انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن ،لوکل سگریٹ ساز کمپنیز کی ملکی تشہیری قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)لوکل سگریٹ ساز کمپنیاں ملکی قوانین دھوئیں میں اڑانے لگیں۔لوکل سگریٹ ساز کمپنیز کی ملکی تشہیری قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں جاری۔ ذرائع کے مطابق حکومتی ادارے سگریٹ تشہری قوانین پر عملدرآمد کروانے میں ناکام۔لوکل سگریٹ کمپنی کی جانب سے صارفین کو سگریٹ پیکٹ کی خریداری پر دبئی کا ریٹرن ٹکٹ کا انعام ۔
لوکل سگریٹ کمپنیز کی صارفین کو موٹرسائیکل، موبائل فون، کیش پرائز کی آفرز امتناع تمباکو قوانین 2002 کے سگریٹ تشہیر کے لیے تمام انعامات غیر قانونی ہیں۔وزارت صحت کے قوانین کے تحت صارفین کو سگریٹ، کیش پرائز، انعامات غیر قانونی ہے۔ملک بھر میں لوکل سگریٹ برانڈز انتہائی سستی داموں دستیاب ہیں۔حکومت نے سگریٹ پیکٹ کی کم از کم قیمت 162.
لوکل سگریٹ ساز کمپنیوں کے سگریٹ برانڈ 100 روپے سے 150 روپے میں دستیاب ہے۔مقامی سگریٹ کمپنیاں ٹیکس چوری کر کے سستے سگریٹ فروخت کرتی ہیں۔لوکل سگریٹ ساز کمپنیز کی بڑی مارکیٹ اندرون، پنجاب، سندھ ہیں۔مقامی ٹیکس چوری والے سگریٹ کی فروخت سے خزانے کو سالانہ اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔
مقامی سگریٹ کمپنیاں سستے سگریٹ اور غیر قانونی تشہیر کمپینوں سے نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی پر راغب کر رہی ہیں۔مقامی سگریٹ کمپنیوں کے مالکان سینٹ اور قومی اسمبلی کی وزارت صحت اور دوسری متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے ممبر ہیں۔ سیاسی اثر رسوخ کی وجہ سے حکومتی ادارے ان مقامی سگریٹ کمپنیوں کے خلاف ایکشن نہیں لیتے۔ لوکل اور بین اللقوامی این جی آوز مقامی سگریٹ کمپنیوں کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزیوں پر مکمل خاموش ۔
بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کراچی والوں کا پارہ ہائی، شدید احتجاج، ہائی وے بند
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مقامی سگریٹ کمپنیز کی
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔