اسرائیلی حملوں میں مزید 44 فلسطینی مارے گئے، غزہ سول ڈیفنس
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 مئی 2025ء) غزہ کے محکمہ شہری دفاع کے عہدیدار محمد المغیر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ غزہ پٹی پر تازہ اسرائیلی حملوں میں 44 افراد ہلاک ہوئے ہیں: ''وسطی غزہ میں البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں کریناوی خاندان کے گھر پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 23 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ کئی دیگر زخمی اور متعدد لاپتہ ہیں۔
‘‘مقبوضہ ویسٹ بینک میں بائیس نئی یہودی بستیاں، اسرائیلی وزیر کا اعلان
غزہ حملے ’ناقابل فہم‘: اسرائیل سے متعلق جرمن لہجے میں تبدیلی
اے ایف پی نے جب البریج میں حملے اور امدادی مرکز کے قریب فائرنگ کے بارے میں جاننے کے لیے اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا، تو اسے بتایا گیا کہ فوج ان معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے۔
(جاری ہے)
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے گزشتہ روز غزہ پٹی میں دہشت گردوں کے درجنوں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ان میں دہشت گرد، فوجی ڈھانچے، مشاہدے اور سنائپر پوسٹیں شامل ہیں جو علاقے میں آئی ڈی ایف کے فوجیوں کے لیے خطرہ ہیں اور اس کے علاوہ سرنگیں اور دہشت گردوں کے اضافی بنیادی ڈھانچے کے مقامات بھی۔
رواں ماہ کے اوائل میں اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔ امریکہ سمیت متعدد ممالک بطور ثالث جنگ بندی پر زور دے رہے ہیں جو ابھی تک ممکن نہیں ہوئی۔
غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکہ کی نئی تجاویزاسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے غزہ پٹی میں 60 روزہ جنگ بندی کی نئی تجویز پیش کی ہے، جس میں 10 یرغمالیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔
تجاویز کے نئے مسودے کے مطابق یرغمالیوں کو ایک ہفتے کے اندر اندر دو گروپوں میں رہا کیا جائے گا۔ اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے فلسطینی انتہا پسند گروپ حماس کو غزہ میں اس کے پاس موجود 18 مغوی اسرائیلیوں کی لاشیں بھی واپس کرنا ہوں گی۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق دو ماہ دورانیے کی اس جنگ بندی سے اسرائیل اور حماس کے درمیان تقریبا 20 ماہ سے جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں مدد ملے گی۔
اگر اسرائیل اور حماس کسی معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو غزہ پٹی میں قید باقی یرغمالیوں کو تازہ ترین تجویز کے تحت رہا کیا جائے گا۔
تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزہ پٹی میں امداد کی تقسیم کو ایک بار پھر اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں سنبھالیں گی۔
تجویز کے مطابق اسرائیلی فوج مارچ میں نئے سرے سے حملوں کے آغاز سے قبل کی اپنی پوزیشنوں پر واپس چلی جائے گی۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق غزہ پٹی میں کم از کم 20 اسرائیلی یرغمالی اب بھی زندہ ہیں، جبکہ تین دیگر کی صورتحال واضح نہیں ہے۔وٹکوف نے بدھ 28 مئی کو وائٹ ہاؤس میں غزہ کی جنگ میں ممکنہ جنگ بندی کے بارے میں امید کا اظہار کیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ جنگ بندی اور تنازعے کے طویل المدتی پرامن حل کے بارے میں ''بہت اچھے جذبات‘‘ رکھتے ہیں۔
غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 54 ہزار سے زائدحماس کے زیر انتظام غزہ پٹی کی وزارت صحت نے جمعرات کے روز کہا کہ 18 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے دو ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اس فلسطینی علاقے میں اب تک کم از کم 3,986 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد اس جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد بھی اب 54,249 ہو گئی ہے، جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔
غزہ کی جنگ کا آغاز سات اکتوبر 2023 کو فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کی طرف سے اسرائیل کے اندر کیے جانے والے ایک بڑے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہوا تھا۔
اسرائیل کی سرکاری طور پر جاری کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کردہ اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق حماس کے اس حملے کے نتیجے میں 1,218 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔ اس دوران 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ پٹی بھی لے جایا گیا تھا۔ ان میں سے 57 اب بھی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے 34 اسرائیلی فوج کے مطابق اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادارت: مقبول ملک، رابعہ بگٹی
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے افراد ہلاک ہو اسرائیلی فوج غزہ پٹی میں کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔