بھارت کی دفاعی کوتاہیاں اور اندرونی بدعنوانیاں ایک بار پھر عالمی سطح پر بے نقاب ہو گئیں، بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل اے پی سنگھ نے بھارت کے دفاعی خریداری کے عمل میں شدید خامیوں کا سرعام اعتراف کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں:معرکہ بنیان مرصوص: کانگریسی رہنما نے بھارت کی عبرتناک شکست تسلیم کر لی

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ایئر چیف اے پی سنگھ نے کہا کہ ٹائم لائنز کا تصور ختم ہو چکا، بھارت میں کوئی بھی بڑا دفاعی منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ معاہدے کے تحت بہت سے سسٹم کبھی بھی ڈیلیور نہیں کیے جاسکتے، پھر بھی معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ معاہدے ہو جاتے ہیں، لیکن ہتھیار نہیں پہنچتے۔

انہوں نے آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی فوجی قیادت کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ ایئر چیف نے تسلیم کیا کہ جدید جنگ کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے اور اس میں اسٹریٹجک تبدیلی کی ضرورت ہے۔

بھارتی فضائیہ کے سربراہ کی غیر معمولی عوامی تنقید نے بھارت کے دفاعی شعبے کی شفافیت، کارکردگی اور تیاری پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کے بعد آپریشن سندور شروع کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں، پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) نے جوابی کارروائی کی اور مبینہ طور پر 6 بھارتی طیاروں کو مار گرایا، جس میں رافیل جیٹ طیارے بھی شامل تھے۔ اس فضائی لڑائی نے بھارت کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایئر مارشل اے پی سنگھ بھارتی ایئرچیف مارشل بھارتی فضائیہ دہلی حکومت مودی سرکار.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی ایئرچیف مارشل بھارتی فضائیہ دہلی حکومت مودی سرکار بھارتی فضائیہ بھارت کی نے بھارت

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان