—فائل فوٹو

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سویلین کے کورٹ مارشل کو کالعدم قرار دینے کا اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

عدالتِ عظمیٰ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے پانچ دو  کی اکثریت سے سویلین کے کورٹ مارشل کو درست قرار دیا تھا۔

اقلیتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ‎ تاثر قائم کیا گیا ہے جیسے سول عدالتیں دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔

اقلیتی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ تاثر دیا گیا جیسے مسئلے کا حل صرف کورٹ مارشل کے ذریعے ہی ممکن ہے، حقیقت یہ ہے کہ کورٹ مارشل صرف اُن افراد کا ہو سکتا ہے جو پاکستان آرمی ایکٹ کے ماتحت ہوں، کورٹ مارشل صرف ان افراد کے خلاف کارروائی کے لیے قائم کیے جاتے ہیں جو فوجی جرائم یا عمومی جرائم کے مرتکب ہوں۔

یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ نے آرمی ایکٹ کو اسکی اصل شکل میں بحال کردیا

عدالتِ عظمیٰ نے اقلیتی فیصلے میں کہا ہے کہ ‎فوجی عدالتوں کے پاس دہشت گردی یا دیگر فوجداری نوعیت کے مقدمات سننے کا اختیار نہیں ہوتا، 2015ء میں ملک میں جنگی صورتِ حال تھی، قانون ساز ادارے نے کورٹ مارشل کا دائرہ اختیار دہشت گردی کے مقدمات تک بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

اقلیتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون ساز ادارے نے اس مقصد کے لیے 2015ء میں 21 ویں آئینی ترمیم متعارف کروائی،  پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کی گئی اور کورٹ مارشل کو ایک مخصوص مدت یعنی 2019ء تک اختیار دیا گیا، ‎اس مدت کے بعد کورٹ مارشل کو غیر فوجی افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل نہیں رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے اقلیتی فیصلے میں کہا ہے کہ ‎دنیا کے کسی بھی ملک میں دہشت گردی کے مقدمات کورٹ مارشل میں نہیں چلائے جاتے، ‎سپریم کورٹ فوجداری عدالتوں کے فیصلوں کا باقاعدگی سے عدالتی جائزہ لیتی ہے، ‎موجودہ اپیلیں وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور بلوچستان حکومت نے دائر کی ہیں،‎ بد قسمتی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان حکومتوں نے فوجداری عدالتوں پر سے اعتماد کھو دیا ہے۔

اقلیتی فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ کا کہنا ہے کہ ان منتخب حکومتوں نے سیاسی اثرات سے پاک تفتیشی نظام کی اصلاح کی بجائے فوجداری عدالتوں پر عدم اعتماد کیا، فوجداری عدالتوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کورٹ مارشل پر ایک غیر ضروری بوجھ ڈال دیا گیا، ‎فوجی افسران کے پاس فوجداری مقدمات کو سننے اور سخت سزاؤں کا فیصلہ کرنے کا عدالتی تجربہ نہیں ہوتا۔

عدالت نے اقلیتی فیصلے میں کہا ہے کہ کورٹ مارشل کو ان عدالتی افسران کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا، جو قانون کے ماہر ہوتے ہیں، حکومتیں دہشت گردی کے اسباب ختم کرنے کی بجائے اپنے مقاصد کورٹ مارشل کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، ‎فوجداری عدالتوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بغیر شواہد کے کسی کو سزا دیں قانون کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہو گی، ‎اگر استغاثہ کے پاس شواہد ہی موجود نہیں تو پھر عدالت سزا کیسے دے سکتی ہے؟

سپریم کورٹ نے اقلیتی فیصلے میں کہا ہے کہ اگر مقدمات کی تفتیش درست انداز میں کی جائے اور ثبوت مضبوط ہوں تو مجرم کا سزا سے بچنا ممکن نہیں، ‎ان اپیلوں میں کچھ ایسے افراد نے بھی درخواست دائر کی جن کے خلاف کورٹ مارشل میں مقدمات چل رہے تھے، ‎ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کورٹ مارشل کو عام شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کا اختیار نہیں، 9 مئی 2023ء کے واقعات میں ملوث قرار دیے گئے افراد کو سنائی گئی سزائیں دائرہ اختیار سے باہر ہیں، 9 مئی 2023ء کے واقعات میں ملوث افراد کو سنائی گئی سزاؤں کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: فوجداری عدالتوں کورٹ مارشل کو سپریم کورٹ نے کے خلاف

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری

گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.

 قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد