وہ جو مزدوروں کا خواب دیکھتا تھا مارکس
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
پانچ مئی کا دن آیا اورگزرگیا۔ شاید بہت سوں کو یاد نہ رہا ہوکہ اسی دن جرمنی کے ایک چھوٹے سے شہر ٹریر میں ایک بچہ پیدا ہوا تھا جس نے اپنی آنکھوں میں ایک خواب بسایا تھا وہ خواب جس میں مزدورکا ہاتھ خالی نہ ہو، کسان بھوکا نہ ہو اور عورت محض جسم نہ سمجھی جائے، وہ بچہ کارل مارکس تھا۔
مارکس ایک ایسا نام جو سرمایہ دارکی نیندیں اڑا دیتا ہے اور پسے ہوئے انسان کے سینے میں امید کی ایک کرن جگا دیتا ہے، مگر یہ وہ مارکس بھی ہے جس کی زندگی کا ہر صفحہ دکھ، فاقہ، جلا وطنی اور محرومیوں کی تحریر سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے ایک بار لکھا تھا کہ دنیا کے بڑے خواب دیکھنے والوں کو اپنے خوابوں کی قیمت جسم اور روح سے ادا کرنا پڑتی ہے۔ مارکس انھی خواب دیکھنے والوں میں سے ایک تھا۔ اس نے محض لکھا نہیں جھیلا بھی، وہ سب کچھ جسے لکھنے کے لیے بڑا دل اور مسلسل اذیتوں کا سامنا درکار ہوتا ہے۔
مارکس کے خواب بہت بڑے تھے لیکن زندگی چھوٹی سخت اور سرد تھی۔ لندن کی گلیوں میں ایک ایسا شخص رہتا تھا جس کے نظریے نے دنیا کو بدلنے کی بنیاد رکھی لیکن جس کے گھر میں اکثرکوئلہ نہ ہوتا اور جس کے بچے بھوک اور بیماری سے ایک ایک کر کے ماں باپ کی آنکھوں کے سامنے دنیا سے رخصت ہوتے گئے۔اس کی جینی اس کی شریکِ حیات جس نے مارکس کے دکھ اپنے آنچل میں سمیٹ رکھے تھے وہ خاموشی سے اس کے ساتھ فاقوں کی دہلیز پر بیٹھی رہی۔ اس کی آنکھوں نے اپنے بچوں کو مرتے دیکھا مگر اس کی زبان پر شکوہ نہ آیا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سب ایک بڑے خواب کا حصہ ہے، وہ خواب جو مارکس نے دیکھا تھا ایک ایسا جہاں جہاں کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے۔
مارکس نے کہا تھا ’’ فلاسفہ نے دنیا کو مختلف انداز سے سمجھایا ہے، اصل کام تو اسے بدلنا ہے۔‘‘ یہ جملہ محض فلسفہ نہیں ایک اعلان تھا۔ ایک اعلان جنگ اس نظام کے خلاف جو دولت کو خدا بناتا ہے اور انسان کو غلام۔ مارکس کا قلم وہ ہتھیار تھا جس نے سرمایہ داری کی بنیادوں کو ہلایا اور تاریخ کو ایک نئی زبان عطا کی، جدوجہد کی زبان، سوال کی زبان اور بغاوت کی زبان۔جب وہ لکھتا ہے کہ’’ مزدور کی محنت سے سب کچھ پیدا ہوتا ہے لیکن خود مزدور محروم رہتا ہے‘‘ تو میرے سامنے سندھ کی وہ عورتیں آجاتی ہیں جوکپاس چنتی ہیں اور ان کے ہاتھوں میں چھالے ہوتے ہیں۔ جب وہ کہتا ہے کہ’’ سرمایہ خون چوستا ہے دن ہو یا رات‘‘ تو مجھے فیکٹریوں میں کام کرتے وہ بچے یاد آ جاتے ہیں جن کی آنکھوں میں نیند ہے لیکن تنخواہ محض چند سکے۔
مارکس نے محض معیشت کی بات نہیں کی، اس نے انسان کے رشتے اس کی اجنبیت اس کی بیگانگی کی بھی بات کی۔ اس نے کہا کہ سرمایہ داری انسان کو انسان سے جدا کردیتی ہے، اسے چیزوں سے جوڑتی ہے اور اس کے جذبے اس کی تخلیق اس کی روح سب کچھ بازار کے حوالے کردیتی ہے۔اس کا کمیونسٹ مینی فیسٹو ہو یا داس کیپیٹل ہر صفحہ مزدورکے لیے لکھا گیا ہے۔ ہر سطر میں کسان کی فریاد ہے، ہر دلیل میں عورت کے استحصال کی بازگشت ہے۔ اس کی تحریریں صرف کتابیں نہیں وہ ایک تحریک ہیں، ایک وہ مشعل جو آج بھی جل رہی ہے، اگرچہ ہوائیں اسے بجھانے کی ہر کوشش کرچکی ہیں۔
مارکس کے کئی بچے مرگئے۔ وہ خود بھی ساری زندگی معاشی تنگی کا شکار رہا۔ اس نے لکھا مگر اس کی تحریریں برسوں بعد چھپیں۔ اس نے بولنا چاہا مگر اکثر جلا وطن کردیا گیا۔ وہ جہاں گیا وہاں کی ریاستوں نے اس پر پہرہ بٹھا دیا۔ اس کے لیے کوئی اعزازکوئی خطاب کوئی آسائش نہ تھی، لیکن تاریخ نے اس کے نظریے کو تسلیم کیا۔ روس کے انقلاب سے لے کر ویتنام کیوبا چین اور دنیا بھرکی مزدور تحریکوں تک ہر جگہ اس کی آواز گونجی۔ میں یہ کہنے میں تامل محسوس نہیں کرتی کہ مارکس کا خواب آج بھی ادھورا ہے۔
آج بھی پاکستان سے لے کر فلسطین تک بنگلہ دیش سے لے کر برازیل تک مزدور پس رہا ہے، کسان خود کشیاں کر رہا ہے، عورت آج بھی کم اجرت پہ مزدوری کر رہی ہے اور دوہری چکی میں پس رہی ہے۔ وہ نظام جو مارکس نے ناپسند کیا آج بھی قائم ہے اور دن بہ دن اس کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ مگر میں جانتی ہوں، خواب مرتے نہیں۔ خواب سفرکرتے ہیں، نسل در نسل۔ مارکس ہماری آنکھوں میں خوابوں کے دیپ جلا گیا۔ ہم وہ قافلے والے ہیں جن کے قدم تھمتے نہیں۔ ہم وہ چراغ ہیں جو اندھیروں سے نبرد آزما رہتے ہیں۔
پانچ مئی کا دن میرے لیے صرف مارکس کی سالگرہ نہیں، ایک عہد کی تجدید کا دن ہے۔ میں ہر سال اس دن خود سے وعدہ کرتی ہوں کہ جب تک میرے قلم میں سیاہی ہے جب تک میری سانسوں میں حرارت ہے، میں اس خواب کو زندہ رکھوں گی جسے مارکس نے دیکھا تھا۔
میں اس سچ کو لکھتی رہوں گی جس سے سرمایہ دار خوف کھاتا ہے اور مزدور حوصلہ پاتا ہے۔مارکس آج بھی زندہ ہے ہر فیکٹری میں ہرکھیت میں ہر خواب دیکھتی آنکھ میں ہر احتجاجی نعرے میں۔ وہ ہمیں پکار رہا ہے کہ ’’آؤ میرے خواب کو حقیقت میں بدل دو۔ ‘‘مارکس کے خوابوں کا ذکرکرنا صرف ایک شخص کی زندگی بیان کرنا نہیں بلکہ اس نظریے کی بات کرنا ہے جو وقت کی قید سے آزاد ہے۔ جو ہر اس جگہ زندہ ہے جہاں مزدور اپنا پسینہ بہا رہا ہے مگر اس کا پھل کوئی اور کھا رہا ہے۔ وہ نظریہ جو ہر اس عورت کے دل میں دھڑک رہا ہے جو اپنی اجرت کے لیے آواز اٹھاتی ہے ہر اس کسان کے خون میں گردش کر رہا ہے جو زمین کو سینچتا ہے مگر بدلے میں قرضوں کی زنجیر پاتا ہے۔
آج جب ہم مارکس کی سالگرہ پر اسے یاد کر رہے ہیں تو صرف ایک فلسفی کو خراج نہیں پیش کر رہے بلکہ اس روشنی کو سلام کر رہے ہیں جس نے صدیوں سے جاری اندھیروں میں چراغ جلایا۔ مارکس نے ہمیں یہ سکھایا کہ دنیا کو صرف قبول نہ کرو، اسے سمجھو اور پھر اسے بدلنے کے لیے کمربستہ ہو جاؤ۔ اس کا ہر جملہ ایک صدا ہے ہر خیال ایک سوال ہر سطر ایک بغاوت۔ہم یہ بھی نہیں بھول سکتے کہ مارکس اکیلا نہ تھا۔
وہ ایک تحریک کی علامت ضرور ہے مگر اس کی سوچ نے دنیا بھرکے دانشوروں مزدور رہنماؤں ادیبوں شاعروں اور فنکاروں کو متاثرکیا۔ پاکستان میں ہی فیض احمد فیض، جالب، حسن ناصر اور ان جیسے سیکڑوں لوگ مارکس کی فکر سے جڑے اور ان کی زندگیاں بھی اسی خواب کی تعبیر تھی۔ فیض کی نظموں میں جالب کی للکار میں حسن ناصرکی شہادت میں ہمیں وہی آواز سنائی دیتی ہے جسے مارکس نے سب سے پہلے بلند کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مارکس کے کی زبان نے دنیا ا نکھوں ا ج بھی کے لیے ہے اور رہا ہے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔