بھارتی حملوں میں کیا حکمت عملی اختیار کی گئی؟ بڑی خبر
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بھارت نے اپنے تمام رافیل طیاروں سمیت 72 جہازوں کے ساتھ پاکستان پر حملہ کیا، بھارتی حملوں کا مقصد تھا کہ کسی پائلٹ کو گرفتار یا اس کا طیارہ گرا دیا جائے۔
یہ بات نجی ٹی وی کے پرگرام اعتراض ہے میں گفتگو کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار ایئر کموڈور (ر) خالد چشتی نے بتائی، انہوں بھارت کی جانب سے پاکستان پر کیے جانے والے پہلے اور دوسرے حملے سے متعلق اہم انکشاف کیا۔،
انہوں نے بتایا کہ جب پہلا حملہ کیا گیا تو اس میں چار رافیل طیارے تھے جن پر نصب میزائلوں سے انہوں نے بہاولپور اور دیگر شہروں پر حملہ کیا جس میں مسجد کو شہید کیا گیا اور مرد و خواتین اور بچے شہید ہوئے لیکن ان کو وہ کامیابی نہیں ملی جو وہ چاہ رہے تھے۔
اس حملے کی ناکامی کے بعد انہوں نے بہت بڑا اور جامع منصوبہ تیار کیا، خالد چشتی نے بتایا کہ انتہائی اہم اور مصدقہ ذرائع سے یہ خبر ملی کہ اس بار انہوں نے اپنے تمام 35 رافیل طیاروں سمیت 72جہازوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک جہاز میں اگر چار میزائل بھی نصب ہوں تو تقریباً پونے تین سو میزائل کے ساتھ یہ طیارے ہم پر حملہ کرنے کیلیے فضا میں موجود تھے۔
ان جہازوں یہ کام تھا کہ ان میں سے چند جہازوں نے اسٹینڈ آف کرنا تھا اور باقیوں کا کام یہ تھا کہ کسی پاکستانی طیارے کو گرا کر یا گھیر لایا جائے تاکہ ابھی نندن والی سبکی کا خاتمہ ہو اور اپنی عوام کو بتا سکیں کہ ہم نے بھی یہ کارنامہ کردیا۔
اپنی اس حکمت عملی میں بھی بھارتی فوج نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ اس کے 72 میں 67 جہاز خیریت سے واپس رن سے پر اتر گئے اور 5 زمین بوس ہوگئے۔
ایئر کموڈور (ر)خالد چشتی نے کہا کہ بھارتی حملوں کے بعد جوابی کارروائی پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں ان پاکستانی پائلٹس سے گزشتہ دنوں ملاقات کرچکا ہوں اور پہلے بھی ان کے حوصلے بلند تھے اس کا مظاہرہ اس موقع پر دیکھ بھی لیا۔
خیال رہے کہ پاک فوج کی جانب سے گزشتہ صبح شروع کیے گئے آپریشن بُنیان مّرصُوص میں زبردست کارروائی دیکھ کر دشمن دہشت میں آگیا اور اپنے ہونے والے پے در پے نقصانات کو دیکھتے ہوئے بھارت کو سیز فائر پر مجبور ہونا پڑا۔
مزیدپڑھیں:اداکارہ حرا مانی مشکل میں، رونے کی ویڈیو دیکھ کر مداح بھی پریشان ہوگئے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔