Express News:
2026-07-24@08:15:50 GMT

کیا پام آئل خطرناک ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

وطن عزیز میں کھانا پکانے کے تمام تیلوں میں پام آئل سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اسے گھروں اور ہوٹلوں میں کھانا پکاتے ہوئے عام برتا جاتا ہے۔

پاکستان ہر سال تیس اکتیس لاکھ میٹرک ٹن پام آئل انڈونیشیا اور ملائشیا سے منگواتا ہے۔ یہ رکازی ایندھن (پٹرول ، ڈیزل،گیس) کے بعد پاکستان کی دوسری بڑی امپورٹ ہے جس پر تقریباً پانچ لاکھ ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں پام آئل پیدا کرنے والے درخت لگائے جا رہے ہیں مگر یہ کام سست رفتاری سے جاری ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ انڈونیشیا اور ملائشیا، دونوں پام آئل سے بائیوڈیزل زیادہ سے زیادہ بنا رہے ہیں۔ اگر بڑھوتری کی یہی رفتار رہی تو مستقبل میں پام آئل عالمی منڈی میں کم دستیاب ہو گا۔ تب منڈی کے اصول کی وجہ سے اس کی قیمت کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔اس لیے اہل پاکستان کو پام آئل کے درخت زیادہ سے زیادہ لگانے چاہیں تاکہ وطن کھانا پکانے کے اس تیل کی پیداوار میں خودکفیل ہو سکے۔ یہ ملکی فوڈ سیکورٹی کا اہم معاملہ ہے۔

کیا پام آئل نقصان دہ؟

پام آئل کے درخت کو اس لیے شہرت ملی کہ اول یہ تیزی سے بڑھ کر پھل دینے لگتا ہے۔ دوم اس کے پھل سے بڑی مقدار میں کوکنگ آئل نکلتا ہے۔ تیسری وجہ یہ کہ یہ تیل طویل عرصے تک چلتا ہے یعنی اس کی ’شیلف لائف‘کافی زیادہ ہے اور وہ خراب نہیں ہوتا۔ چوتھی خصوصیت یہ کہ پام آئل کا ’’سموک پوائنٹ ‘‘بھی بلند ہے۔ مطلب یہ کہ 235 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہو کر بھی وہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ کیمیائی اجزا پیدا نہیں کرتا۔

پچھلے چند برس سے مگر عالمی سطح پر پام آئل تنقید کی زد میں بھی ہے۔ وجہ اس میں’’ سیچوریٹڈ فیٹ‘‘(Saturated Fat) کا پایا جانا ہے جو چکنائی کی ایک قسم ہے۔ پام آئل کا تقریباً 50 فیصد حصہ سیچوریٹڈ فیٹ رکھتا ہے۔ جبکہ 40 فیصد حصہ دل کے لیے موزوں چکنائی ، مونو ان سیچوریٹڈ(monounsaturated) اور 10 فیصد حصہ ایک اور مفید چکنائی، پولی ان سیچوریٹڈ (polyunsaturated) پر مشتمل ہوتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن (AHA) کے مطابق پام آئل میں پائی جانے والی سیچوریٹڈ چکنائی کم کثافت والے لیپو پروٹین (LDL) یا ’’خراب‘‘ کولیسٹرول سے منسلک ہوتی ہے اور یہ دل کی بیماری کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ ایسوسی ایشن سفارش کرتی ہے کہ ہر انسان روزانہ کھانوں سے سیچوریٹڈ چکنائی کی 13 گرام مقدار ہی لے اور اسے محدود رکھے۔ یاد رہے، ایل ڈی ایل کولیسٹرول میں اضافہ دل کی بیماری، فالج اور دیگر قلبی مسائل کے بڑھتے خطرے سے وابستہ ہے۔

قابل توجہ نکتہ یہ کہ سیچوریٹڈ چکنائی اسی وقت انسانی صحت کے لیے خطرہ بنتی ہے جب اس کی زیادہ مقدار لی جائے۔ مذید براں یہ چکنائی محض پام آئل میں نہیں ملتی بلکہ دیگر کوکنگ آئلز میں بھی پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ناریل کا تیل صحت بخش سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کا 90  فیصد حصہ اسی سیچوریٹڈ چکنائی پر مشتمل ہوتا ہے۔ لہٰذا اس اعتبار سے تو ناریل کا تیل پام آئل سے زیادہ خطرناک ہوا۔

معنی یہ کہ پام آئل اعتدال سے استعمال کیا جائے تو انسانی صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ ویسے بھی بہتر ہے کہ کھانا پکاتے ہوئے ہر قسم کا تیل ، مکھن یا گھی کم سے کم استعمال کیا جائے کہ ایک غذا چاہے کتنی ہی مفید ہو، اس کی زیادتی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ پھلوں میں پائی جانے والی شکر، فروٹوکوز کھا کر کینسر کے خلیے پھلتے پھولتے ہیں۔ لہذا کینسر کا مریض اگر زیادہ پھل کھائے گا تو اس میں مرض تیزی سے پھیل کر اسے موت دے ڈالے گا۔ اسی لیے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ کینسر کے مریض کو شکر رکھنے والی تمام غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

ایک اہم مسئلہ

پاکستان میں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کہ گھروں، ہوٹلوں اور ڈھابوں میں کھانا پکانے کے تیل کو بار بار گرم کیا جاتا ہے۔ نیز بعض اوقات نہایت تیز آگ میں بھی تیل پکایا جاتا ہے۔ ان دونوں طریقوں سے کوکنگ آئل انسانی صحت کے لیے خطرناک بن جاتا ہے، چاہے وہ زیتون کا تیل ہی ہو۔ دنیا بھر میں زیتون کا تیل سب سے زیادہ صحت بخش سمجھتا ہے۔ مگر کئی لوگ نہیں جانتے کہ اس کا ’’سموک پوائنٹ ‘‘ کم ہے یعنی 190  ڈگری سینٹی گریڈ۔

 معنی یہ کہ زیتون کا تیل جلد گرم ہو کر مضر صحت کیمیائی اجزا پیدا کرنے لگتا ہے۔ لہذا یہ تیل سلاد میں ڈالنے کو تو عمدہ ہے مگر اسے کوئی غذا تلنے اور خوب اچھی طرح پکانے کے لیے استعمال نہ کیجیے۔ اس کام کے لیے پام آئل بہتر ہے کہ وہ بلند سموک پوائنٹ رکھتا ہے۔

یاد رہے، کھانا پکانے کے جو تیل بار بار گرم کیے یا زیادہ تیز آگ میں پکائے جاتے ہیں، وہ مختلف کیمیکلز کی وسیع مقدار پیدا کر سکتے ہیں۔ ان میں ’’پی اے ایچ ‘‘(polycyclic aromatic hydrocarbons)کیمیکل شامل ہیں جو انسان میں کینسر پیدا کرتے ہیں۔ بار بار گرم شدہ تیل ہی نقصان دہ نہیں بلکہ اس کے دھوئیں میں سانس لینا بھی صحت کے لیے اہم خطرہ ہے۔ ایسی حالت میں تو زیتون کا بظاہر مفید ترین تیل بھی زہر بن جاتا ہے۔

ویجیٹیبل گھی

پام آئل سے ’فیٹ ہائڈروجینیشن‘ (Fat hydrogenation) عمل کے ذریعے گھی بھی بنتا ہے جسے ہمارے ہاں ’ویجیٹیبل گھی‘کہا جاتا ہے۔ اس ویجیٹیبل گھی کا زیادہ استعمال پام آئل کی نسبت مزید نقصان دہ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ فیٹ ہائڈروجینیشن کا عمل اس میں چکنائی کی ایک قسم ’’ٹرانز فیٹس‘‘ (Trans fats) پیدا کر دیتا ہے۔ انسانی جسم میں اس چکنائی کی زیادتی ہو جائے تو انسان جسمانی سوزش، امراض قلب اور ذیابیطس جیسی موذی بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ لہذا ویجیٹیبل گھی بھی اعتدال سے استعمال کیجیے۔

کیا کولیسٹرول بڑھاتا ہے؟

ماہرین غذائیت کی جدید تحقیق کی رو سے یہ ایک اور دیومالا ہے کہ پام آئل کولیسٹرول بڑھاتا ہے۔ درحقیقت اس میں ’’Tocotrienols‘‘ کیمیکل ملتے ہیں جو انسانی جسم میں پہنچ کر وٹامن ای میں بدل جاتے ہیں۔ وٹامن ای اہم غذائی عنصر ہے کیونکہ یہ کینسر اور دل کی بیماری سے انسانی خلیوں کو محفوظ رکھنے والے اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ کیمیکل کولیسٹرول کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پام آئل کی ایک اور انسان دوست خوبی یہ کہ اس میں ’’carotenoids‘‘ کیمیکل بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکل انسانی جسم میں داخل ہو کر وٹامن اے میں بدل جاتے ہیں۔ وٹامن اے مختلف جسمانی افعال کے لیے ضروری ہے، بشمول بصارت، مدافعتی نظام کی صحت، تولیدی صحت، اور نشوونما۔ اس کی کمی رات کے اندھے پن اور صحت کے دیگر مسائل کا باعث بنتی ہے۔

غرض پام آئل عام پاکستانیوں کو وٹامن اے اور وٹامن ای فراہم کرنے والا اہم ذریعہ ہے۔ مگر بات وہی کہ اس کا استعمال اعتدال سے کیا جائے، تبھی اللہ تعالی کی بخشی اس غذا کی صحت بخش خوبیوں سے انسان مستفید ہو سکتا ہے۔ مثلاً ماہرین کہتے ہیں، ترقی پذیر و غریب ممالک میں بچوں کی غذا میں یا حمل کے دوران پام آئل لینے سے وٹامن اے کی سطح گھٹنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ یہ ان لوگوں میں وٹامن اے کی سطح بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جن کی سطح پہلے کم ہے۔

پام آئل اور کینسر

جدید تحقیق کی رو سے یہ دیومالا بھی پام آئل سے وابستہ کر دی گئی ہے کہ یہ کھانا پکانے کا تیل کینسر پیدا کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس کوکنگ آئل کو زیادہ استعمال کیا جائے، اسے بار بار گرم کیا جائے یا زیادہ بلند درجہ حرارت میں پکایا جائے تو وہ انسانی جسم میں کینسر پیدا کرنے والی کیمیائی اجزا پیدا کر سکتا ہے۔ یہ عمل صرف پام آئل سے مخصوص نہیں، زیتون کا تیل بھی درج بالا مراحل سے گذر کو زہریلا بن جائے گا۔

آخری بات یہ کہ بہترین صحت حاصل کرنے کے لیے کوکنگ آئل اعتدال میں استعمال کیجیے۔ اس کو بار بار گرم نہ کیجیے۔ اسی طرح تیز آگ میں نہ پکائیے۔ نیز وزن کم رکھیے۔ میدا زیادہ نہ کھائیے۔ شکر والی غذاؤں کو بھی حد میں رہ کر کھائیے۔ اس طریقے سے آپ صحت کی قیمتی ترین دولت پا سکتے ہیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ویجیٹیبل گھی پام ا ئل سے صحت کے لیے کوکنگ ا ئل چکنائی کی کیا جائے فیصد حصہ سے زیادہ پیدا کر میں بھی جاتا ہے ہوتا ہے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ