بھارت کا غرور چند گھنٹوں میں ملیامیٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
ہم سے معاشی و اقتصادی طور پر سات گنا بڑا ملک جسے کئی معاملوں میں ہم پر برتری حاصل ہے یوں چند گھنٹوں میں شکستہ ریز ہوجائے گا، کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ خود بھارتی قوم کو بھی سمجھ نہیں آرہا کہ یہ کیا ہوگیا۔
وہ مودی جو کل تک بڑی بڑی بڑھکیں مار رہا تھا یوں اچانک منہ چھپاتا پھرے گا کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے سیاسی مخالفوں نے اس معرکے کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلائی جس سے بھارت کے تجزیہ نگاروں نے سمجھ لیا کہ پاکستان کی قوم اپنی آرمی کے ساتھ نہیں ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم نے صرف چند گھنٹوں میں ان ساری قیاس آرائیوں پر پانی پھیر دیا اور نہ صرف اپنے دشمنوں کو بلکہ ساری دنیا کو بتادیا کہ ہماری افواج پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں ہے بلکہ جدید زمانے کی ٹیکنالوجی سے بھی پوری طرح واقف اور آراستہ ہے۔ بھارت کو یہ گھمنڈ تھا کہ وہ جس طرح چاہے گا اپنے یہاں کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی کو پاکستان پر الزام دے کر اس پر حملہ آور ہوجائے گا اور ساری دنیا اس کا ساتھ دے گی اس کا وہ گھمنڈ خاک میں مل گیا۔
بناء کسی ثبوت کے اس نے پہلگام کے واقعہ کو لے کر پاکستان پر چڑھائی کردی اور سندھ طاس معاہدہ کو بھی معطل کرکے پاکستان کا پانی روک دیا۔پاکستانی حکومت اور فوج نے انتہائی صبر اور دانش مندی سے اس موقعہ پر حکمت عملی اپنائی اور بھارت کی کسی اشتعال انگیز کارروائی پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ حکومت پاکستان نے عالمی سفارتی محاذ پر فوری طور پر کام شروع کر دیا اور ساری دنیا کو باور کرادیا کہ بھارت بلاجواز ہم پر حملہ آور ہو رہا ہے اور اگر دنیا نے اسے روکا نہیں تو پھر ہم جوابی کارروائی پر مجبور ہوجائیں گے، جب کہ عسکری میدان میں ہمارے آرمی چیف نے اندر ہی اندر مکمل تیاری بھی کرلی۔
کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ پاکستانی افواج اتنی جلد اور اتنا زبردست ردعمل دکھا پائے گی۔ الحمدللہ ہماری دلیر افواج نے بھارت کی اشتعال انگیزی کا ایسا جواب دیا کہ ساری دنیا حیران رہ گئی۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ جو ایک دن پہلے تک اس جنگ میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا تھا اور یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہمارا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے اورہم اس جنگ میں فریق نہیں بنا کرتے جس میں ہمارا کوئی مفاد شامل نہ ہو وہ ڈونلڈ ٹرمپ اچانک اس میں شامل بھی ہوا اور بھارت کو سیز فائر کرنے پر مجبور بھی کردیا۔
ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ پاکستان کی دلیر افواج نے اگر ایسی زبردست جوابی کارروائی نہ کی ہوتی تو امریکی صدر آج بھی خاموش تماشائی بن کر جنگ کا نظارہ کر رہا ہوتا۔ جس طرح 1971 میں امریکا نے عدم مداخلت کا طرز عمل اپناتے ہوئے سقوط ڈھاکہ کے مکمل ہونے تک چپ چاپ تماشائی کا رول ادا کیا تھا، مگر ہمارے دلیرانہ جوابی حملے نے نہ صرف بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا بلکہ اُس کی پشت پر کھڑے اس کے ساتھی ممالک کو بھی حیران کردیا۔ وہ بھارت جو کسی طور اپنی اشتعال انگیزیوں سے باز نہیں آرہا تھا چند گھنٹوں میں کیسا راہ راست پر آگیا۔ وہ امریکا جو ایران اور عرب ریاستوں میں الجھا ہوا تھا اپنا سارا کام چھوڑ کر پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کروانے کا کریڈٹ لینے لگا۔
اُسے ڈر لاحق ہوگیا کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو بھارت کی ساری برتری خاک میں مل جائے گی اوروہ اقتصادی اور معاشی طور پر بھی بہت کمزور ہوجائے گا۔ یہ سیز فائر پاکستان کو بچانے کے لیے نہیں کروایا گیا ہے بلکہ بھارت کو شکست فاش سے بچانے کی غرض سے کروایا گیا ہے۔ اس جنگ سے نقصان بہرحال ہمارا بھی ہونا تھا۔
ہم ابھی اپنے معاشی بحران سے باہر نکل رہے ہیں اور اُڑان پاکستان کے پروگرام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ترقی و خوشحالی کی منازل طے کر رہے ہیں ایسے میں کسی بڑے نقصان کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے، لٰہذا ہم نے بھی اپنے اس جوابی ردعمل پر اکتفا کرتے ہوئے اس سیز فائر پر رضا مندی ظاہر کردی۔
ہم نے آج کسی شکست سے خوفزدہ ہوکر سیز فائر نہیں کیا بلکہ یہ بھارت ہی ہے جسے اپنی شکست پر یہ خفت اور شرمندگی اُٹھانی پڑی ہے۔ مودی اپنی قوم کو بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ اس کے چہرے سے اس کی پریشانی عیاں ہے، جب کہ ہم اور ہماری قوم آج جیت کے شادیانے بجا رہی ہے۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے اتوار کو یوم تشکر کا اعلان کر کے ساری دنیا کو بتادیا کہ ہم سیز فائر پر نہیں بلکہ اپنی جیت پر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر شکر بجا لارہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے سے سات گنا طاقتور ملک پر برتری دلائی اور اس خوبصورت کامیابی سے ہمکنار کیا۔
یہ درست ہے کہ جب کسی فوج کی کمان ایک بہت ہی نیک سیرت اور ایماندار شخص کے ہاتھ میں ہو، اس فوج کی مدد رب کی طرف سے یقینی ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارا سپہ سالار ایک بہت ہی نیک اور ایماندار شخص ہے، وہ خاموشی سے اپنا کام کرتا جا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی راہ نمائی بھی کر رہا ہے۔ وہ نہ صرف عسکری میدان میں مصروف عمل ہیں بلکہ ملک کے دیگر معاملات میں بھی اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک کو معاشی بحران سے باہر نکالنے میں بھی ان کا بہت اہم کردار ہے۔
ایک دو سال میں اس ملک میں جو تبدیلیاں نظر آرہی ہیں، اُن میں اس شخص کا بہت ہاتھ ہے، وہ لوگ جو کسی کے بہکاوے میں آ چکے تھے آج ایک بار پھر مکمل جوش وجذبہ کے ساتھ اس فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ شیطانی قوتوں کے عزائم خاک میں مل چکے ہیں اور اپنی سازشوں میں ناکام و نامراد ہوچکے ہیں۔ اُن کے پاس ابھی کوئی اور آپشن نہیں ہے سوائے فوج کے لیے تعریفی کلمات کے۔ وہ افواج پاکستان کی کامیابیوں کا اعتراف کر رہے ہیں اور اُن کی ساری توپیں اب خاموش ہوچکی ہیں۔ ہماری اس کامیابی نے جہاں بھارت کا غرور ملیامیٹ کردیا ہے وہاں اپنے اندرونی دشمنوں کے عزائم بھی خاک میں ملا دیے ہیں۔
ہمارے انھی اندرونی دشمنوں کی وجہ سے بھارت کا میڈیا اور اس کے تبصرہ نگار اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ پاکستان کی افواج کو شکست فاش دینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، مگر اس نے یہ جان لیا کہ جب کسی ملک کی قیادت اور اس کا سپہ سالار نیک اور ایماندار ہو تو اس کے خلاف کوئی بھی چال اور سازش کامیاب نہیں ہوسکتی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چند گھنٹوں میں کہ پاکستان پاکستان کی ساری دنیا بھارت کو سیز فائر نہیں ہے خاک میں کے ساتھ دیا کہ کو بھی
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز