Express News:
2026-06-03@07:01:36 GMT

حقیقتیں

اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT

پرورش
ماں نے آٹھ بچے پال پوس کر جوان کیے لیکن آٹھ بچے مل کر ماں کو چار سال نہ پال سکے۔
بے چھت
زلزلہ آیا پورا شہر مر گیا‘ صرف میں بچا‘ کیوں؟ کیونکہ میرے سر پر چھت نہیں تھی اور زلزلے بے چھت لوگوں کو کچھ نہیں کہتے۔
علاج
میں ڈاکٹر بدلتا رہا‘ میں دوائیں بھی تبدیل کرتا رہا لیکن شفاء نصیب نہ ہوئی‘ مجھے آخر میں پتہ چلا‘ خرابی دوائوں اور ڈاکٹروں میں نہیں تھی‘ نقص مجھ میں تھا‘ میں بزدلی کے مرض میں مبتلا ہوں اور بزدل مریضوں کو کسی دواء کسی ڈاکٹر سے شفاء نہیں ہوتی۔
انصاف
جج نے چور سے کہا ’’تم پر چوری ثابت نہیں ہو سکی‘ تمہیں باعزت بری کیا جاتا ہے‘‘ چور نے ہاتھ جوڑ کر پوچھا ’’جناب کیا میں اب چوری کی سائیکل استعمال کر سکتا ہوں‘‘۔
باپ
انسان کو اس وقت تک بچہ پیدا نہیں کرنا چاہیے جب تک وہ باپ بننا نہ سیکھ لے۔
پکی چھت
جو شخص اپنا فرش پکا نہیں کر تا‘ اسے کبھی پکی چھت نصیب نہیں ہوتی۔
کام یابی
جو لوگ کام یاب نہیں ہونا چاہتے‘ کام یابی کبھی ان پر ترس نہیں کھاتی۔
میل
جو لوگ دولت کو ہاتھ کی میل سمجھتے ہیں‘ دولت بھی ان کے ساتھ وہ سلوک کرتی ہے جو صابن میل کے ساتھ کرتا ہے۔
ککھ پتی
وہ ایک ایک روپیہ جمع کرتا رہا‘ وہ لکھ پتی بن گیا‘ میں ایک ایک روپیہ خرچ کرتا رہا ‘ میں ککھ پتی ہو گیا۔
کان
میں نے اپنے پیٹ کو ہزاروں دلیلیں لیکن یہ نہ مانا‘ میں نے تنگ آ کر اس پر ہاتھ پھیرا تو مجھے پتہ چلا میرے پیٹ کے کان ہی نہیں ہیں‘ یہ بے چارہ کیسے سنتا!
اعلیٰ ظرف
وہ زندگی کے آخری حصے میں کثرت سے دعا کیا کرتے ہیں’’یا باری تعالیٰ! مجھے پھل دار درختوں جتنا ظرف عطا فرما دے‘‘ ہم پوچھتے تھے’’باباجی یہ خواہش کیوں؟‘‘ وہ جواب دیتے تھے’’میں نے آج تک کسی کو پھل دار درختوں سے زیادہ اعلیٰ ظرف نہیں پایا‘‘۔ ہم پوچھتے تھے ’’کیسے؟‘‘ وہ جواب دیتے تھے ’’ہم درختوں کو پتھر مارتے ہیں‘ یہ بے چارے زخمی ہو جاتے ہیں لیکن جواب میں اپنا میٹھا ترین پھل ہماری طرف اچھال دیتے ہیں‘ مجھے انسانوں میں کوئی اتنا اعلیٰ ظرف شخص دکھا دو‘‘۔
نصیب
میں جھونپڑی میں رہتا تھا تو روز بارش ہوتی تھی‘ میں نے چھت پکی کر لی تو بارشیں بھی بند ہو گئیں۔
انصاف
حضرت موسیٰ ؑ نے اﷲ سے پوچھا ’’یا باری تعالیٰ فرعون خدائی کا دعوے دار تھا لیکن تم نے اس کے باوجود اس کی رسی دراز رکھی‘‘ اﷲ تعالیٰ نے جواب دیا ’’موسیٰ! فرعون انصاف پسند تھا‘ میں اسے کیسے برباد کر دیتا‘‘۔
خسارہ
میں نے اس کی نئی قمیض گندی کرنے کے لیے کیچڑ اٹھایا لیکن اس کی قمیض گندی ہونے سے پہلے میرے ہاتھ گندے ہو گئے۔
ہڑتال
میرے شہر کی تمام گھڑیوں نے ہڑتال کر دی لیکن وقت کی دکان اس کے باوجود کھلی رہی۔
خوشی
مانگنے والے نے مہاتما بودھ سے کہا ’’مجھے خوشی چاہیے‘‘ بودھ نے مسکرا کر جواب دیا ’’میرے بچے تمہارے مطالبے میں دو چیزیں اضافی ہیں‘‘ مانگنے والے نے پوچھا ’’کیا‘‘ بودھ نے جواب دیا ’’مجھے اور چاہیے‘‘ ۔ مانگنے والا حیرت سے دیکھنے لگا‘ بودھ نے جواب دیا ’’تم مجھے اور چاہیے نکال دو‘ پیچھے خوشی رہ جائے گی‘‘۔
نظریہ ضرورت
سیدزادی کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے‘ شمر کا فوجی آگے بڑھا‘ بچی کا ہاتھ پکڑا اور کنگن اتارنے لگا‘ وہ کنگن اتارتا جاتا تھا اور روتا جاتا تھا‘ بچی نے پوچھا ’’ چچاتم کیوں رو رہے ہو؟‘‘ فوجی نے جواب دیا ’’مجھ سے آل ِ رسولؐ کا یہ دکھ دیکھا نہیں جاتا‘‘ بچی نے کہا ’’تم پھر میرے کنگن کیوں اتار رہے ہو‘‘ اس نے جواب دیا ’’بی بی کنگنوں کا اترنا لازم ہو چکا ہے‘ یہ میں نہیں اتاروں گا تو کوئی اور اتار لے گا‘‘۔
گدھا نہ ہو کہیں کا
کمہار کا باپ مر گیا‘ کمہار گدھے کو شہر لے گیا‘ ختم کے لیے راشن خریدااور گدھے بیچارے کو راشن ڈھونا پڑ گیا‘کمہار کی بیٹی کی شادی آئی‘ گدھا کئی دن تک جہیز ڈھوتا رہا‘ گدھے نے ایک دن سوچا ’’ہم بھی کیا مخلوق ہیں‘ انسانوں کی خوشی ہو یا غمی ‘بوجھ بہرحال ہمیں ہی اٹھانا پڑتا ہے‘‘۔
اشرف المخلوقات
جانوروں نے ایک دن اﷲ سے شکوہ کیا ’’بھینسیں اپنے بچھڑوں کے لیے دودھ دیتی ہیں لیکن انسان پی جاتا ہے‘ مرغیاں اپنی نسل بڑھانے کے لیے انڈے دیتی ہیں لیکن انسان کھا جاتا ہے اور بھیڑ بکریاں اپنی افزائش کے لیے میمنے جنتی ہیں لیکن انسان انھیں بھی چٹ کر جاتا ہے ’’اﷲ نے پوچھا ’’پھر‘‘ جانوروں نے کہا ’’یا باری تعالیٰ !انسان اس کے باوجود اشرف المخلوقات ہے اور ہم جانور‘ کیا یہ ظلم نہیں‘‘۔
انسان کی موت
کراچی میں گولی چل رہی تھی‘ کتے کے پلے نے کچرہ گھر سے باہر جھانکنے کی کوشش کی‘ کتیا نے اسے پنجہ مار کر کہا ’’بے وقوف‘ سر اندر رکھو! کیوں انسان کی موت مرنا چاہتے ہو‘‘ اور پلے نے گھبرا کر ماں کے پیچھے پناہ لے لی۔
اگنور
میں نے شکوہ کیا ’’لوگ آج کل مجھے بہت برا بھلا کہتے ہیں‘‘ وہ ہنسے اور کہا ’’یہ برا بھلا اس سے سو گنا اچھا ہے کہ لوگ تمہیں کچھ بھی نہ کہیں‘ تمہیں اگنور کرکے گزر جائیں‘‘۔
رزق
گورکن نے اپنی بیوی سے کہا ’’یہ ڈاکٹر جب سے آیا ہے‘ ہمارا رزق تنگ ہو گیا‘ آئو مل کر اس کے لیے بددعا کریں‘‘اور بیوی نے جھولی پھیلا کر دہائی دی ’’جا ڈاکٹر ‘ اﷲ تمہیں غارت کرے‘‘۔
فیڈ بیک
لڑکے نے فون پر پوچھا ’’سر کیا آپ کو اچھا ڈرائیور چاہیے‘‘ دوسری طرف سے جواب آیا ’’میرے پاس بہت اچھا ڈرائیور موجود ہے‘‘ لڑکے نے کہا ’’سر میں آدھی تنخواہ پر کام کرنے کے لیے تیار ہوں‘‘ جواب ملا ’’نہیں شکریہ! آپ اگر مفت بھی کام کریں تو بھی میں اپنا ڈرائیور نہیں چھوڑوں گا‘‘ فون بند ہو گیا‘ پی سی او کا مالک سن رہا تھا‘ اس نے افسوس سے کہا ’’بیٹا ہمت نہیں ہارنی‘ تمہیں نوکری ضرور ملے گی‘‘ لڑکے نے قہقہہ لگایا اور بولا ’’میں ان کا ڈرائیور ہوں‘ میں صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا‘ کیا یہ لوگ میرے کام سے مطمئن ہیں؟‘‘
اردو
میں نے رخصت ہونے سے پہلے میزبان سے کہا ’’خان صاحب ماشاء اﷲ آپ کی اردو بہت اچھی ہے‘‘ میزبان سادہ سا دیہاتی تھا‘ اس نے تھوڑی دیر سوچا اور پھر پوری سنجیدگی سے جواب دیا ’’نہیں سر!آپ ویسے ہی بکواس کر رہے ہیں‘‘۔
مسائل
میں نے عرض کیا ’’میںمسائل میں گھرا ہوا ہوں‘‘ انھوں نے مسکرا کر جواب دیا ’’مسائل زندگی کی علامت ہیں‘ آپ زندہ ہیں تو مسئلے رہیں گے‘‘ وہ رکے اور پھر آہستہ سے بولے ’’دنیا میں صرف ایک جگہ ہے جہاں کوئی مسئلہ نہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’کون سی جگہ‘‘ وہ بولے ’’قبرستان‘‘۔
کاروبار
میں نے پوچھا’’کیا میں کاروبار کر سکتا ہوں‘‘ وہ بولے ’’ہاں اگر آپ 24 میں سے 16 گھنٹے مسکرا سکتے ہیں تو!‘‘
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے جواب دیا ہیں لیکن نے پوچھا نہیں ہو جاتا ہے سے کہا کے لیے

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود