روندو کو دو حلقوں میں تقسم کیا جائے، وزیر امتیاز
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
تحریک انصاف گلگت بلتستان کے رہنما نے کہا کہ روندو کی آبادی بھی ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، یہ ضلع گلگت بلتستان میں دشوار گزار اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ تحریک انصاف گلگت بلتستان کے رہنما وزیر امتیاز نے کہا ہے کہ روندو ایک دشوار گزار ضلع ہے، اس لیے اس ضلع کو دو حلقوں میں تقسیم کیا جائے۔ اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روندو کی آبادی بھی ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، یہ ضلع گلگت بلتستان میں دشوار گزار اضلاع میں شمار ہوتا ہے، ہر ایک گاؤں کے درمیان ایک نالہ یا پہاڑ آتا ہے۔ اس صورتحال میں کسی بھی انتظامی و عوامی معاملے کو حل کرنے کیلئے دشواریاں پیش آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہہلے سے مطالبہ رہا ہے کہ روندو کو دو حلقوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ یہاں کے مسائل حل ہوں۔ اس لیے آئندہ ہفتوں میں دیگر جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر کے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا اور باقاعدہ تحریک کی شکل دینگے۔ انہوں نے دیگر جماعتوں کو بھی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اس معاملے پر بھرپور آواز اٹھائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کہ روندو نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے غیر قانونی استعمال اور فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قابلِ سزا جرم ہے، کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو سکتی ہے، جس کی قانونی ذمہ داری بھی سم ہولڈر پر عائد ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کی باقاعدگی سے جانچ کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز یا غیر ضروری سم کی بروقت نشاندہی کرکے اسے بلاک کرایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ اگر کسی صارف کے نام پر ایسی سم رجسٹرڈ ہو جس کے بارے میں وہ لاعلم ہو یا جس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے بند کرایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکا دہی یا غیر قانونی استعمال سے بچا جا سکے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ نئی سم ہمیشہ متعلقہ موبائل کمپنی کی مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کی جائے اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم رجسٹرڈ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا کہ "مفت سم" یا دیگر پرکشش پیشکشوں کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہ کرائیں، کیونکہ دھوکے باز عناصر اس عمل کے ذریعے آپ کے نام پر اضافی سمز جاری کرا سکتے ہیں، جو بعد ازاں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہو سکتی ہیں۔پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ موبائل استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔