پی آئی اے کی پہلی حج پرواز جدہ سے کوئٹہ پہنچ گئی، حاجیوں کا پرتپاک استقبال
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
سعودی عرب سے فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد سرکاری حج اسکیم کے تحت 152 عازمین حج کو لے کر پی آئی اے کی پہلی پرواز PK-764 جدہ سے کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں:حجاج کرام کی وطن واپسی کے لیے پوسٹ حج پروازوں کا آغاز
ایئرپورٹ پر سابق گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے حاجیوں کا استقبال کیا اور انہیں گل دستے اور ہار پہنائے۔
اس سال بلوچستان سے 2,786 عازمین حج نے سرکاری اسکیم کے تحت فریضہ حج ادا کیا۔ حج آپریشن کے تحت کوئٹہ ایئرپورٹ پر کل 18 پروازیں آئیں گی، اور آخری پرواز 5 جولائی کو پہنچے گی۔
حاجیوں نے گفتگو میں پاکستان اور سعودی حکومت کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استقبال پہلی حج پرواز حج پرواز کوئٹہ ایئر پورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استقبال پہلی حج پرواز حج پرواز کوئٹہ ایئر پورٹ
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔