مودی سرکار نے پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزام میں سکھ یوٹیوبر کو گرفتار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
بھارتی پولیس نے معروف سکھ یوٹیوبر جسبیر سنگھ کو گرفتار کرلیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی سکھ ایک مرتبہ پھر مودی سرکار کے نشانے پر ہیں اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بھارتی پولیس نے پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزام میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے معروف یوٹیوبر جسبیر سنگھ کو گرفتار کرلیا ہے۔
ڈی جی پی پنجاب گوراو یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ یوٹیوبر جسبیر سنگھ کا تعلق پاکستانی نیٹ ورک سے تھا، جو کہ جسبیر سنگھ، جوتی ملہوترا اور شاکر عرف جٹ نندوا کے رابطے میں تھا۔
گودی میڈیا بھی پاکستان اور سکھ برادری سے متعلق پروپگینڈا کرنے سے باز نہ آیا۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جسبیر سنگھ نے 2020، 2021 اور 2024 میں پاکستان کے دورے کیے اور اس کے موبائل سے پاکستان سے جڑے نمبرز برآمد ہوئے ہیں۔
بھارتی میڈیا نے جان محل یوٹیوب چینل کے خالق جسبیر سنگھ پر خفیہ نیٹ ورک کا حصہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جسبیر سنگھ کا احسان الرحیم عرف دانش سے بھی رابطہ تھا۔
واضح رہے کہ مودی سرکار ایک بار پھر سوشل میڈیا پر سکھ شناخت کے اظہار کو جاسوسی سے جوڑنے کی بھونڈی سازش کر رہی ہے۔ بھارتی حکومت نے سکھ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کارکنان کو نگرانی میں لے لیا ہے۔
یہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر سکھ شناخت کے اظہار پر اکاؤنٹس بند اور پوسٹس ڈیلیٹ کیے جارہے ہیں جبکہ ‘سکھ فار جسٹس’ کے حامیوں پر UAPA جیسے سخت قوانین کا اطلاق کیا جارہا ہے۔ خالصتان کا لفظ بولنے پر غداری کے مقدمات درج کئے جارہے ہیں اور بھارتی پنجاب میں عام سکھ شہریوں کو انٹیلیجنس واچ لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔