ملکی سالمیت کا دفاع کیسے کرنا ہے یہ ہم بخوبی جانتے ہیں: آرمی چیف
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک) افواج پاکستان نے بھارت کی جارحیت پر ایسا منہ توڑ جواب دیا ہے جس کی گونج نہ صرف سرحد پار سنی گئی بلکہ پوری دنیا نے پاکستان کی عسکری صلاحیت، عزم اور قربانی کو تسلیم کر لیا۔
’’آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص‘‘ کے ذریعے پاکستان نے اپنی دفاعی طاقت، قومی وحدت اور عزم کا مظاہرہ کر کے بھارت کو عملی اور منہ توڑ جواب دیا، افواج پاکستان نے جو کہا وہ کر کے دکھایا، الحمدللہ!
پاکستان نے متعدد بار بھارت کو خبردار کیا تھا کہ وہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے، آرمی چیف نے اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، آپریشن’’بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص قوم سے کیے گئے اس وعدے کی تکمیل ہے، الحمدللہ!
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ اللہ کی مدد اور نصرت سے یہ کتنی مرتبہ ہوا کہ ایک چھوٹی طاقت نے بڑی طاقت کو شکست دی۔
سربراہ پاک فوج نے کہا کہ الحمدللہ! تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ افواج پاکستان اور قوم ہر جارحیت کے خلاف پوری قوت سے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے ہیں۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پاکستان میں بھرپور دفاعی صلاحیت موجود ہے، ملکی سالمیت کا دفاع کیسے کرنا ہے یہ ہم بخوبی جانتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 13 لاکھ بھارتی فوج اپنے تمام تر ہتھیاروں سے ہمیں ڈرا اور دھمکا نہیں سکتی، ہمارے آباؤ اجداد نے اور ہم نے اس ملک کو بنانے کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ہم اس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل ارشد شریف چودھری نے کہا تھا کہ ہم بھارت کی طاقت، مکاری اور جارحیت سے مرعوب ہونے والی قوم نہیں، اب ہمارے جواب کا انتظار کرو۔
علاوہ ازیں دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا نے دیکھا افواج پاکستان نے بھارتی جارحیت پر کس طرح منہ توڑجواب دے کر بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا، افواج پاکستان نے اپنے جذبہ شوق شہادت اور عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔
ارب پتیوں کی جائیدادیں پاکستانی میزائلوں سے بچانے کیلئے مودی نے امریکا کے پاؤں پکڑے، شیو سینا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: افواج پاکستان نے آرمی چیف تھا کہ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔