یمنی حوثیوں کا اسرائیلی ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ، نقصان پہنچانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
یمن کے حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق یمنی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تل ابیب کے قریب اسرائیل کے مرکزی ہوائی اڈے کو 2 بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ’فوجی کارروائی‘ میں نشانہ بنایا ہے۔
حوثیوں کی جانب سے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی اپنے ہدف میں کامیاب رہی۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مقامی وقت کے مطابق رات 2 بجے کامیابی سے تباہ کر دیا گیا، اور اس دوران وسطی اسرائیل میں سائرن بجنے لگ گئے تھے۔
حوثی باغی اسرائیل پر میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جنہیں وہ غزہ کے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی قرار دیتے ہیں، حالاں کہ انہوں نے امریکی بحری جہازوں پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے۔
اسرائیل نے بھی یمن پر جوابی حملے کیے ہیں، جن میں 6 مئی کو کیا گیا ایک حملہ شامل ہے، جس میں صنعا کے مرکزی ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا اور کئی افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے غزہ پر حالیہ دنوں میں فوجی حملے تیز کر دیے ہیں، ایک ہفتے میں سیکڑوں فلسطینیوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔