WE News:
2026-06-03@04:05:34 GMT

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اب تک 5 اہم کام کون سے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اب تک 5 اہم کام کون سے ہیں؟

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان مسلم دنیا کے ایک انتہائی متحرک اور فعال رہنما اور مملکتِ سعودی عرب کی کئی نئی پالیسیوں کے معمار ہیں۔

39 سالہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود زمام حکومت سنبھالنے سے اب تک سعودی عرب کے حوالے سے انتہائی اہم کردار ادا کر چکے ہیں جس میں سب سے بڑھ کر سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت اور دنیا کے امن میں سعودی عرب کا کردار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محمد بن سلمان نے وژن 2030 کے سعودی معیشت کو تیل کی معیشت سے آگے بڑھا کر ایک ہمہ جہتی معیشت بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس میں سیاحت، صنعت اور زراعت کے فروغ کے کئی منصوبے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے خطے کی صورتحال پر بات چیت

اُن کے وژن 2030 کے تحت سعودی عرب میں سماجی حوالوں سے کئی اہم تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں جن میں خواتین کے حقوق میں بہتری سمیت کئی اہم اقدامات شامل ہیں۔

اُن کے والد شاہ سلمان بن عبدالعزیز 2015 میں سعودی عرب کے بادشاہ بنے تو 21 جون 2017 کو محمد بن سلمان کو ولی عہد نامزد کیا۔ لیکن ولی عہد بننے سے قبل ہی وہ 2015 سے شاہ سلمان کی کابینہ کا حصہ تھے۔ وہ اُس وقت وزیردفاع کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور ترقیاتی کونسل کے چیئرمین بھی تھے۔ محمد بن سلمان 2015 سے ہی حکومتی اُمور چلانے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور 2017 میں اُنہیں باقاعدہ ولی عہد نامزد کر دیا گیا۔

محمد بن سلمان کے 5 اہم کارنامے 1-وژن 2030

سعودی ویژن 2030، 3 ہزار ارب ڈالر کی لاگت سے سعودی عرب کی معیشت، ثقافت، سیاحت اور طرز زندگی کو بدلنے کا ایک منصوبہ ہے جس کے نتیچے میں سینکڑوں منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔ اس منصوبے کے بنیادی اجزا میں مالیاتی اداروں کی ترقی، خود انحصار معیشت، صحت عامہ کے شعبے میں تبدیلیاں، گھروں کی تعمیر، انسانی وسائل کی ترقی یا دوسرے معنوں میں انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی، صنعت اور نقل و حرکت کے ذرائع کی ترقی، زرعی خود انحصاری، حج اور عمرہ زائرین کے لیے سہولیات کی دستیابی، نجکاری، عوامی سرمایہ کاری کے منصوبے، اور معیار زندگی کو بہتر کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا انقلابی اقدام: سعودی شہروں کے لیے نیا تعمیراتی وژن

اس ویژن کے تحت سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے قریب قدیہ میں تفریحی سرگرمیوں بشمول پرفارمنگ آرٹ، کھیل اور ثقافت کا ایک بہت بڑا مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے مغرب میں واقع بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور جزیروں میں بیچ ریزارٹ بنائے جا رہے ہیں۔اس منصوبے کا ایک بہت بڑا حصہ نیوم سٹی ہے جہاں پر 100 فیصد قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع استعمال کر کے ایسا شہر بسایا جائے گا جو کرہِ ارض کے قدرتی ماحول کو آلودگی اور دیگر نقصانات سے محفوظ رکھے گا۔

اسی طرح سے سعودی شہریوں کے لیے گھروں کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے شہر آباد کیے جائیں گے۔ سعودی عرب میں تاریخی مقامات کی سیر کے لیے بہتر ماحول بنایا جائے گا۔ صحت کی شعبے اور موروثی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سعودی جینوم پروگرام شروع کیا گیا ہے۔

ویژن 2030 ایک ایسا پروگرام ہے جو سعودی عرب کے لائف اسٹائل کو بالکل بدل کے رکھ دے گا اور اس میں ہر شعبہ زندگی کے لوگ کام کر سکتے ہیں۔

2-بین الاقوامی سفارت کاری

ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب عالمی سفارت کاری کے میدان میں اہم پیش رفت دیکھا رہا ہے۔ حالیہ پاک بھارت فوجی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے اہم کرادار ادا کیا۔ سعودی وزیرِخارجہ فیصل بن فرحان پاکستانی وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے جبکہ سعودی وزیرمملکت برائے اُمور خارجہ عادل الجبیر نے نئی دہلی اور اسلام آباد کے دورے کر کے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لئے کامیاب سفارت کاری کی۔

اس سے قبل 24 مارچ 2025 کو سعودی عرب نے یوکرین تنازع پر امریکا اور روس کے درمیان بات چیت کے لیے ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا، جس کے لیے اُس کے کرادار کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

اس سے قبل 2017 میں محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے قطر کے ساتھ دیگر خلیجی ممالک بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کے درمیان سفارتی تنازعے کو حل کیا اور 2021 کے العُلا معاہدے کے تحت قطر اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات بحال ہوئے۔

فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے سعودی عرب کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں سعودی عرب او آئی سی کے ہنگامی اجلاس بلا چُکا ہے۔ مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ مغربی دنیا سے سفارتی رابطوں کے لیے بھی سعودی کردار اہم ہے۔

3- خواتین کے حقوق میں کردار

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنےکے بعد سے سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے سلسلے میں کئی اہم اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔ اُن سے پہلے سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی تھی جو 2018 میں ہٹا دی گئی۔

محمد بن سلمان نے مرد سرپرستی یا گارڈینشپ کے قوانین میں ترامیم کی ہیں جن کے تحت اب سعودی خواتین کو سفر، ملازمت، بیرونِ ملک سفر، پاسپورٹ کے حصول اور بچوں کی رجسٹریشن جیسے کاموں کے لئے مرد سرپرست یعنی شوہر والد یا بھائی کی اجازت درکار نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین متعارف کروائے گئے، جیسے کہ گھریلو تشدد کے خلاف سخت اقدامات اور خواتین کے لیے قانونی حقوق کو مضبوط کرنا۔ 2018 میں ایک قانون منظور کیا گیا جس کے تحت ہراسانی کے واقعات پر سزا کو سخت کیا گیا، جو خواتین کی حفاظت کے لیے اہم تھا۔

یہ بھی پڑھیے: ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس، آئی ٹی میں پاکستان سے تعاون کی منظوری

محمد بن سلمان نے خواتین کو عوامی مقامات پر جیسا کہ سینما گھروں، کنسرٹس، اور کھیلوں کے ایونٹس میں خواتین کو شرکت کی اجازت دی۔ خواتین کے لیے اسٹیڈیمز میں داخلے کی اجازت اور مخلوط تقریبات کے انعقاد نے معاشرتی پابندیوں کو کم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی پولیس کے اختیارات کو محدود کر کے خواتین پر لباس اور طرز عمل کے سخت قوانین میں نرمی کی گئی۔

4- مذہبی اعتدال پسندی

محمد بن سلمان نے سعودی عرب کو اعتدال پسند اسلامی ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں مذہبی پولیس کے اختیارات کو محدود کرنا اور روایتی جنسی تفریق کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے اسلام کو میانہ رو اور روادر مذہب قرار دیا ہے، جو عالمی سطح پر سعودی عرب کے امیج کو بہتر بنانے کی کوشش ہے۔ مذہبی پولیس کے اختیارات کم کر دیے گئے ہیں اور بلا تفریقِ جنس لوگوں کے تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر سے پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔

5- معاشی اصلاحات

سعودی گیزٹ کی ایک خبر کی مطابق اس وقت کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سعودی معیشت کا 15.

6 فیصد حصہ ہے، سال 2023 میں سعودی عرب کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکسپورٹس کا حجم 76.1 فیصد بڑھ گیا تھا اور اُس کا مجموعی حجم 11.8 ارب ڈالر تھا۔

یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت کس طرح سے سعودی عرب اپنی معیشت کو تیل پر منحصر معیشت سے دوسروں شعبوں کی طرف منتقل کر رہا ہے۔

اسی طرح سے سعودی معیشت میں سیاحت اب ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے، 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق سیاحتی ریونیو 6.8 ارب ڈالر تھا جو بتدریج بڑھ رہا ہے، اور نیوم سٹی جیسے منصوبوں کی تکمیل کے بعد سیاحت میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Neom city سعودی عرب سیاحت محمد سلمان معیشت نیوم سٹی ویژن 2030

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیاحت نیوم سٹی ویژن 2030 سعودی ولی عہد محمد بن سلمان محمد بن سلمان کی محمد بن سلمان کے اہم کردار ادا سعودی عرب کی سعودی عرب کے کے ساتھ ساتھ میں خواتین خواتین کے کے درمیان شامل ہیں کے لیے ا رہا ہے وژن 2030 کے تحت

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے