔ میں ہر سال اس دن خود سے وعدہ کرتی ہوں کہ جب تک میرے قلم میں سیاہی ہے جب تک میری سانسوں میں حرارت ہے، میں اس خواب کو زندہ رکھوں گی جسے مارکس نے دیکھا تھا۔

میں اس سچ کو لکھتی رہوں گی جس سے سرمایہ دار خوف کھاتا ہے اور مزدور حوصلہ پاتا ہے۔مارکس آج بھی زندہ ہے ہر فیکٹری میں ہرکھیت میں ہر خواب دیکھتی آنکھ میں ہر احتجاجی نعرے میں۔ وہ ہمیں پکار رہا ہے کہ ’’آؤ میرے خواب کو حقیقت میں بدل دو۔ ‘‘مارکس کے خوابوں کا ذکرکرنا صرف ایک شخص کی زندگی بیان کرنا نہیں بلکہ اس نظریے کی بات کرنا ہے جو وقت کی قید سے آزاد ہے۔ جو ہر اس جگہ زندہ ہے جہاں مزدور اپنا پسینہ بہا رہا ہے مگر اس کا پھل کوئی اور کھا رہا ہے۔ وہ نظریہ جو ہر اس عورت کے دل میں دھڑک رہا ہے جو اپنی اجرت کے لیے آواز اٹھاتی ہے ہر اس کسان کے خون میں گردش کر رہا ہے جو زمین کو سینچتا ہے مگر بدلے میں قرضوں کی زنجیر پاتا ہے۔

آج جب ہم مارکس کی سالگرہ پر اسے یاد کر رہے ہیں تو صرف ایک فلسفی کو خراج نہیں پیش کر رہے بلکہ اس روشنی کو سلام کر رہے ہیں جس نے صدیوں سے جاری اندھیروں میں چراغ جلایا۔ مارکس نے ہمیں یہ سکھایا کہ دنیا کو صرف قبول نہ کرو، اسے سمجھو اور پھر اسے بدلنے کے لیے کمربستہ ہو جاؤ۔ اس کا ہر جملہ ایک صدا ہے ہر خیال ایک سوال ہر سطر ایک بغاوت۔ہم یہ بھی نہیں بھول سکتے کہ مارکس اکیلا نہ تھا۔

وہ ایک تحریک کی علامت ضرور ہے مگر اس کی سوچ نے دنیا بھرکے دانشوروں مزدور رہنماؤں ادیبوں شاعروں اور فنکاروں کو متاثرکیا۔ پاکستان میں ہی فیض احمد فیض، جالب، حسن ناصر اور ان جیسے سیکڑوں لوگ مارکس کی فکر سے جڑے اور ان کی زندگیاں بھی اسی خواب کی تعبیر تھی۔ فیض کی نظموں میں جالب کی للکار میں حسن ناصرکی شہادت میں ہمیں وہی آواز سنائی دیتی ہے جسے مارکس نے سب سے پہلے بلند کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مارکس کے کی زبان نے دنیا ا نکھوں ا ج بھی کے لیے ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث

گل پلازہ آتشزدگی کیس کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد عوام کے حقِ معلومات اور جاری فوجداری تحقیقات کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ چونکہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس مرحلے پر انکوائری رپورٹ جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تفتیشی افسر کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گی، جس کے بعد ان تک رسائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق ممکن ہوگی۔ کمیشن کے مطابق جاری تحقیقات کے دوران معلومات کی فراہمی سے تفتیشی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات بلا رکاوٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔

ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ سانحہ عوامی مفاد، شہریوں کے حقِ زندگی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے جڑا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے ذمہ داریوں کے تعین، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔

سماعت کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہیں انکوائری رپورٹ دستیاب نہیں تھی، جبکہ مختلف سرکاری اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں۔ اس صورتحال نے انکوائری، انتظامی کارروائی اور فوجداری تحقیقات کے باہمی تعلق پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گل پلازہ کیس نے دراصل 2 اہم قانونی اصولوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے سانحات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آنے چاہییں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مرحلے پر معلومات کی فراہمی سے تحقیقات یا عدالتی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو تفتیش کو ترجیح دینا قانونی تقاضا ہے۔

حقِ معلومات سے متعلق قوانین کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات میں معلومات کی فراہمی اس وقت تک مؤخر رکھی جا سکتی ہے، جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کیس میں اصل سوال صرف رپورٹ کی اشاعت کا نہیں بلکہ اس مناسب وقت کا بھی ہے، جب ایسی معلومات عوامی دسترس میں لائی جانی چاہییں۔

یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی

یہ مقدمہ شہری سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے عمارتوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں انکوائری رپورٹ کو صرف ذمہ داریوں کے تعین کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک اہم حوالہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور عدالتی کارروائی کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔ اگر تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد انکوائری رپورٹ یا اس کے نتائج عوامی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس مقدمے سے متعلق کئی سوالات کے جواب مل سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو ادارہ جاتی اصلاحات میں کس حد تک ڈھالا جا سکا۔

یوں گل پلازہ کیس محض ایک انکوائری رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں شفافیت، مؤثر تحقیقات اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف