ہانگ کانگ‘ کابل‘ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ خبر نگار خصوصی) پاکستان نے ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی تنظیم کے قیام کی کنونشن پر دستخط کر دیئے۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستان کی جانب سے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی ثالثی تنظیم کے کنونشن پر دستخط کئے۔ اسحاق ڈار نے تقریب سے خطاب میں چین کے وژن کو سراہا۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق چین  عالمی ثالثی تنظیم کو اقوام متحدہ کی عالمی عدالت انصاف کے ہم پلہ ادارہ بنانے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ہانگ کانگ کی بین الاقوامی ساکھ کو مضبوط کرنا اور اسے عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک مرکز کے طور پر ابھارنا ہے۔ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے کہا کہ نئی ثالثی تنظیم عالمی عدالت انصاف اور دی ہیگ میں قائم اقوام متحدہ کی ثالثی عدالت کے مساوی حیثیت رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ہانگ کانگ کو بین الاقوامی تنازعات کے حل کا ایک معتبر مرکز بنانے میں مدد ملے گی۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق کنونشن کی دستخطی تقریب میں چین‘ انڈونیشیا، پاکستان، لاؤس، کمبوڈیا اور سربیا سمیت کئی ممالک شریک ہوئے جبکہ ہانگ کانگ کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق اقوام متحدہ سمیت 20 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی تقریب میں شریک تھے۔ اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ اور جان لی سے ملاقاتیں کی ہیں۔ نئی تنظیم کا صدر دفتر ہانگ کانگ کے مصروف علاقے وان چائی میں ایک سابق پولیس سٹیشن میں قائم کیا جائے گا اور اسے رواں سال کے آخر یا 2026 کے اوائل میں باضابطہ طور پر کھولے جانے کا امکان ہے۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔ ہانگ کانگ میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کی کوششیں جنوبی ایشیا میں آبی امن کے لیے خطرہ ہیں اور یہ عمل عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ  پاکستان اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر بین الاقوامی فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا۔ کشمیریوں کو استصواب رائے ملنے تک مسئلہ کشمیر تنازعہ بنا رہے گا۔ اس کا حل ناگزیر ہے۔ عالمی سطح پر مؤقف اجاگر کرتے رہیں گے۔ دریں اثناء نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کابل میں پاکستان کے ناظم الامور کو سفیر کی سطح تک اپ گریڈ کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ پر نائب وزیراعظم نے کہا کہ اس سال 19 اپریل کو پاکستانی وفد کے ساتھ کابل کے میرے انتہائی نتیجہ خیز دورے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے مجھے حکومت پاکستان کے کابل میں اپنے چارج ڈی افیئرز کی سطح کو سفیر کی سطح تک اپ گریڈ کرنے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ قدم باہمی روابط میں مزید اضافہ کرے گا۔ اقتصادی، سکیورٹی، سی ٹی اور تجارتی شعبوں میں پاک افغان تعاون کو مزید گہرا کرے گا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان مزید تبادلوں کو فروغ دے گا۔ اس حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ قدم پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے‘ معیشت‘ سلامتی‘ انسداد دہشت گردی اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرے گا۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کے فروغ اور دوطرفہ روابط کی توسیع میں بھی کردار ادا کرے گا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں تک دیرینہ تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی صورتحال علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے، جموں و کشمیر کا حل طلب تنازعہ جنوبی ایشیا میں تنازعات کا بنیادی ذریعہ بنا ہوا ہے، پاکستان اور چین ہمیشہ اس یقین کے حامل رہے ہیں کہ عالمی امن، استحکام اور ترقی کے لیے کثیرالجہتی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق جمعہ کو چین کے خصوصی انتظامی علاقے ہانگ کانگ میں بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی (آئی او ایم ای ڈی) کی دستخطی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو آئی او ایم ای ڈی کے بانی ارکان میں شامل ہونے پر فخر ہے۔ نائب وزیراعظم نے عوامی جمہوریہ چین کو تقریب کی میزبانی کرنے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کو آگے بڑھانے اور ایک مشترکہ تصور کو عملی حقیقت میں تبدیل کرنے میں چینی قیادت کا اہم کردار چینی دانش مندی کا امتحان ہے۔ آج کی دستخطی تقریب بین الاقوامی ثالثی اور سفارتکاری کے دائرے میں ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔ تقریب کثیر الجہتی اور ثالثی کے اصولوں کی حمایت کے لئے ایک اہم عالمی ادارے کی پیدائش کی بھی علامت ہے۔ یہ اقدام مجھے چین کی جانب سے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی)کے قیام کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی او ایم ای ڈی کا قیام ثالثی کی دنیا میں اتنا ہی غیر معمولی قدم ہے جتنا اے آئی آئی بی فنانس کی دنیا میں تھا۔ ہانگ کانگ کو نئی قائم شدہ تنظیم کے صدر دفتر کے طور پر منتخب کرنا بھی قابل تعریف ہے۔ ہانگ گانگ ایک ’’سپر کنیکٹر‘‘ اور ’’سپر ویلیو ایڈر‘‘ کے طور پر مشرق کو مغرب سے ملانے والا متحرک شہر ہے۔ پاکستان نے تجارتی اور سرمایہ کاری تنازعات کے حل اور عدالتی کارکردگی کے فروغ کے لئے بین الاقوامی ثالثی مرکز (آئی ایم اے سی) قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئی او ایم ای ڈی کے سیکرٹریٹ اور آئی ایم اے سی آف پاکستان کے ساتھ تعاون کے منتظر ہیں نائب وزیراعظم نے کہا کہ ثالثی، سفارت کاری، مکالمہ اور بین الاقوامی تعاون اس جامع نقطہ نظر کے اہم ستون ہیں۔ آج جب میں یہاں آپ سے مخاطب ہوں تو نسلِ نو کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کا خواب پہلے سے کہیں زیادہ دور دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت پاپولزم اور الٹرا نیشنلزم کی یک طرفہ قوتیں پوری طرح سے متحرک ہیں۔ مکالمے اور ثالثی کے بجائے تنازعات اور تفرقہ انگیز بیان بازی شہ سرخیوں پر حاوی ہیں۔ 1960ء کے سندھ طاس معاہدے جیسے بین الاقوامی معاہدوں کو موخر کرکے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئی اور خطرناک مثالیں قائم کی جا رہی ہیں۔ جارحیت کی یہ غیر منصفانہ کارروائیاں بین الاقوامی برادری کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات کرنے کے مطالبے کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے کی گئیں۔ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ جیسا کہ اس تنظیم کے قیام سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کبھی بھی اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں اور طاقت کے من مانے استعمال کو معمول کا رویہ نہیں سمجھے گی۔ جموں و کشمیر کا حل طلب تنازعہ جنوبی ایشیا میں تنازعات کا بنیادی ذریعہ بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اس دیرینہ تنازعے کے فوری حل کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں ان نئے اور ابھرتے چیلنجوں کو تسلیم کرنا ہوگا جو جغرافیائی، بین الاقوامی اور تکنیکی فریم ورک سے بالاتر ہیں۔ ہمیں ان نئے اور ابھرتے چیلنجز کا ادراک ہونا چاہیے جو جغرافیائی، بین الاقوامی اور تکنیکی حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے نئے جذبے اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ اس ضمن میں صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اقوام متحدہ پر مبنی امن و سلامتی کے نظام کو تقویت دینے میں منفرد قدر رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کو بااختیار بنائیں گے تاکہ یہ امن، انصاف اور مساوات کے فروغ میں اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کرسکے۔ محمد اسحاق ڈار نے جمعہ  کو چین کے خصوصی انتظامی علاقے ہانگ کانگ میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے سیاسی بیورو کے رکن اور عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان 10 دنوں میں یہ دوسری ملاقات ہے۔ نائب وزیراعظم نے بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کے قیام کے کنونشن پر دستخط کی کامیاب تقریب پر وزیر خارجہ وانگ یی کو مبارکباد دی۔ وزیر خارجہ وانگ یی نے دستخط کی تقریب میں شرکت پر نائب وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں فریقوں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان آہنی دوستی اور ہمہ موسمی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے فریقین نے دوطرفہ تعلقات اور تبادلوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے موجودہ رفتار کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: عالمی ثالثی تنظیم محمد اسحاق ڈار نے انہوں نے کہا کہ ا ا ئی او ایم ای ڈی اسحاق ڈار نے کہا ہانگ کانگ میں بین الاقوامی نے کہا کہ اس اقوام متحدہ پاکستان اور کی جانب سے کرتے ہوئے کے درمیان تنظیم کے کے مطابق کو مزید کرنے کے میں چین کے قیام کرے گا کے لیے چین کے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار