Juraat:
2026-07-24@05:12:53 GMT

جوکر مودی!

اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT

جوکر مودی!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گجرات انڈیا کے شہر بھوج میں بھوج پوری زبان میں پاکستان کو گیدڑ بھبھکیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ زندگی جیو،روٹی کھاؤورنہ میری گولی تو ہے ”آپریشن سندور صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ بھارت کی اقدار اور جذبات کی عکاسی تھی”۔اس نے مزید کہا کہ پہلگام کے بیہمانہ قتل کے بعد ”بھارت اور مودی کسی صورت خاموش نہیں بیٹھ سکتے تھے ۔بھارت کی ذلت آمیز شکست کے بعد مودی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا ہے اور بدحواسی میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے .

اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے اپنی انتہا پسند جنتا کو جھوٹے دلاسے دے رہا ہے ۔مودی پاکستان کی غیور بہادر عوام کو گولی سے ڈرا رہا ہے جبکہ اس کے میزائل اور بارود بھی حوصلہ کم نہیں کر سکے ۔مودی احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔
پاکستان کے ہاتھوں رافیل سمیت 6 طیارے اور 26 دفاعی تنصیبات تباہ کرانے اور ذلتیں سمیٹنے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بدحواس ہو گیا ہے ۔عوامی اجتماعات میں مودی فلمی ڈائیلاگ اور لطیفے سنا کر اپنی بیوقوف عوام کو محظوظ کر رہا ہے جبکہ پاکستانی عوام نے اس عمل کو غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی کہہ کر نظر انداز کر دیا ہے ۔اپنی آبائی ریاست گجرات کے شہر بھوج میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی کی وہ جھنجھلاہٹ باہر آگئی جو بھارتی فوج کو پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست پر انہیں لاحق ہو چکی ہے اور بھارتی وزیراعظم نے وہ الفاظ استعمال کر دیئے جو کسی بھی ملک کا سربراہ حکومت دوسرے ملک کے شہریوں کے لیے استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ جنگ میں بھی دشمن ملک کے شہریوں کو نقصان پہنچانا عالمی قوانین کے تحت جرم ہے ۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بھارت کے مقابلہ میں عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر غیر معمولی فتح دی اور آج پوری دنیا پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور عسکری طاقت کو تسلیم کررہی ہے ۔ معرکہ حق بُنیان مرصوص میں بھارت کی تاریخی شکست پر کانگریس رہنما نے عبرتناک انجام کا اعتراف کرتے ہوئے مودی سرکار کی پالیسیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
پاک فوج کے آپریشن بُنیان مرصوص میں بھارتی افواج کی تاریخی شکست کے بعد وہاں کی سیاست میں بھی بھونچال آ چکا ہے ۔ بھارت کی ذلت آمیز شکست پر کانگریس ایم ایل اے وجے واڈیٹیوار نے مودی اور بھارتی فوج پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں۔کانگریس کے ایم ایل اے وجے واڈیٹیوار نے مہنگی دفاعی خریداری اور بوسیدہ حکمت عملی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مودی سرکار پر زوردار وار کیا ہے اور انہوں نے مودی کی جنگی سوچ کو ناکام قرار دے دیا۔ کانگریس ایم ایل اے کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سستے ڈرونز بھارت بھیجے ، بھارت نے اربوں جھونک دیے ۔ چین نے پاکستان کو 5 ہزار ڈرونز دے کر بھارت کی کمزوری بے نقاب کر دی جب کہ مودی سرکار اربوں جھونکتی رہی۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے 15 ہزار کے ڈرون گرانے کے لیے 15 لاکھ کا میزائل فائر کیا۔ مودی سرکار کی جنگی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام اور 5 ہزار سستے پاکستانی ڈرونز کے سامنے بھارتی دفاع بے بس ثابت ہوگیا۔کانگریس رہنما نے بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں بدترین شکست کو مودی سرکار کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کم لاگت میں حملہ کیا جب کہ بھارت نے عوام کے ٹیکس کا پیسہ بے دریغ ضائع کیا۔ کانگریس ایم ایل اے نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے 3 سے 4 رافیل طیارے تباہ کر دیے ، مگر مودی سرکار کی مجرمانہ خاموشی بدستور برقرار ہے ۔ انہوں نے مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ رافیل سودے پر نعرے تھے ، اب نقصان چھپایا کیوں جا رہا ہے ؟
دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کی خود پسندی نے قومی سلامتی داؤ پر لگا دی ہے ۔ صرف مہنگے ہتھیار کافی نہیں، بھارتی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔ مودی سرکار کو پاکستان سے شکست پر ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، تجزیہ کار کہتے ہیں مودی نے دنیا بھر میں بھارت کی ناک کٹوادی، جنگ کے وقت بھی بھارت کے ساتھ کوئی ملک کھڑا نہیں تھا، مودی کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے مسلمان مخالف بیانیہ بھی اب دم توڑنے لگا ہے ۔پاکستان سے مبینہ جنگی شکست کے بعد نریندر مودی سرکار کو بھارت میں شدید عوامی ردعمل اور تجزیہ کاروں کی تنقید کا سامنا ہے ۔بھارتی میڈیا، عوام اور سیاسی حلقے مودی کی پالیسیوں اور قیادت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ایک معروف بھارتی تجزیہ کار نے کہا، پاکستان کے سامنے ہماری ناک کٹ گئی، مودی جنگ سے ڈرتے ہیں، اسی لیے ٹرمپ نے انہیں جنگ سے روک دیا۔ مودی کو ڈرپوک وزیراعظم قرار دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا کہ انہوں نے بھارت کو سفارتی تنہائی میں دھکیل دیا، جنگ کے وقت بھی بھارت کے ساتھ کوئی بڑا ملک کھڑا نہیں تھا، جب کہ پاکستان کے ساتھ چین، ترکیہ، آذربائیجان جیسے ممالک نے حمایت کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پر آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ مودی جیسے کمزور اور گرے ہوئے وزیراعظم کی بھارت نے پہلے کبھی مثال نہیں دیکھی۔ ادھر گودی میڈیا پر بھی پاکستان کے ساتھ جنگی شکست کا ماتم جاری ہے ۔ مودی نے انڈیا اور ہندوؤں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ پاکستان نے اس بندے کو ذہنی طور پر مفلوج بنا دیا ہے ۔ اصل میں مودی کو رافیل کا غم اندر ہی اندر سے کھائے جا رہا ہے ۔ مودی کو ہندوستانیوں سے معافی مانگنی چاہئے کیونکہ وہ انکو جنگ میں دھکیل کر مارنا چاہتا ہے ۔بی جے پی اور مودی کی سیاست انتشار اور نفرت پر مبنی ہے ۔ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے کبھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتا ہے تو کبھی ہندو مسلم فسادات 90ء کی دہائی تک ہندوستان ایک سیکولر ریاست مانا جاتا تھا لیکن بی جے پی کیوجہ سے اب ایک جنونی اور متشدد ہندو ریاست بن چکا ہے جس میں کوئی اقلیت محفوظ نہیں ہے ۔مودی سمجھ رہا تھا پاکستان کے پاس کھانے کے پیسے نہیں یہ بھوکے ننگے ہیں تو ان کو جنگ سے ختم کردو مگر یہ بھول گیا ہم وہ مسلمان قوم ہیں جن کی تاریخ یہ ہے کہ پیٹ پر پتھر باندھتے ہیں مگر تلوار کی دھار تیز اور ہمیشہ تیار رکھتے ہیں، ہمیں شہادت اتنی ہی عزیز ہے جتنی تمہیں زندگی سے محبت ہے ۔ مودی پاکستان کو دہشت گرد کہتا ہے جبکہ اس کا گولی مارنے کا بیان کھلی دہشتگردی ہے ۔ مودی اور گودی میڈیا کی فلم "سندور” پوری دنیا میں فلاپ ہوگئی ہے ۔اب مودی اور گودی میڈیا ذہنی دباؤ کا مریض بن گیا ہے اور ہر وقت بکواس کرتا ہے ۔اقوام عالم مودی کی دھمکی کا سنجیدگی سے نوٹس لے ۔ ویسے بھی پاکستانی نوجوان پاکستان کی شہ رگ اور سیسہ پلائی دیوار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی میں ایک
سیاستدان کی خصوصیات نہیں ہیں۔ وہ مغرور اور غیر مہذب ہے اور پاکستانی عوام کو براہ راست دھمکیاں دے رہا ہے ۔ اب اسے احساس ہوا کہ پاکستان اور خاص طور پر نوجوان پاکستانی اس کے اوچھے عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
پاکستان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نفرت انگیز بیان کو علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیدیا ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے نریندر مودی کی دھمکی پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی خطرے کا منہ توڑ جواب دے گا۔انہوں نے کہا کہ جوہری ریاست کے سربراہ کے نفرت انگیز بیانات قابل افسوس اور خطرناک رجحان ہیں، بھارت کو انتہا پسندی کی فکر ہے تو اندرون ملک ہندوتوا اور اقلیت دشمنی پر توجہ دے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: مودی سرکار کی پاکستان کو کہ پاکستان پاکستان نے پاکستان کے ایم ایل اے دیتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے بھارت کی نے بھارت بھارت کے مودی کی کہ مودی کے ساتھ کے بعد ہے اور رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا