Express News:
2026-07-24@07:38:06 GMT

حقیقتیں

اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT

پرورش
ماں نے آٹھ بچے پال پوس کر جوان کیے لیکن آٹھ بچے مل کر ماں کو چار سال نہ پال سکے۔
بے چھت
زلزلہ آیا پورا شہر مر گیا‘ صرف میں بچا‘ کیوں؟ کیونکہ میرے سر پر چھت نہیں تھی اور زلزلے بے چھت لوگوں کو کچھ نہیں کہتے۔
علاج
میں ڈاکٹر بدلتا رہا‘ میں دوائیں بھی تبدیل کرتا رہا لیکن شفاء نصیب نہ ہوئی‘ مجھے آخر میں پتہ چلا‘ خرابی دوائوں اور ڈاکٹروں میں نہیں تھی‘ نقص مجھ میں تھا‘ میں بزدلی کے مرض میں مبتلا ہوں اور بزدل مریضوں کو کسی دواء کسی ڈاکٹر سے شفاء نہیں ہوتی۔
انصاف
جج نے چور سے کہا ’’تم پر چوری ثابت نہیں ہو سکی‘ تمہیں باعزت بری کیا جاتا ہے‘‘ چور نے ہاتھ جوڑ کر پوچھا ’’جناب کیا میں اب چوری کی سائیکل استعمال کر سکتا ہوں‘‘۔
باپ
انسان کو اس وقت تک بچہ پیدا نہیں کرنا چاہیے جب تک وہ باپ بننا نہ سیکھ لے۔
پکی چھت
جو شخص اپنا فرش پکا نہیں کر تا‘ اسے کبھی پکی چھت نصیب نہیں ہوتی۔
کام یابی
جو لوگ کام یاب نہیں ہونا چاہتے‘ کام یابی کبھی ان پر ترس نہیں کھاتی۔
میل
جو لوگ دولت کو ہاتھ کی میل سمجھتے ہیں‘ دولت بھی ان کے ساتھ وہ سلوک کرتی ہے جو صابن میل کے ساتھ کرتا ہے۔
ککھ پتی
وہ ایک ایک روپیہ جمع کرتا رہا‘ وہ لکھ پتی بن گیا‘ میں ایک ایک روپیہ خرچ کرتا رہا ‘ میں ککھ پتی ہو گیا۔
کان
میں نے اپنے پیٹ کو ہزاروں دلیلیں لیکن یہ نہ مانا‘ میں نے تنگ آ کر اس پر ہاتھ پھیرا تو مجھے پتہ چلا میرے پیٹ کے کان ہی نہیں ہیں‘ یہ بے چارہ کیسے سنتا!
اعلیٰ ظرف
وہ زندگی کے آخری حصے میں کثرت سے دعا کیا کرتے ہیں’’یا باری تعالیٰ! مجھے پھل دار درختوں جتنا ظرف عطا فرما دے‘‘ ہم پوچھتے تھے’’باباجی یہ خواہش کیوں؟‘‘ وہ جواب دیتے تھے’’میں نے آج تک کسی کو پھل دار درختوں سے زیادہ اعلیٰ ظرف نہیں پایا‘‘۔ ہم پوچھتے تھے ’’کیسے؟‘‘ وہ جواب دیتے تھے ’’ہم درختوں کو پتھر مارتے ہیں‘ یہ بے چارے زخمی ہو جاتے ہیں لیکن جواب میں اپنا میٹھا ترین پھل ہماری طرف اچھال دیتے ہیں‘ مجھے انسانوں میں کوئی اتنا اعلیٰ ظرف شخص دکھا دو‘‘۔
نصیب
میں جھونپڑی میں رہتا تھا تو روز بارش ہوتی تھی‘ میں نے چھت پکی کر لی تو بارشیں بھی بند ہو گئیں۔
انصاف
حضرت موسیٰ ؑ نے اﷲ سے پوچھا ’’یا باری تعالیٰ فرعون خدائی کا دعوے دار تھا لیکن تم نے اس کے باوجود اس کی رسی دراز رکھی‘‘ اﷲ تعالیٰ نے جواب دیا ’’موسیٰ! فرعون انصاف پسند تھا‘ میں اسے کیسے برباد کر دیتا‘‘۔
خسارہ
میں نے اس کی نئی قمیض گندی کرنے کے لیے کیچڑ اٹھایا لیکن اس کی قمیض گندی ہونے سے پہلے میرے ہاتھ گندے ہو گئے۔
ہڑتال
میرے شہر کی تمام گھڑیوں نے ہڑتال کر دی لیکن وقت کی دکان اس کے باوجود کھلی رہی۔
خوشی
مانگنے والے نے مہاتما بودھ سے کہا ’’مجھے خوشی چاہیے‘‘ بودھ نے مسکرا کر جواب دیا ’’میرے بچے تمہارے مطالبے میں دو چیزیں اضافی ہیں‘‘ مانگنے والے نے پوچھا ’’کیا‘‘ بودھ نے جواب دیا ’’مجھے اور چاہیے‘‘ ۔ مانگنے والا حیرت سے دیکھنے لگا‘ بودھ نے جواب دیا ’’تم مجھے اور چاہیے نکال دو‘ پیچھے خوشی رہ جائے گی‘‘۔
نظریہ ضرورت
سیدزادی کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے‘ شمر کا فوجی آگے بڑھا‘ بچی کا ہاتھ پکڑا اور کنگن اتارنے لگا‘ وہ کنگن اتارتا جاتا تھا اور روتا جاتا تھا‘ بچی نے پوچھا ’’ چچاتم کیوں رو رہے ہو؟‘‘ فوجی نے جواب دیا ’’مجھ سے آل ِ رسولؐ کا یہ دکھ دیکھا نہیں جاتا‘‘ بچی نے کہا ’’تم پھر میرے کنگن کیوں اتار رہے ہو‘‘ اس نے جواب دیا ’’بی بی کنگنوں کا اترنا لازم ہو چکا ہے‘ یہ میں نہیں اتاروں گا تو کوئی اور اتار لے گا‘‘۔
گدھا نہ ہو کہیں کا
کمہار کا باپ مر گیا‘ کمہار گدھے کو شہر لے گیا‘ ختم کے لیے راشن خریدااور گدھے بیچارے کو راشن ڈھونا پڑ گیا‘کمہار کی بیٹی کی شادی آئی‘ گدھا کئی دن تک جہیز ڈھوتا رہا‘ گدھے نے ایک دن سوچا ’’ہم بھی کیا مخلوق ہیں‘ انسانوں کی خوشی ہو یا غمی ‘بوجھ بہرحال ہمیں ہی اٹھانا پڑتا ہے‘‘۔
اشرف المخلوقات
جانوروں نے ایک دن اﷲ سے شکوہ کیا ’’بھینسیں اپنے بچھڑوں کے لیے دودھ دیتی ہیں لیکن انسان پی جاتا ہے‘ مرغیاں اپنی نسل بڑھانے کے لیے انڈے دیتی ہیں لیکن انسان کھا جاتا ہے اور بھیڑ بکریاں اپنی افزائش کے لیے میمنے جنتی ہیں لیکن انسان انھیں بھی چٹ کر جاتا ہے ’’اﷲ نے پوچھا ’’پھر‘‘ جانوروں نے کہا ’’یا باری تعالیٰ !انسان اس کے باوجود اشرف المخلوقات ہے اور ہم جانور‘ کیا یہ ظلم نہیں‘‘۔
انسان کی موت
کراچی میں گولی چل رہی تھی‘ کتے کے پلے نے کچرہ گھر سے باہر جھانکنے کی کوشش کی‘ کتیا نے اسے پنجہ مار کر کہا ’’بے وقوف‘ سر اندر رکھو! کیوں انسان کی موت مرنا چاہتے ہو‘‘ اور پلے نے گھبرا کر ماں کے پیچھے پناہ لے لی۔
اگنور
میں نے شکوہ کیا ’’لوگ آج کل مجھے بہت برا بھلا کہتے ہیں‘‘ وہ ہنسے اور کہا ’’یہ برا بھلا اس سے سو گنا اچھا ہے کہ لوگ تمہیں کچھ بھی نہ کہیں‘ تمہیں اگنور کرکے گزر جائیں‘‘۔
رزق
گورکن نے اپنی بیوی سے کہا ’’یہ ڈاکٹر جب سے آیا ہے‘ ہمارا رزق تنگ ہو گیا‘ آئو مل کر اس کے لیے بددعا کریں‘‘اور بیوی نے جھولی پھیلا کر دہائی دی ’’جا ڈاکٹر ‘ اﷲ تمہیں غارت کرے‘‘۔
فیڈ بیک
لڑکے نے فون پر پوچھا ’’سر کیا آپ کو اچھا ڈرائیور چاہیے‘‘ دوسری طرف سے جواب آیا ’’میرے پاس بہت اچھا ڈرائیور موجود ہے‘‘ لڑکے نے کہا ’’سر میں آدھی تنخواہ پر کام کرنے کے لیے تیار ہوں‘‘ جواب ملا ’’نہیں شکریہ! آپ اگر مفت بھی کام کریں تو بھی میں اپنا ڈرائیور نہیں چھوڑوں گا‘‘ فون بند ہو گیا‘ پی سی او کا مالک سن رہا تھا‘ اس نے افسوس سے کہا ’’بیٹا ہمت نہیں ہارنی‘ تمہیں نوکری ضرور ملے گی‘‘ لڑکے نے قہقہہ لگایا اور بولا ’’میں ان کا ڈرائیور ہوں‘ میں صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا‘ کیا یہ لوگ میرے کام سے مطمئن ہیں؟‘‘
اردو
میں نے رخصت ہونے سے پہلے میزبان سے کہا ’’خان صاحب ماشاء اﷲ آپ کی اردو بہت اچھی ہے‘‘ میزبان سادہ سا دیہاتی تھا‘ اس نے تھوڑی دیر سوچا اور پھر پوری سنجیدگی سے جواب دیا ’’نہیں سر!آپ ویسے ہی بکواس کر رہے ہیں‘‘۔
مسائل
میں نے عرض کیا ’’میںمسائل میں گھرا ہوا ہوں‘‘ انھوں نے مسکرا کر جواب دیا ’’مسائل زندگی کی علامت ہیں‘ آپ زندہ ہیں تو مسئلے رہیں گے‘‘ وہ رکے اور پھر آہستہ سے بولے ’’دنیا میں صرف ایک جگہ ہے جہاں کوئی مسئلہ نہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’کون سی جگہ‘‘ وہ بولے ’’قبرستان‘‘۔
کاروبار
میں نے پوچھا’’کیا میں کاروبار کر سکتا ہوں‘‘ وہ بولے ’’ہاں اگر آپ 24 میں سے 16 گھنٹے مسکرا سکتے ہیں تو!‘‘
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے جواب دیا ہیں لیکن نے پوچھا نہیں ہو جاتا ہے سے کہا کے لیے

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف