Express News:
2026-06-03@06:16:36 GMT

کیا پام آئل خطرناک ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

وطن عزیز میں کھانا پکانے کے تمام تیلوں میں پام آئل سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اسے گھروں اور ہوٹلوں میں کھانا پکاتے ہوئے عام برتا جاتا ہے۔

پاکستان ہر سال تیس اکتیس لاکھ میٹرک ٹن پام آئل انڈونیشیا اور ملائشیا سے منگواتا ہے۔ یہ رکازی ایندھن (پٹرول ، ڈیزل،گیس) کے بعد پاکستان کی دوسری بڑی امپورٹ ہے جس پر تقریباً پانچ لاکھ ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں پام آئل پیدا کرنے والے درخت لگائے جا رہے ہیں مگر یہ کام سست رفتاری سے جاری ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ انڈونیشیا اور ملائشیا، دونوں پام آئل سے بائیوڈیزل زیادہ سے زیادہ بنا رہے ہیں۔ اگر بڑھوتری کی یہی رفتار رہی تو مستقبل میں پام آئل عالمی منڈی میں کم دستیاب ہو گا۔ تب منڈی کے اصول کی وجہ سے اس کی قیمت کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔اس لیے اہل پاکستان کو پام آئل کے درخت زیادہ سے زیادہ لگانے چاہیں تاکہ وطن کھانا پکانے کے اس تیل کی پیداوار میں خودکفیل ہو سکے۔ یہ ملکی فوڈ سیکورٹی کا اہم معاملہ ہے۔

کیا پام آئل نقصان دہ؟

پام آئل کے درخت کو اس لیے شہرت ملی کہ اول یہ تیزی سے بڑھ کر پھل دینے لگتا ہے۔ دوم اس کے پھل سے بڑی مقدار میں کوکنگ آئل نکلتا ہے۔ تیسری وجہ یہ کہ یہ تیل طویل عرصے تک چلتا ہے یعنی اس کی ’شیلف لائف‘کافی زیادہ ہے اور وہ خراب نہیں ہوتا۔ چوتھی خصوصیت یہ کہ پام آئل کا ’’سموک پوائنٹ ‘‘بھی بلند ہے۔ مطلب یہ کہ 235 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہو کر بھی وہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ کیمیائی اجزا پیدا نہیں کرتا۔

پچھلے چند برس سے مگر عالمی سطح پر پام آئل تنقید کی زد میں بھی ہے۔ وجہ اس میں’’ سیچوریٹڈ فیٹ‘‘(Saturated Fat) کا پایا جانا ہے جو چکنائی کی ایک قسم ہے۔ پام آئل کا تقریباً 50 فیصد حصہ سیچوریٹڈ فیٹ رکھتا ہے۔ جبکہ 40 فیصد حصہ دل کے لیے موزوں چکنائی ، مونو ان سیچوریٹڈ(monounsaturated) اور 10 فیصد حصہ ایک اور مفید چکنائی، پولی ان سیچوریٹڈ (polyunsaturated) پر مشتمل ہوتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن (AHA) کے مطابق پام آئل میں پائی جانے والی سیچوریٹڈ چکنائی کم کثافت والے لیپو پروٹین (LDL) یا ’’خراب‘‘ کولیسٹرول سے منسلک ہوتی ہے اور یہ دل کی بیماری کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ ایسوسی ایشن سفارش کرتی ہے کہ ہر انسان روزانہ کھانوں سے سیچوریٹڈ چکنائی کی 13 گرام مقدار ہی لے اور اسے محدود رکھے۔ یاد رہے، ایل ڈی ایل کولیسٹرول میں اضافہ دل کی بیماری، فالج اور دیگر قلبی مسائل کے بڑھتے خطرے سے وابستہ ہے۔

قابل توجہ نکتہ یہ کہ سیچوریٹڈ چکنائی اسی وقت انسانی صحت کے لیے خطرہ بنتی ہے جب اس کی زیادہ مقدار لی جائے۔ مذید براں یہ چکنائی محض پام آئل میں نہیں ملتی بلکہ دیگر کوکنگ آئلز میں بھی پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ناریل کا تیل صحت بخش سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کا 90  فیصد حصہ اسی سیچوریٹڈ چکنائی پر مشتمل ہوتا ہے۔ لہٰذا اس اعتبار سے تو ناریل کا تیل پام آئل سے زیادہ خطرناک ہوا۔

معنی یہ کہ پام آئل اعتدال سے استعمال کیا جائے تو انسانی صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ ویسے بھی بہتر ہے کہ کھانا پکاتے ہوئے ہر قسم کا تیل ، مکھن یا گھی کم سے کم استعمال کیا جائے کہ ایک غذا چاہے کتنی ہی مفید ہو، اس کی زیادتی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ پھلوں میں پائی جانے والی شکر، فروٹوکوز کھا کر کینسر کے خلیے پھلتے پھولتے ہیں۔ لہذا کینسر کا مریض اگر زیادہ پھل کھائے گا تو اس میں مرض تیزی سے پھیل کر اسے موت دے ڈالے گا۔ اسی لیے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ کینسر کے مریض کو شکر رکھنے والی تمام غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

ایک اہم مسئلہ

پاکستان میں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کہ گھروں، ہوٹلوں اور ڈھابوں میں کھانا پکانے کے تیل کو بار بار گرم کیا جاتا ہے۔ نیز بعض اوقات نہایت تیز آگ میں بھی تیل پکایا جاتا ہے۔ ان دونوں طریقوں سے کوکنگ آئل انسانی صحت کے لیے خطرناک بن جاتا ہے، چاہے وہ زیتون کا تیل ہی ہو۔ دنیا بھر میں زیتون کا تیل سب سے زیادہ صحت بخش سمجھتا ہے۔ مگر کئی لوگ نہیں جانتے کہ اس کا ’’سموک پوائنٹ ‘‘ کم ہے یعنی 190  ڈگری سینٹی گریڈ۔

 معنی یہ کہ زیتون کا تیل جلد گرم ہو کر مضر صحت کیمیائی اجزا پیدا کرنے لگتا ہے۔ لہذا یہ تیل سلاد میں ڈالنے کو تو عمدہ ہے مگر اسے کوئی غذا تلنے اور خوب اچھی طرح پکانے کے لیے استعمال نہ کیجیے۔ اس کام کے لیے پام آئل بہتر ہے کہ وہ بلند سموک پوائنٹ رکھتا ہے۔

یاد رہے، کھانا پکانے کے جو تیل بار بار گرم کیے یا زیادہ تیز آگ میں پکائے جاتے ہیں، وہ مختلف کیمیکلز کی وسیع مقدار پیدا کر سکتے ہیں۔ ان میں ’’پی اے ایچ ‘‘(polycyclic aromatic hydrocarbons)کیمیکل شامل ہیں جو انسان میں کینسر پیدا کرتے ہیں۔ بار بار گرم شدہ تیل ہی نقصان دہ نہیں بلکہ اس کے دھوئیں میں سانس لینا بھی صحت کے لیے اہم خطرہ ہے۔ ایسی حالت میں تو زیتون کا بظاہر مفید ترین تیل بھی زہر بن جاتا ہے۔

ویجیٹیبل گھی

پام آئل سے ’فیٹ ہائڈروجینیشن‘ (Fat hydrogenation) عمل کے ذریعے گھی بھی بنتا ہے جسے ہمارے ہاں ’ویجیٹیبل گھی‘کہا جاتا ہے۔ اس ویجیٹیبل گھی کا زیادہ استعمال پام آئل کی نسبت مزید نقصان دہ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ فیٹ ہائڈروجینیشن کا عمل اس میں چکنائی کی ایک قسم ’’ٹرانز فیٹس‘‘ (Trans fats) پیدا کر دیتا ہے۔ انسانی جسم میں اس چکنائی کی زیادتی ہو جائے تو انسان جسمانی سوزش، امراض قلب اور ذیابیطس جیسی موذی بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ لہذا ویجیٹیبل گھی بھی اعتدال سے استعمال کیجیے۔

کیا کولیسٹرول بڑھاتا ہے؟

ماہرین غذائیت کی جدید تحقیق کی رو سے یہ ایک اور دیومالا ہے کہ پام آئل کولیسٹرول بڑھاتا ہے۔ درحقیقت اس میں ’’Tocotrienols‘‘ کیمیکل ملتے ہیں جو انسانی جسم میں پہنچ کر وٹامن ای میں بدل جاتے ہیں۔ وٹامن ای اہم غذائی عنصر ہے کیونکہ یہ کینسر اور دل کی بیماری سے انسانی خلیوں کو محفوظ رکھنے والے اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ کیمیکل کولیسٹرول کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پام آئل کی ایک اور انسان دوست خوبی یہ کہ اس میں ’’carotenoids‘‘ کیمیکل بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکل انسانی جسم میں داخل ہو کر وٹامن اے میں بدل جاتے ہیں۔ وٹامن اے مختلف جسمانی افعال کے لیے ضروری ہے، بشمول بصارت، مدافعتی نظام کی صحت، تولیدی صحت، اور نشوونما۔ اس کی کمی رات کے اندھے پن اور صحت کے دیگر مسائل کا باعث بنتی ہے۔

غرض پام آئل عام پاکستانیوں کو وٹامن اے اور وٹامن ای فراہم کرنے والا اہم ذریعہ ہے۔ مگر بات وہی کہ اس کا استعمال اعتدال سے کیا جائے، تبھی اللہ تعالی کی بخشی اس غذا کی صحت بخش خوبیوں سے انسان مستفید ہو سکتا ہے۔ مثلاً ماہرین کہتے ہیں، ترقی پذیر و غریب ممالک میں بچوں کی غذا میں یا حمل کے دوران پام آئل لینے سے وٹامن اے کی سطح گھٹنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ یہ ان لوگوں میں وٹامن اے کی سطح بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جن کی سطح پہلے کم ہے۔

پام آئل اور کینسر

جدید تحقیق کی رو سے یہ دیومالا بھی پام آئل سے وابستہ کر دی گئی ہے کہ یہ کھانا پکانے کا تیل کینسر پیدا کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس کوکنگ آئل کو زیادہ استعمال کیا جائے، اسے بار بار گرم کیا جائے یا زیادہ بلند درجہ حرارت میں پکایا جائے تو وہ انسانی جسم میں کینسر پیدا کرنے والی کیمیائی اجزا پیدا کر سکتا ہے۔ یہ عمل صرف پام آئل سے مخصوص نہیں، زیتون کا تیل بھی درج بالا مراحل سے گذر کو زہریلا بن جائے گا۔

آخری بات یہ کہ بہترین صحت حاصل کرنے کے لیے کوکنگ آئل اعتدال میں استعمال کیجیے۔ اس کو بار بار گرم نہ کیجیے۔ اسی طرح تیز آگ میں نہ پکائیے۔ نیز وزن کم رکھیے۔ میدا زیادہ نہ کھائیے۔ شکر والی غذاؤں کو بھی حد میں رہ کر کھائیے۔ اس طریقے سے آپ صحت کی قیمتی ترین دولت پا سکتے ہیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ویجیٹیبل گھی پام ا ئل سے صحت کے لیے کوکنگ ا ئل چکنائی کی کیا جائے فیصد حصہ سے زیادہ پیدا کر میں بھی جاتا ہے ہوتا ہے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا