آئی ایف ایم وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، معاشی ایجنڈے کیلئے تعاون جاری رکھنے کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
آئی ایف ایم وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، معاشی ایجنڈے کیلئے تعاون جاری رکھنے کا اعادہ WhatsAppFacebookTwitter 0 22 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز )آئی ایم ایف کے وفد کی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات ہوئی۔ملاقات میں طارق باجوہ، سیکرٹری خزانہ اور دیگر حکام بھی شریک تھے، ایف بی آر اور وزارت خارجہ کے حکام بھی ملاقات میں موجود رہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلٹی ریویو کی کامیاب تکمیل پر آئی ایم ایف سے اظہار تشکر کیا۔وزیر خارجہ نے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان معاشی استحکام، اصلاحات اور پائیدار ترقی کیلئے پرعزم ہے۔آئی ایم ایف وفد نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کے معاشی ایجنڈے کیلئے تعاون جاری رہے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمیڈیا نے ہمارے ساتھ ملکر جنگ لڑی اور دنیا کو بتایا ہم صرف سچ بولتے ہیں، فیلڈ مارشل میڈیا نے ہمارے ساتھ ملکر جنگ لڑی اور دنیا کو بتایا ہم صرف سچ بولتے ہیں، فیلڈ مارشل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی تو آئی ایم ایف شرائط پر ساتھ نہیں دیں گے، گنڈا پور کی دھمکی وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے راول ٹا ئو ن کمیونٹی سینٹر کے لئے فنڈز جاری کر دیئے مودی جی کھوکھلی تقریریں کرنا بند کریں، تین سوالوں کا جواب دیں، راہول گاندھی مزید حملوں کا خدشہ؛ نیتن یاہو کا دنیا بھر میں اسرائیلی سفارتخانوں کی سیکیورٹی بڑھانے کا اعلان غزہ میں حالیہ دنوں میں بھوک کے باعث 29 بچے اور بزرگ شہید ہوئے، فلسطینی وزیر صحتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار سے ملاقات
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔