وزیراعظم کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اجلاس کچھ دیر بعد ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیر اعظم شہباز شریف لاہور سے اسلام آباد پہنچ گئے، انہوں نے معاشی ٹیم کا اجلاس بلا لیا۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اجلاس کچھ دیر بعد ہو گا۔
اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، دیگر وزراء سمیت وزارت خزانہ اور ایف بی آر حکام شریک ہوں گے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو پرانی گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکسز کم کرنے کی تجویز دے دی۔
اجلاس میں بجٹ تقریر پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی جائے گی۔ معاشی ٹیم کے اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں اضافے کی تجاویز پر بریفنگ ہوگی۔
ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔
دوسری جانب وفاقی کابینہ سے بجٹ منظوری کےلیے اجلاس آج ہوگا، وزیر اعظم شہباز شریف اجلاس کی صدارت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس آج سہ پہر 3 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: معاشی ٹیم
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔