Express News:
2026-07-24@11:04:10 GMT

بھارت کا غرور چند گھنٹوں میں ملیامیٹ

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

ہم سے معاشی و اقتصادی طور پر سات گنا بڑا ملک جسے کئی معاملوں میں ہم پر برتری حاصل ہے یوں چند گھنٹوں میں شکستہ ریز ہوجائے گا، کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ خود بھارتی قوم کو بھی سمجھ نہیں آرہا کہ یہ کیا ہوگیا۔

وہ مودی جو کل تک بڑی بڑی بڑھکیں مار رہا تھا یوں اچانک منہ چھپاتا پھرے گا کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے سیاسی مخالفوں نے اس معرکے کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور سوشل میڈیا پر  نفرت انگیز مہم چلائی جس سے بھارت کے تجزیہ نگاروں نے سمجھ لیا کہ پاکستان کی قوم اپنی آرمی کے ساتھ نہیں ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم نے صرف چند گھنٹوں میں ان ساری قیاس آرائیوں پر پانی پھیر دیا اور نہ صرف اپنے دشمنوں کو بلکہ ساری دنیا کو بتادیا کہ ہماری افواج پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں ہے بلکہ جدید زمانے کی ٹیکنالوجی سے بھی پوری طرح واقف اور آراستہ ہے۔ بھارت کو یہ گھمنڈ تھا کہ وہ جس طرح چاہے گا اپنے یہاں کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی کو پاکستان پر الزام دے کر اس پر حملہ آور ہوجائے گا اور ساری دنیا اس کا ساتھ دے گی اس کا وہ گھمنڈ خاک میں مل گیا۔

بناء کسی ثبوت کے اس نے پہلگام کے واقعہ کو لے کر پاکستان پر چڑھائی کردی اور سندھ طاس معاہدہ کو بھی معطل کرکے پاکستان کا پانی روک دیا۔پاکستانی حکومت اور فوج نے انتہائی صبر اور دانش مندی سے اس موقعہ پر حکمت عملی اپنائی اور بھارت کی کسی اشتعال انگیز کارروائی پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ حکومت پاکستان نے عالمی سفارتی محاذ پر فوری طور پر کام شروع کر دیا اور ساری دنیا کو باور کرادیا کہ بھارت بلاجواز ہم پر حملہ آور ہو رہا ہے اور اگر دنیا نے اسے روکا نہیں تو پھر ہم جوابی کارروائی پر مجبور ہوجائیں گے، جب کہ عسکری میدان میں ہمارے آرمی چیف نے اندر ہی اندر مکمل تیاری بھی کرلی۔

کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ پاکستانی افواج اتنی جلد اور اتنا زبردست ردعمل دکھا پائے گی۔ الحمدللہ ہماری دلیر افواج نے بھارت کی اشتعال انگیزی کا ایسا جواب دیا کہ ساری دنیا حیران رہ گئی۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ جو ایک دن پہلے تک اس جنگ میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا تھا اور یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہمارا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے اورہم اس جنگ میں فریق نہیں بنا کرتے جس میں ہمارا کوئی مفاد شامل نہ ہو وہ ڈونلڈ ٹرمپ اچانک اس میں شامل بھی ہوا اور بھارت کو سیز فائر کرنے پر مجبور بھی کردیا۔

ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ پاکستان کی دلیر افواج نے اگر ایسی زبردست جوابی کارروائی نہ کی ہوتی تو امریکی صدر آج بھی خاموش تماشائی بن کر جنگ کا نظارہ کر رہا ہوتا۔ جس طرح 1971 میں امریکا نے عدم مداخلت کا طرز عمل اپناتے ہوئے سقوط ڈھاکہ کے مکمل ہونے تک چپ چاپ تماشائی کا رول ادا کیا تھا، مگر ہمارے دلیرانہ جوابی حملے نے نہ صرف بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا بلکہ اُس کی پشت پر کھڑے اس کے ساتھی ممالک کو بھی حیران کردیا۔ وہ بھارت جو کسی طور اپنی اشتعال انگیزیوں سے باز نہیں آرہا تھا چند گھنٹوں میں کیسا راہ راست پر آگیا۔ وہ امریکا جو ایران اور عرب ریاستوں میں الجھا ہوا تھا اپنا سارا کام چھوڑ کر پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کروانے کا کریڈٹ لینے لگا۔

اُسے ڈر لاحق ہوگیا کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو بھارت کی ساری برتری خاک میں مل جائے گی اوروہ اقتصادی اور معاشی طور پر بھی بہت کمزور ہوجائے گا۔ یہ سیز فائر پاکستان کو بچانے کے لیے نہیں کروایا گیا ہے بلکہ بھارت کو شکست فاش سے بچانے کی غرض سے کروایا گیا ہے۔ اس جنگ سے نقصان بہرحال ہمارا بھی ہونا تھا۔

ہم ابھی اپنے معاشی بحران سے باہر نکل رہے ہیں اور اُڑان پاکستان کے پروگرام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ترقی و خوشحالی کی منازل طے کر رہے ہیں ایسے میں کسی بڑے نقصان کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے، لٰہذا ہم نے بھی اپنے اس جوابی ردعمل پر اکتفا کرتے ہوئے اس سیز فائر پر رضا مندی ظاہر کردی۔

ہم نے آج کسی شکست سے خوفزدہ ہوکر سیز فائر نہیں کیا بلکہ یہ بھارت ہی ہے جسے اپنی شکست پر یہ خفت اور شرمندگی اُٹھانی پڑی ہے۔ مودی اپنی قوم کو بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ اس کے چہرے سے اس کی پریشانی عیاں ہے، جب کہ ہم اور ہماری قوم آج جیت کے شادیانے بجا رہی ہے۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے اتوار کو یوم تشکر کا اعلان کر کے ساری دنیا کو بتادیا کہ ہم سیز فائر پر نہیں بلکہ اپنی جیت پر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر شکر بجا لارہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے سے سات گنا طاقتور ملک پر برتری دلائی اور اس خوبصورت کامیابی سے ہمکنار کیا۔

یہ درست ہے کہ جب کسی فوج کی کمان ایک بہت ہی نیک سیرت اور ایماندار شخص کے ہاتھ میں ہو، اس فوج کی مدد رب کی طرف سے یقینی ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارا سپہ سالار ایک بہت ہی نیک اور ایماندار شخص ہے، وہ خاموشی سے اپنا کام کرتا جا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی راہ نمائی بھی کر رہا ہے۔ وہ نہ صرف عسکری میدان میں مصروف عمل ہیں بلکہ ملک کے دیگر معاملات میں بھی اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک کو معاشی بحران سے باہر نکالنے میں بھی ان کا بہت اہم کردار ہے۔

ایک دو سال میں اس ملک میں جو تبدیلیاں نظر آرہی ہیں، اُن میں اس شخص کا بہت ہاتھ ہے، وہ لوگ جو کسی کے بہکاوے میں آ چکے تھے آج ایک بار پھر مکمل جوش وجذبہ کے ساتھ اس فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ شیطانی قوتوں کے عزائم خاک میں مل چکے ہیں اور اپنی سازشوں میں ناکام و نامراد ہوچکے ہیں۔ اُن کے پاس ابھی کوئی اور آپشن نہیں ہے سوائے فوج کے لیے تعریفی کلمات کے۔ وہ افواج پاکستان کی کامیابیوں کا اعتراف کر رہے ہیں اور اُن کی ساری توپیں اب خاموش ہوچکی ہیں۔ ہماری اس کامیابی نے جہاں بھارت کا غرور ملیامیٹ کردیا ہے وہاں اپنے اندرونی دشمنوں کے عزائم بھی خاک میں ملا دیے ہیں۔

ہمارے انھی اندرونی دشمنوں کی وجہ سے بھارت کا میڈیا اور اس کے تبصرہ نگار اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ پاکستان کی افواج کو شکست فاش دینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، مگر اس نے یہ جان لیا کہ جب کسی ملک کی قیادت اور اس کا سپہ سالار نیک اور ایماندار ہو تو اس کے خلاف کوئی بھی چال اور سازش کامیاب نہیں ہوسکتی ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چند گھنٹوں میں کہ پاکستان پاکستان کی ساری دنیا بھارت کو سیز فائر نہیں ہے خاک میں کے ساتھ دیا کہ کو بھی

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا