فاروق رحمانی کا نذیر احمد شاہ کو ان کے 31ویں یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
انہوں نے اپنی جوانی کو جدوجہد آزادی کے لیے وقف کر دیا اور بالآخر 16جون 1994ء کو جام شہادت نوش کیا جب وہ جموں و کشمیر جہاد فورس کے چیف کمانڈر تھے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین اور کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر رہنما محمد فاروق رحمانی نے شہید نذیر احمد شاہ کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے جنہیں 31سال قبل بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہید کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق محمد فاروق رحمانی نے ایک بیان میں کہا کہ نذیر احمد شاہ نےں1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں تحریک آزادی کشمیر میں نمایاں کردار ادا کیاںہے، انہوں نے اپنی جوانی کو جدوجہد آزادی کے لیے وقف کر دیا اور بالآخر 16جون 1994ء کو جام شہادت نوش کیا جب وہ جموں و کشمیر جہاد فورس کے چیف کمانڈر تھے۔ فاروق رحمانی نے شہید کی بلندی درجات کے لئے دعا کی۔انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ نذیر احمد شاہ اور تحریک مزاحمت کے دیگر شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کریں۔ انہوں نے کشمیری عوام کو مودی حکومت کے نوآبادیاتی ایجنڈے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی نے مقامی آبادی کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد ترقیاتی منصوبے چاہے وہ سڑکوں کی تعمیر ہو یا ریل کا بنیادی ڈھانچہ، دراصل فوجی قبضے کو طول دینے اور کشمیریوں کی زمینوں اور گھروں کو غصب کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس طرح فلسطین میں ظالم صیہونی حکومت کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نذیر احمد شاہ فاروق رحمانی انہوں نے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔