شملہ معاہدہ کی اہمیت و افادیت
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پچھلے دنوں شملہ معاہدے کے غیر فعال ہونے پر ایک ایسا بیان دیا جس پر ہمارے یہاں بہت سے تبصرہ نگاروں نے انھیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ موصوف نے شملہ معاہدے کے متعلق صرف اتنا کہا کہ اس معاہدہ کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی اور لائن آف کنٹرول اب سیز فائر لائن ہوچکی ہے۔
ساتھ ہی ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدہ پر وہی کچھ اپلائی ہوگا جو سندھ طاس معاہدہ پر ہوگا۔ دیکھا جائے تو یہ ایک حقیقت پسندانہ بیان تھا جسے ہمیں زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھنا چاہیے تھا، مگر تنقید کرنے والوں نے حسب دستور اپنا فرض نبھایا اور بیان کی گہرائی میں جائے بغیر خواجہ آصف کی زبانی خوب عزت افزائی کی۔ دیکھا جائے تو ان کا یہ بیان کوئی غیر ذمے دارانہ ہرگز نہیں تھا۔ پچاس سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے اس معاہدہ کو معرض وجود میں آئے ہوئے۔
اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ازخود بھارت جانے کا فیصلہ کیا اور اندرا گاندھی کو ایک ایسے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کے لیے راضی اور مجبور کردیا جس کے ذریعے ہمارے قیدیوں کی باعزت رہائی اور واپسی ممکن ہوپائی۔
جواب میں ہمیں اپنے اس مؤقف سے پیچھے ہٹنا پڑا جس پر ہم کئی دہائیوں سے ڈٹے ہوئے تھے یعنی کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی منظور شدہ اس قرارداد سے پیچھے ہٹنا پڑا جس کے تحت کشمیر کا مسئلہ وہاں کے لوگوں کے حق خود ارادی سے حل کیا جانا تھا، مگر شملہ معاہد ے میں اس کا کوئی ذکر نہیں شامل کیا گیا بلکہ یہ کہا گیا کہ اب یہ مسئلہ بھارت اور پاکستان باہم ملکر بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔
یہ طے ہونا یقینا بھارت کے لیے بہت ہی خوش آیند اور ایک اور بڑی کامیابی تھی، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ حق خود ارادی یا خود اختیاری کے ذریعے اگر یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی گئی تو اُسے یقینا شکست کا سامنا کرنا پڑے گا، یہ معاہدہ اس کے لیے ایک بڑی نعمت ثابت ہوا اورجس کے بعد پاکستان اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے جانے کے قابل نہیں رہا۔
پاکستانی عوام نے اس شملہ معاہدہ کو اس وقت اس لیے قبول اور منظور کرلیا کیونکہ پاکستان اس وقت سقوط ڈھاکا کے بعد اس پوزیشن میں ہرگز نہ تھا کہ اپنی مرضی چلاسکے۔ ہمیں اپنے 90 ہزار قیدیوں کی رہائی چاہیے تھی اور ہمارے جن علاقوں پر بھارت قابض ہوچکا تھا انھیں اس سے آزاد کروانا بھی مقصود تھا۔ لٰہذا پوری قوم نے اس معاہدے کو طوعا وکرہاً قبول کرلیا۔ ہم اگر اپنے سخت مؤقف پر اس وقت ڈٹے رہتے تو شاید مزید پریشانیوں میں الجھ جاتے ، مگر وقت گزرتا رہا اور بھارت ہمارے سروں پر سوار ہوتا رہا۔ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے انکار کرتا رہا اور شملہ معاہدے کے مطابق باہم مل جل کر بھی حل کرنے پر رضامند نہ ہوا۔
وہ اپنی من مانیاں کرتا رہا اور ہمیں ہر طرح سے اپنے دباؤ میں لانے کی کوششیں کرتا رہا۔ 1974 میں اس نے ایٹمی دھماکے کرکے خود کو ہماری نسبت مزید طاقتور ثابت کرکے عالمی طاقت کا روپ دھار لیا۔ ہم اس وقت اس پوزیشن میں ہرگز نہ تھے کہ اسے کشمیر کے حل پر راضی کرپائیں۔ ہم خاموش رہے اور یہ مسئلہ آج تک حل نہ ہوسکا۔
ہم شملہ معاہدے کے تحت اس مسئلے کو یو این او میں بھی دوبارہ نہیں لے جاسکتے تھے اور بھارت کو بھی مجبور نہ کرسکے کہ وہ اس معاہدہ کے تحت ہی اس مسئلہ کو حل کردے۔ بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹا رہا اور پچاس برس تک ٹال مٹول کرتا رہا۔ وہ نہ باہم مل جل کراس مسئلہ کو حل کرنے پر راضی ہوا اور نہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کشمیریوں کے حق خود اختیاری کے لیے رضامند ہوا۔
2019 میں تو اس نے اپنے دستور میں ترمیم کرکے کشمیر کی حیثیت ہی بدل ڈالی اور اسے اپنے ملک کا ایک حصہ قرار دے دیا۔ اب پاکستان کے پاس کون سا آپشن باقی رہ گیا۔ بھارت نہ یو این اور کے قرارداد کے مطابق اس کا حل تلاش کرنا چاہتا تھا اور نہ شملہ معاہدہ کے تحت۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے محاورے پر عمل کرتے ہوئے وہ اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کردینا چاہتا تھا اور اب بھی یہی چاہ رہا ہے۔ ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم نہ اس مسئلہ کو شملہ معاہدے کے تحت حل کروا سکے اور نہ یو این او کی منظور شدہ قرارداد کے مطابق۔ ہماری مجبوری ہماری کمزوری بن گئی۔
کیونکہ بھار ت ہمارے مقابلے میں ایک بہت بڑا ملک ہی نہیں بلکہ ایک بہت بڑی معیشت بھی بن چکا ہے۔ ہمیں اس کے ہم پلہ بننے میں ابھی بہت وقت درکار ہے۔ دفاعی لحاظ سے تو ہم نے اس وقت برتری حاصل کرلی ہے لیکن معاشی طور پر ہم ابھی اس سے بہت پیچھے ہیں، دنیا اس وقت مفادات کی غلام بنی ہوئی ہے ۔ وہ اس ملک کے خلاف ہرگز نہیں جاسکتی ہے جس سے اس کے مالی اور تجارتی معاملات جڑے ہوئے ہیں۔
ہم بھی دنیا کی ایک بڑی معیشت بن سکتے تھے اگر ہم سن ساٹھ والی دہائی کو تسلسل دے رہے ہوتے ۔ اس وقت ہم بھارت سے بہت آگے نکل چکے تھے اور دنیا کے بہت سے ملک ہماری معاشی پالیسیوں سے نہ صرف متاثر تھے بلکہ وہ انھیں اپنے یہاں بھی اپنانا چاہ رہے تھے، مگر ہمیں اپنے لوگوں نے ہی برباد کرکے رکھ دیا۔ وہ دن ہے اورآج کا دن ہم ابھی تک اپنی معیشت سدھارنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
بھارت کو ہم فی الحال کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے مجبور نہیں کرسکتے ہیں لیکن جس طرح اس نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کردیا ہے ہم بھی شملہ معاہدہ کی پابندیوں سے باہر نکل سکتے ہیں۔ شملہ معاہدہ ابھی صرف کاغذوں تک ہی محدود رہ گیا ہے۔ اس کی کسی شق پر بھی عمل نہیں ہو پارہا اور نہ آیندہ اس کی کوئی امید ہے تو پھر ہم اگر اس سے لاتعلق ہوجائیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے ساتھ تو دیگر ممالک بھی دستخط کنندہ ہیں جب کہ شملہ معاہدہ میں تو صرف ہم دو ملک ہی شامل ہیں۔ جب ایک فریق اس پر عمل درآمد سے انکاری ہے تو پھر ایسی صورت میں دوسرا فریق کیا کرے ۔
خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کرنے کے بجائے ہمیں اس معاہدہ کی حالیہ حیثیت پر غور کرنا ہوگا۔ صرف آنکھیں بند کرکے اس معاہدے کو سینے سے لگا کر رکھنے کا اگر کوئی فائدہ باقی ہے تو بتایا جائے۔ پچاس سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے اور شاید مزید پچاس سال اور گزر جائیںگے، مگر ہم کیا اس معاہدہ کو یونہی ایک مقدس معاہدہ سمجھ کر وقت ضایع کرتے رہیںگے۔ تنقید کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ ہمیں اس پر مکمل عملدرآمد کا طریقہ بھی بتادیں۔ کیا بھارت مسئلہ کشمیر پرکوئی بات سننے کے لیے راضی ہے، وہ جب خود ہی اس مسئلہ کے باہمی حل سے گریزاں ہے تو ہمیں اس سے چھٹکارا حاصل کرکے دوبارہ اقوام متحدہ سے رجوع کرنے میں کیا قباحت ہے۔
ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو لے کر جس میں انھوں نے مسئلہ کشمیر کے لیے ثالثی کردار ادا کرنے کی پیش کش کی ہے عالمی فورم پراٹھا کر بھارت کو بات چیت کی میز پرلانے کی کوشش کرنی چاہیے، بھارت کسی اور ملک کی ثالثی سے جتنا دور بھاگتا ہے ہمیں اتنا ہی اسے مجبور کرنا چاہیے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے لیے کسی بھی غیر جانبدار ملک کی ثالثی کو قبول کرلے ۔ وہ اس وقت سفارتی محاذ پر بہت دباؤ میں ہے ہمیں اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس پر مزید دباؤ بڑھانا چاہیے، یہ ایک سنہری موقعہ ہے ۔ دیر کردی تو پھر یہ موقع ہاتھ نہیں آئے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شملہ معاہدے کے شملہ معاہدہ اقوام متحدہ اس معاہدے معاہدہ کی اس معاہدہ کرتا رہا کے مطابق اس مسئلہ کشمیر کے رہا اور اور نہ کے تحت کے لیے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب