سابق بھارتی کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے دعویٰ کیا ہے کہ مشہور کامیڈین کپل شرما کو ٹی وی پر بڑا بریک تھرو دلوانے میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔

اپنے یوٹیوب چینل پر جاری ایک حالیہ وی لاگ میں سدھو نے پہلی بار تفصیل سے بتایا کہ وہ ‘دی کپل شرما شو’ کا حصہ کیسے بنے اور اس کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی۔

وی لاگ کے دوران سدھو نے انکشاف کیا کہ یہ خود کپل شرما ہی تھے جنہوں نے ان سے رابطہ کیا اور شو کا حصہ بننے کی درخواست کی۔

سدھو کے مطابق چینل نے کپل کو شو دینے کے لیے ایک شرط رکھی تھی کہ نوجوت سنگھ سدھو کو شو کا مستقل مہمان بنایا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ کپل میرے پاس آیا اور کہا کہ ‘پاجی، ایک گزارش ہے، اگر آپ میرے شو کا حصہ بن جائیں تو چینل مجھے میرا ذاتی شو دے گا’۔

سدھو نے مزید بتایا کہ ‘جب میں نے پوچھا کہ یہ بات کس نے کہی ہے؟ تو کپل نے کہا کہ راج نائیک صاحب، جو اُس وقت کلرز چینل کے سربراہ تھے، انہوں نے یہ شرط رکھی ہے، بعدازاں ہم نے ایک ناشتے پر ملاقات کی، اور میں نے ہامی بھر لی’۔

کپل کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے سدھو نے کہا کہ ‘کپل نے ’دی گریٹ انڈین لافٹر چیلنج‘ سے شہرت حاصل کی، لیکن بعد میں ’کامیڈی سرکس‘ جیسے شوز میں وہ ضائع ہورہا تھا اور وہ اپنی انفرادی شناخت کھو بیٹھا تھا، اُس وقت میں نے آگے بڑھ کر اُس کا ساتھ دیا’۔

حال ہی میں نیٹ فلکس نے انسٹاگرام پر باقاعدہ اعلان کیا کہ نووجوت سنگھ سدھو تقریباً 6 سال بعد ‘دی گریٹ انڈین کپل شو’ میں واپسی کر رہے ہیں، جس پر ملک بھر کے مداحوں نے جوش و خروش کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ سدھو 2012 سے 2019 تک کپل کے شوز کا باقاعدہ حصہ رہے ہیں، جنہیں کلرز اور سونی انٹرٹینمنٹ ٹیلی ویژن پر نشر کیا جاتا رہا، تاہم پلوامہ حملے کے بعد دیے گئے ایک متنازع بیان کے باعث انہوں نے شو سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔

اب وہ ایک بار پھر ’دی گریٹ انڈین کپل شو سیزن 3‘ میں بطور مستقل مہمان شامل ہوں گے، جس کی پہلی قسط 21 جون کو نشر کی جائے گی، ان کے ساتھ ارچنا پورن سنگھ بھی شو کا حصہ ہوں گی۔

اپنے وی لاگ میں سدھو نے ‘بگ باس’ 2012 میں شرکت کے بارے میں بھی کھل کر بات کی، انہوں نے اعتراف کیا کہ مالی مسائل کے باعث انہوں نے یہ رئیلٹی شو جوائن کیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘بگ باس کی آفر مالی لحاظ سے بہت پرکشش تھی، لوگ اس شو میں آکر اپنی عزت گنوا بیٹھتے ہیں، لیکن میں نے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا کیونکہ مجھے امرتسر میں اپنا گھر بنوانا تھا، اور بطور سیاستدان میری آمدنی اتنی نہیں تھی کہ یہ ممکن ہو پاتا’۔

سدھو نے انکشاف کیا کہ انہیں شو کے لیے بھاری رقم دی گئی، لیکن بجٹ کی وجہ سے پروڈیوسرز صرف ایک مہینہ ہی انہیں رکھ سکے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ‘میں شو سے باعزت طریقے سے نکلا، کسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی، اور یہی میری کامیابی تھی’۔

اس کے بعد انہیں اسٹار اسپورٹس میں کمنٹری کی پیشکش ہوئی، جو ان کی سیاسی زندگی کے بعد ایک نیا باب ثابت ہوا۔

کپل شرما کے شو میں نووجوت سنگھ سدھو کی واپسی نہ صرف ان کے مداحوں کے لیے خوش خبری ہے بلکہ کپل شرما شو کے لیے بھی نئی جان ثابت ہو سکتی ہے۔

ان کی شخصیت، حاضر جوابی اور اندازِ گفتگو نے ہمیشہ ناظرین کو محظوظ کیا ہے، اور اب ایک بار پھر وہ اسکرین پر جلوہ گر ہونے کو تیار ہیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سنگھ سدھو کپل شرما انہوں نے سدھو نے کہا کہ کیا کہ کے لیے کا حصہ

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا