پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو ذلت آمیز شکست؛ تھنک ٹینک نے رپورٹ جاری کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 24 May, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس)’’16 گھنٹے میں جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی‘‘ کے عنوان سے معروف تھنک ٹینک کی رپورٹ کا اجرا کردیا گیا۔

سینیٹرمشاہد حسین نے تھنک ٹینک کی رپورٹ ’’ 16 گھنٹے میں جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی‘‘ کا اجرا کر دیا، جس میں مودی کے غلط اندازے اور پاکستان کی واضح برتری کے تذکرے کے ساتھ ساتھ جنگ کو خارج از امکان قرار دیا گیا ہے کیوں کہ دفاعی طاقت کا توازن بحال ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں مئی کی فتح کو ’’پاکستان کا شاندار ترین لمحہ‘‘ قرار دیا گیا۔

پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ جو چین اور خطے پر کام کرنے والا ممتاز تھنک ٹینک ہے اور جسے سینیٹر مشاہد حسین سید نے قائم کیا تھا، نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی پر ایک جامع رپورٹ کا اجرا کیا ہے جس کا عنوان ’’ 16 گھنٹے میں جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی: مودی کا غلط اندازہ کس طرح پاکستان کی برتری کا باعث بنا‘‘ ہے۔

رپورٹ کے اجرا کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان چائناانسٹی ٹیوٹ پاکستان کا پہلا تھنک ٹینک ہے جس نے اس نوعیت کی جامع رپورٹ تیار کی، جو اس کشیدگی کے تمام پہلوؤں اور اس کے نتائج، مودی کے غلط اندازے اور پاکستان کی کامیابی کی وجوہات کا احاطہ کرتی ہے جسے انہوں نے ’’1962 میں چین سے نہرو کی شکست کے بعد بھارت کی سب سے بڑی شکست‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی جرات مندانہ حکمتِ عملی کو سراہا اور اس کا کریڈٹ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی متحرک قیادت کو دیا جنہوں نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار بین الافواج تعاون اور حکمتِ عملی کی واضح مثال قائم کی۔

پاکستان کی کامیابی کی دیگر وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پاک فضائیہ کے پائلٹس کی پیشہ ورانہ مہارت، تربیت، جذبے اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال خاص طور پر الیکٹرانک وارفیئر کے استعمال اور سائبر میدان میں برتری کے حصول کو سراہا ۔

انہوں نے کہا کہ مئی 1998 کے ایٹمی تجربات کے بعد جب وہ پاکستان کے وزیر اطلاعات اور چیف ترجمان تھے اس بار بھی پاکستان کا لمحۂ فخریہ تھا کیونکہ ہر شعبے میں مکمل منصوبہ بندی، مکمل ہم آہنگی اور مکمل عملدرآمد دیکھنے کو ملی تھی جسے دفتر خارجہ کی مؤثر سفارت کاری اور میڈیا کا سنجیدہ بیانیہ حاصل تھا۔

انہوں نے پاکستانی عوام کے بلند حوصلے اور جرات کو بھی سراہا، جنہوں نے بیرونی جارحیت کے سامنے اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

رپورٹ پیش کرتے ہوئے جس کے سرورق پر چار تصاویر موجود ہیں جن میں جے ایف-17 تھنڈر اور جے-10سی طیارے پس منظر میں پرواز کرتے دکھائے گئے ہیں، سینیٹر مشاہد حسین نے چین کے کردار کو سراہا جو صدر شی جن پنگ کی قیادت میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے سیز فائر میں ثالثی کی اور مسئلہ کشمیر کو دوبارہ زندہ کیا جو بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔

جنگ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئےسینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ مئی میں پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں تین نئی اسٹریٹجک حقیقتیں سامنے آئی ہیں۔ جن میں پاکستان نے اپنی دفاعی طاقت کاتوازن بحال کیا، جبکہ چین اب مسئلہ کشمیر کا عملی طور پر ایک فریق بن چکا ہے اور جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے ایک کلیدی قوت کے طور پر ابھرا ہے جو پاکستان کی وحدت، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک قلعے کا کردار ادا کر رہا ہے۔

علاوہ ازیں امریکہ ایک اور عالمی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے جو کشمیر کے مسئلے کو دوبارہ زندہ کر کے اور پاکستان و بھارت کو برابری کی سطح پر امن و سلامتی کے تحفظ میں کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان چائناانسٹی ٹیوٹ( پی سی آئی) کی رپورٹ 3 نکاتی جامع حکمت عملی تجویز کرتی ہے جو متحرک سفارت کاری پر مرکوز ہے جس میں جنوبی ایشیائی ممالک کی جانب ایک اسٹریٹجک سمت بندی، چین، ترکی، آذربائیجان، ایران اور سعودی عرب جیسے اتحادیوں سے تعلقات کو مضبوط کرنا شامل ہے.

نیز دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے پر تخلیقی قانونی حکمت عملی (لاء فیئر) کا استعمال، بھارت کے آر ایس ایس ہندوتوا نظام کو مغرب کی بین الاقوامی عدالتوں میں لے جانا اور میڈیا، تھنک ٹینکس، پالیسی سازوں، پارلیمانی و عوامی سفارت کاری کے ذریعے بیانیے کی جنگ کو فروغ دینا بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔

پی سی آئی رپورٹ کے اہم نکات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جنوبی ایشیا میں بلینس آف ٹیرر کا ماڈل مؤثر رہا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، اس نے بھارتی جارحیت کو مؤثر طریقے سے روکا ہے اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھا ہے۔

درحقیقت، جو ایک تاریخی کامیابی ہے، پاکستان نے بھارت کے ساتھ روایتی دفاعی اور طاقت کے توازن بھی بحال کر لیا ہے، باوجود اس کے کہ دونوں ممالک کے درمیان سائز اور وسائل کے لحاظ سے نمایاں فرق موجود ہے۔

اختتامی کلمات میں سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ اگرچہ جنگ کے امکانات موجود نہیں ہیں تاہم چوکنا رہنا ضروری ہے کیونکہ بھارت سے کچھ بعید نہیں ہے جیساکہ پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ (پی سی آئی) کی رپورٹ کے مطابق وہ ایک 3ڈی اسٹریٹجی پر عمل پیرا ہے جس میں پاکستان کو بدنام کرنا، پاکستان کو نقصان پہنچانا اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا شامل ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ اس اسٹریٹجی کا مقابلہ اُس قومی یکجہتی کو مضبوط بنا کر کیا جا سکتا ہے جو آج ملک میں نظر آ رہی ہے اور اس کے لیے سیاسی تقسیم کا خاتمہ کرتے ہوئے ملک میں اتحاد و یگانت کو فروغ دینا ہوگا اور دہشتگردی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی مرتب کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس کشیدگی نے عوام کا حوصلہ بلند کیا ہے اور پاکستانی قوم میں قومی خود اعتمادی پیدا کی ہے، جس سے پاکستان کے مستقبل پر نئے سرے سے یقین پیدا ہوا ہےاور عوام ایک نئی یکجہتی اور فخر کے ساتھ قوم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

25صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں 22 اپریل 2025 کو پہلگام دہشتگرد ی کےحملے کے بعد سے اب تک کے واقعات کی ٹائم لائن بھی فراہم کی گئی ہے۔ پاک ہندکشیدگی پر بین الاقوامی آراء شامل کی گئی ہے اور یہ تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح ماضی میں رہنماؤں کے غلط اندازے جیسا کہ مودی کی “سنگین غلطی”، تاریخ کا رخ بدل چکی ہیں جب کہ 1941 میں ہٹلر نے یورپ کو زیر کرنے کے بعد سوویت یونین پر حملہ کیا جو ایک مکمل غلط اندازہ تھا۔

سینیٹر مشاہد حسین نے پاکستانی میڈیا کی تعریف بھی کی کہ انہوں نے حقائق اور سچائی پر مبنی شاندار رپورٹنگ کی اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی میڈیا کی ساکھ کو ملک اور بیرونِ ملک تسلیم اور سراہا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ پی سی آئی کی ویب سائٹ www.Pakistan-China.com سے بھی ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسکھ تنظیم کی ننکانہ صاحب پر بھارتی ڈرون حملے کے خلاف عالمی عدالت میں شکایت سکھ تنظیم کی ننکانہ صاحب پر بھارتی ڈرون حملے کے خلاف عالمی عدالت میں شکایت این ڈی ایم اے نے ممکنہ موسمی صورتحال پر ایڈوائزری جاری فیض حمید کو کم سے کم 14 سال قید کی سزا ہوگی، فیصل واوڈا کا دعویٰ مہمند ڈیم کے حوالے سے ایک اور اہم سنگ میل عبور، ڈیم کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز عمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کروانا توہین آمیز کوشش ہے، شیخ وقاص اکرم ٹیکس چوری قطعا قابل قبول نہیں ،تدارک کیلئے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے، وزیراعظم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پاکستان کے تھنک ٹینک

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی