پاکستان کی غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی مذمت، نسل کشی مہم ختم کی جائے :اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان کی جانب سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قتل و غارت گری فوری روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نجی ٹی و ی جیو نیوز کے مطابق ایک بیان میں وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی زمینی کارروائیاں خطے میں امن واستحکام کی کوششوں کیلئے خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پوری آبادی کو قحط جیسے خطرے کا سامنا ہے، اسرائیلی اقدامات عالمی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ عالمی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی کی اسرائیلی مہم کو فوری ختم کروائے، فلسطینیوں کو بلارکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں۔
بھارت سے جب مذاکرات ہوں گے تو کشمیر، پانی، تجارت اور دہشتگردی پر بات ہوگی: وزیراعظم
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔