پاکستان کی ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 جون2025ء) پاکستان نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیل کی بلاجواز اور ناجائز جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جمعہ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی حملے اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔
(جاری ہے)
اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایرانی عوام کے ساتھ پرعزم یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور واضح طور پر اس اشتعال انگیزی کی مذمت کرتا ہے جو پورے خطے اور اس سے باہر کے امن، سلامتی اور استحکام کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے اور سنگین مضمرات کی حامل ہے۔ بیان میں مزید کہاگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے اس جارحیت کو فوری طور پر روکیں اور جارح کو اس کی کارروائیوں کا جوابدہ ٹھہرائیں۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔