بھارت کی خارجہ پالیسی بربادی کا شکار ہے، راہول گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
ذرائع کے مطابق راہول گاندھی نے بھارت کے سفارتی معاملات کے حوالے سے کئی تنقیدی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو جنوبی ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان ثالثی کا اختیار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے کہا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی تباہ ہو چکی ہے جس کا وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو جواب دینا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق راہول گاندھی نے بھارت کے سفارتی معاملات کے حوالے سے کئی تنقیدی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو جنوبی ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان ثالثی کا اختیار دیا اور کسی بھی ملک نے بھارت کی حمایت کیوں نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کیا ایس جے شنکر وضاحت کریں گے کہ کسی ایک ملک نے پاکستان کی مذمت کرنے میں ہمارا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ ٹرمپ کو دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کرنے کو کس نے کہا؟ بھارت کی خارجہ پالیسی تباہ ہو گئی ہے۔ قبل ازیں راہول گاندھی وزیراعظم مودی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے 12 مئی کو مودی کے قوم سے خطاب کا ایک کلپ بھی شیئر کیا اور لکھا ”مودی جی، کھوکھلی تقریریں کرنا بند کریں، مجھے بتائیں آپ نے ٹرمپ کے سامنے جھک کر بھارت کے مفادات کو کیوں قربان کیا؟ آپ نے بھارت کی عزت پر سمجھوتہ کیا ہے۔“
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راہول گاندھی نے بھارت بھارت کی
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔