Express News:
2026-06-03@08:31:58 GMT

کنفیوژن

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

وراثت میں اسے پانچ لاکھ 18 ہزار چارسو طلائی سکے ملے‘ یہ سکے کل اثاثہ تھے لیکن جب اسے اثاثے کا احساس ہوا تو اس وقت تک 86 ہزار چارسو سکے ضایع ہو چکے تھے اور چار لاکھ 32 ہزار باقی تھے‘ اس نے فیصلہ کیا وہ باقی سکے محفوظ رکھے گا مگر سوال یہ تھا وہ یہ سکے کہاں محفوظ رکھ سکتا ہے؟ مولوی صاحب نے مشورہ دیا آپ یہ سکے مسجد کے صحن میں دفن کر دیں‘ یہ محفوظ بھی رہیں گے‘ یہ آپ کے مرنے کے بعد بھی آپ اور آپ کی آل اولاد کے کام آئیں گے۔

 بات اس کے دل کو لگی‘ اس نے مسجد کے صحن میں گڑھا کھودا اور سونے کے 43 ہزار 2 سو سکے اس گڑھے میں دبا دیے‘ وہ اس اچھی سرمایہ کاری پر خوش تھا لیکن یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی‘ وہ چند دن بعد مضطرب ہو گیا‘ محلے کی دوسری مسجدوں اور اماموں نے اسے یقین دلا دیا تم نے غلط مسجد کا انتخاب کیا‘ تمہارا سرمایہ ضایع ہو جائے گا‘ تم اس مسجد کو خیر باد کہو اور باقی سرمایہ ہمارے مدرسے‘ ہماری مسجد میں دفن کردو‘ تمہاری دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گی‘ وہ کنفیوژ ہو گیا‘ اس نے اس کنفیوژن میں ایک دن اپنی صندوقچی نکالی اور سر پیٹ لیا‘ اس کی صندوقچی واقعی خالی تھی‘ اس کے سونے کے 43ہزار دو سو سکے غائب ہو چکے تھے‘ وہ خالی صندوقچی لے کر بھاگا اور سیدھا بازار چلا گیا‘ اس نے اب باقی سرمایہ بازار کے محاجنوں کے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا‘ یہ محاجن سرمایہ لیتے تھے۔

 پانچ سال اپنے پاس رکھتے تھے اور پانچ سال بعد اصل زر کے ساتھ سود کی قسطیں ادا کرنے لگتے تھے‘ یہ اچھی اور محفوظ سرمایہ کاری تھی‘ آپ پیسہ لگائیں اور پانچ سال بعد پیسہ ریٹرن کے ساتھ واپس لینا شروع کر دیں‘ اس نے اپنے 43 ہزار دو سو سکے بازار کے محاجنوں کے پاس رکھوا دیے‘ وہ روز محاجن کے پاس جاتا سارا دن اس کے پاس بیٹھا رہتا‘ سرمائے کے محفوظ ہونے کا یقین کرتا اور شام کو واپس آجاتا‘ یہ روٹین پانچ سال جاری رہی‘ وہ اب مطمئن تھا‘ پانچ سال پورے ہو ئے‘ وہ محاجن کے پاس گیا اور سرمائے کی واپسی کا مطالبہ کر دیا‘ محاجن نے افسوس سے جواب دیا’’بھائی آپ کا سرمایہ محفوظ ہے لیکن بازار مندی کا شکار ہے‘ ہم آپ کو فوری طور پر روپیہ واپس نہیں کر سکتے‘ آپ کو انتظار کرنا پڑے گا‘‘۔

 اس کے دل کو دھچکا لگا‘ وہ پریشان ہوگیا لیکن مایوس نہ ہوا‘ اس نے سرمائے کی واپسی کے لیے محاجن کی دوکان کے پھیرے لگانا شروع کر دیے‘ یہ سلسلہ پانچ سال جاری رہا‘ محاجن کے پاس اس کے 43 ہزار دو سو سکے پڑے تھے جب کہ اس نے 43ہزار دو سو سکے محاجن کے دفتر آنے اور واپس جانے میں صرف کر دیے‘ اس نے ایک دن بیٹھ کر حساب کیا تو پتا چلا وہ اب تک کل دو لاکھ سولہ ہزار طلائی سکے ضایع کر چکا ہے‘ وہ کف افسوس ملنے لگا لیکن پھر اسے محسوس ہوا وہ نقصان کے باوجود ابھی دیوالیہ نہیں ہوا‘ وہ اب بھی تین لاکھ‘ دو ہزار‘ چار سو سکوں کا مالک ہے۔

 یہ اگراچھی سرمایہ کاری کرے تو اس کا باقی سرمایہ بھی محفوظ ہو جائے گا اور اس کا نقصان بھی پورا ہو جائے گا‘ وہ اٹھا‘ نقصان کا سیاپا بند کیا اور محفوظ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے لگا‘ وہ تلاش کرتا رہا‘ تلاش کرتارہا یہاں تک کہ اسے معلوم ہوا شہر میں نیا مال کھلا ہے‘ مال میں سرمایہ کاری کی مشینیں ملتی ہیں آپ مشین میں ایک سکہ ڈالتے ہیں اور یہ مشین دو دو‘ تین تین اورچار چار سکے بنا کر باہر نکال دیتی ہے اور یوں آپ تھوڑا سرمایہ لگا کر رئیس ہو جاتے ہیں‘ وہ مال میں چلا گیا‘ مال میں واقعی مشینیں موجود تھیں‘ اس نے ایک خوبصورت اور نازک مشین خرید لی‘ مشین پر لکھا تھا ’’آپ روزانہ صرف 24 سکے ڈال سکتے ہیں‘ آپ کو 25واں سکہ ڈالنے کے لیے اگلے دن کا انتظار کرنا ہو گا‘‘ وہ خوش ہو گیا کیوںکہ یہ مشین دن میں صرف 24 سکے کھاتی تھی اور یہ سرمایہ کاری اسے سوٹ کرتی تھی۔

 اس نے بسم اللہ پڑھ کر مشین میں سکہ ڈالا اور چار سکے نکلنے کا انتظار کرنے لگا‘ مشین سے چار سکے نہ نکلے‘ اس نے اگلا سکہ ڈالا وہ سکہ بھی ضایع ہو گیا‘ وہ تین دن تک مشین میں سکے ڈالتا رہا لیکن مشین سے سکے نہ نکلے‘ وہ دکاندار کے پاس چلا گیا‘ دکاندار نے شکایت سنی اور مسکراکر جواب دیا’’جناب آپ بے صبرے نہ ہوں‘ مشین سے سکے ضرور نکلیں گے‘ میں خود یہ مشین استعمال کر رہا ہوں‘ مجھے شروع میں چھ مہینے انتظار کرنا پڑا لیکن بالآخر مشین سے سکے نکلے‘ آپ تاولے نہ ہوں‘ آپ ضرور کامیاب ہوں گے‘‘ وہ دکان دار کی بات پر یقین نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن دوسرے گاہکوں نے بھی دکان دار کی تائید کر دی۔وہ گھر واپس آ گیا اور  دوبارہ مشین میں سکے ڈالنا شروع کر دیے۔

 وہ سکے ڈالتا رہا‘ سکے ڈالتا رہا لیکن مشین سے سکے نہ نکلے‘ اس نے ایک دن حساب کیا تو پتا چلا وہ اب تک مشین میں 86 ہزار 4 سو سکے ڈال چکا ہے اور اس کی وراثت اب دو لاکھ سولہ ہزار سکے رہ گئی ہے‘ وہ سخت پریشان ہو گیااور مختلف ماہرین سے مشورے کرنے لگا‘ ماہرین نے اسے مشورہ دیا ’’تم مشین تبدیل کر لو‘ دکان میں اور بھی مشینیں موجود ہیں‘ تم ان پر ٹرائی کیوں نہیں کرتے‘‘ وہ بھاگتا ہوا دکان پر گیا اور ایک اور مشین خرید لی‘ یہ مشین جدید بھی تھی‘ ہلکی بھی اور گارنٹی یافتہ بھی۔ اس نے لمبا سانس لیا اور نئی مشین میں سکے ڈالنا شروع کر دیے لیکن نتیجہ وہی نکلا‘ یہ مشین بھی اس کے سکے کھا گئی‘ وہ تیسری بار دکان پر گیا‘ ایک اور مشین خرید لایا‘ وہ اس مشین کے بارے میں بھی مطمئن تھا‘ وہ کیوں مطمئن نہ ہوتا‘ پورا ملک اس مشین کی تعریفیں کر رہا تھا‘ اس نے اس مشین میں بھی سکے ڈالے لیکن شاید اس کی قسمت خراب تھی‘ یہ مشین بھی اس کے سکے کھا گئی‘ وہ اب شدید مالیاتی بحران کا شکار ہو گیا۔

 وہ اب دیوالیہ ہونے کے قریب تھا‘ وہ پریشان تھا‘ پریشانی کے عالم میں اسے کسی نے بتایا ’’ سرمایہ کاری کا بہترین طریقہ بہرحال مسجد کا صحن ہی تھا‘ تم اگر مسجد میں دفن خزانے کے سرہانے بیٹھے رہتے تو آج تم سے زیادہ مطمئن اور امیر شخص کوئی نہ ہوتا‘‘ اس نے کف افسوس ملا اور باقی سکے لے کر دوبارہ مسجد چلا گیا‘ امام صاحب نے دل کھول کر اس کی مذمت کی لیکن پھر اسے صحن میں باقی وراثت دفن کرنے کی اجازت دے دی‘ اس نے تھیلی کے سارے سکے مسجد کے صحن میں دفن کر دیے‘ اس بار اسے یقین تھا اس کی یہ سرمایہ کاری ضایع نہیں ہو گی لیکن یہ یقین بھی غلط ثابت ہوا‘ وہ دوبارہ اسی مخمصے کا شکار ہو گیا ’’کیا میں نے درست مسجد کا انتخاب کیا؟ ‘‘ اس کا مخمصہ درست تھا کیوںکہ اس کی مسجد کے گرد درجنوں مسجدیں تھیں اور ان تمام مسجدوں سے روزانہ زیادہ منافع کے اعلانات ہوتے تھے‘ لوگ اسے اس کی مسجد کے بارے میں شکوک و شبہات میں بھی مبتلا کرتے رہتے تھے‘ وہ پریشان تھا لیکن اس کے پاس اب کوئی آپشن نہیں تھا‘ وہ اپنا سارا سرمایہ مسجد میں دفن کر چکا تھا مگر پھر اس نے ایک دن اپنا سرمایہ چیک کرنے کا فیصلہ کیا‘ وہ صحن میں گیا‘ بھاوڑا اٹھایا‘ اپنا خزانہ نکالا‘ صندوقچی کا دروازہ کھولا اور اس کے دل کو خوفناک دھچکا لگا‘ یہ صندوقچی بھی خالی تھی‘ اس کی ساری وراثت ضایع ہو چکی تھی‘ اس نے صندوقچی باہر رکھی اور گڑھے میں چھلانگ لگا دی‘ وہ مسجد کے صحن میں دفن ہو گیا۔

وہ شخص کون تھا؟ وہ شخص کوئی اور نہیں تھا‘ وہ آپ اور میں ہیں‘ ہمیں ساٹھ سال کی عملی زندگی ملتی ہے‘ یہ ساٹھ سال ایک ایک گھنٹے پر محیط ہوتے ہیں‘ ہم اگر ہر گھنٹے کو سونے کا ایک سکہ سمجھ لیں تو ہمارے پاس روزانہ 24 سکے ہوتے ہیں‘ ہم ان 24 سکوں کو مہینے کے تیس دنوں اور ان تیس دنوں کو سال کے بارہ ماہ اور ان سالوں کو 60 سال سے ضرب دیں تو پانچ لاکھ‘ 16 ہزار چار سو سکے ہماری کل وراثت بنتے ہیں‘ یہ سکے ہمارا کل اثاثہ ہوتے ہیں‘ ہم یہ اثاثہ زندگی اور بعداز مرگ زندگی پر خرچ کرتے ہیں‘ یہ سرمایہ ہماری کل سرمایہ کاری ہوتی ہے مگر ہم بدقسمتی سے یہ سارے سکے کنفیوژن کی نذر کر دیتے ہیں‘ ہمیں زندگی کے ابتدائی دس برسوں تک وقت کی قیمت کا احساس نہیں ہوتا‘ یوں ہمارے 86 ہزار 4 سو سکے ضایع ہو جاتے ہیں‘ ہمیں جب وقت کا احساس ہوتا ہے تو ہم دینی اور دنیاوی تعلیم میں کنفیوژ ہو جاتے ہیں‘ ہم پانچ سال مدرسے اور پانچ سال کالج میں ضایع کرتے ہیں‘ ہم وہاں سے بھاگ کر جاب میں پناہ لیتے ہیں۔

 ہم وہاں بھی خالی ہاتھ رہتے ہیں‘ ہم پھر سکے کھانے والی مشینیں خریدنے لگتے ہیں‘ ایک مشین فیملی ہوتی ہے‘ ہمیں لوگ بتاتے ہیں آپ مشین میں ایک سکہ ڈالو گے تو یہ مشین تین چار سکے نکالے گی‘ ہم سکے ڈالتے جاتے ہیں‘ مشین سکے کھاتی جاتی ہے مگر ریٹرن میں کچھ نہیں نکلتا‘ ہم پھر مصروفیت کی مشین لے آتے ہیں‘ ہم اپنے دن رات اپنے کام‘ اپنے مشن کو دینے لگتے ہیں‘ ہم سمجھتے ہیں ہماری مشین ایک کے بدلے تین چار سکے نکالے گی لیکن یہ مشین بھی ہمارے سکے کھا جاتی ہے‘ ہم پھر معاشرے‘ دوستوں اور نظام کی مشین لے آتے ہیں لیکن یہ مشینیں بھی ہمارے سکے کھا جاتی ہیں یہاں تک کہ ہم بے زار اور مایوس ہو کر عمر عزیز کا باقی حصہ مذہب کو دے دیتے ہیں مگر ہم وہاں بھی کنفیوژ ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین نہیں ہوتا ہم جس مذہب‘ جس فرقے اور جس امام کو مان رہے ہیں وہ ٹھیک ہے یا غلط اور یوں ہم عمر عزیز کا آخری سکہ بھی ضایع کر دیتے ہیں۔

 آپ اگر کسی دن میری طرح دھوپ یا سائے میں بیٹھ کر زندگی کے بارے میں غور کریں تو آپ کو بھی یقین آجائے گا انسان کا سب سے بڑا مسئلہ کنفیوژن ہے اور یہ بیچارہ یہ مسئلہ حل کرتا کرتا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے‘ یہ اس زندگی میں کوئی ایسی مشین تلاش نہیں کر پاتا جو اس کے سکے دوگنے کر دے‘ زندگی رائیگاں ہے اور یہ رائیگاں ہی چلی جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مسجد کے صحن میں ہزار دو سو سکے سرمایہ کاری ہو جاتے ہیں مشین سے سکے اس نے ایک محاجن کے پانچ سال چار سکے یہ مشین نہیں کر چلا گیا ضایع ہو لیکن یہ سکے کھا نہیں ہو کے پاس اور یہ ہے اور ایک دن ہو گیا یہ سکے کر دیے

پڑھیں:

تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 

تھائی لینڈ کی حکومت نے مقامی ملکیتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروبار کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ہزاروں کمپنیوں میں مقامی افراد کو محض کاغذی مالکان ظاہر کر کے غیر ملکیوں نے کاروباری پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی۔ تازہ کارروائیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں اور جائیداد مالکان میں تشویش بڑھ گئی ہے کہ ان کے اثاثے منجمد یا ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق جنوبی صوبے کرابی میں ایک کمپنی سرکاری ریکارڈ میں نیل سیلون (ناخنوں کی آرائش کے مرکز) کے طور پر رجسٹرڈ تھی، تاہم تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر اسے ایک اسرائیلی خاتون بالغ مواد پر مبنی آن لائن کاروبار چلانے کے لیے استعمال کر رہی تھی، جو سبسکرپشن ویب سائٹ اونلی فینز کے ذریعے سرگرم تھا۔

یہ کمپنی تقریباً 500 ایسی کمپنیوں میں شامل تھی جنہیں ایک ہی اکاؤنٹنگ فرم نے رجسٹر کرایا تھا۔ ان کمپنیوں میں بیوٹی سیلونز سے لے کر بھنگ (کینابس) کی فارمز تک مختلف کاروبار شامل تھے۔

تھائی حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام کمپنیوں کا تعلق غیر ملکی افراد سے تھا جنہوں نے قانون سے بچنے کے لیے مقامی تھائی شہریوں کو اکثریتی مالک ظاہر کیا، حالانکہ ان افراد کا کاروبار میں عملی کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔

تھائی لینڈ کے فارن بزنس ایکٹ کے تحت غیر ملکی شہری عام طور پر کسی مقامی کمپنی میں 49 فیصد سے زیادہ حصص کے مالک نہیں بن سکتے۔ اس پابندی سے بچنے کے لیے بعض غیر ملکی کاروباری افراد مقامی شہریوں کو رقم دے کر ایسے دستاویزات تیار کراتے ہیں جن میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ کمپنی کے کم از کم 51 فیصد حصص تھائی شہریوں کی ملکیت ہیں۔

برسوں تک اس طرزِ عمل کو نظر انداز کرنے کے بعد اب حکام نے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مقامی شراکت دار کے طور پر درج افراد اپنی حقیقی سرمایہ کاری اور ملکیت کے شواہد پیش کریں۔

حکومت نے سیاحتی علاقوں میں وسیع پیمانے پر معائنے شروع کیے ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے مختلف سرکاری ڈیٹا بیسز کا تجزیہ کیا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں تقریباً 50 ہزار غیر ملکی روابط رکھنے والی کمپنیوں کو مزید جانچ پڑتال کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق انہیں روزانہ بڑی تعداد میں ایسے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور جائیداد مالکان کی جانب سے رابطے موصول ہو رہے ہیں جو خدشہ رکھتے ہیں کہ اگر وہ غیر قانونی نامزد مالکان (نومنی) کے نظام میں ملوث پائے گئے تو ان کے اثاثے منجمد یا ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

قانونی فرم لائرز فار ایکسپیٹس تھائی لینڈ کے شعبۂ بین الاقوامی امور کے جنرل منیجر برائن ریمزڈن کے مطابق تمام متاثرہ افراد کو اپنی سرمایہ کاری ضائع ہونے اور فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے کا خوف لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکثر افراد یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ انہیں معلوم تھا یہ طریقہ غیر قانونی ہے، لیکن ان کے وکلا نے انہیں یقین دلایا تھا کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔

ریمزڈن کے مطابق ان کی فرم کو روزانہ 100 سے زائد فون کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں لوگ قانونی راستہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کمپنی عملی کاروباری سرگرمیوں میں شامل نہیں تو یہ خود ایک خطرے کی علامت ہے۔

وزیراعظم بھی متحرک

تھائی وزیر اعظم انوتن چارنویراکول بھی جعلی طور پر رجسٹرڈ کمپنیوں کے خلاف مہم میں پیش پیش ہیں۔

گزشتہ ماہ جنوبی تھائی لینڈ کے معروف سیاحتی مقامات کے دورے کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ غیر قانونی کاروباروں اور شیل کمپنیوں کے ذریعے سرگرم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جنوب مشرقی ایشیا میں سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس کے تناظر میں اس معاملے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ہی شخص سینکڑوں کمپنیوں میں حصص رکھتا ہو تو اس کا مقصد دراصل کمپنیوں کی خرید و فروخت اور غیر ملکیوں کو کاروبار کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا ہوتا ہے، جو قانون کی روح کے منافی ہے۔

سیاحتی جزائر خصوصی نگرانی میں

تھائی وزارت تجارت کے مطابق گزشتہ ماہ کیے گئے آڈٹ میں معلوم ہوا کہ مشہور سیاحتی جزائر کوہ ساموئی اور کوہ پھانگان میں رجسٹرڈ 16 ہزار 800 قانونی اداروں میں سے تقریباً 70 فیصد میں غیر ملکیوں کی شراکت موجود ہے، تاہم وزارت نے واضح کیا کہ غیر ملکی روابط کا مطلب لازمی طور پر قانون شکنی نہیں۔

غیر ملکی مشتبہ افراد گرفتار

گزشتہ ہفتے حکام نے اعلان کیا کہ صوبوں فوکٹ اور سورات تھانی میں جعلی رجسٹریشن کے ذریعے قائم کمپنیوں کی تحقیقات کے بعد 28 غیر ملکی مشتبہ افراد کے مقدمات استغاثہ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

اس سے قبل کوہ پھانگان میں حکام تقریباً 15 کروڑ بھات (45 لاکھ ڈالر) مالیت کی 30 اراضیوں کو ضبط کر چکے ہیں جبکہ غیر قانونی کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے دو تھائی شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

مقامی کاروباری حلقوں کی شکایات

تھائی کاروباری برادری کے بعض حلقے طویل عرصے سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار ان کے لیے مسابقت مشکل بنا رہے ہیں۔

ایک معروف تھائی کاروباری شخصیت، جنہوں نے صرف اپنے عرف تھونگ سے شناخت ظاہر کرنے کی اجازت دی، کا کہنا تھا کہ بعض غیر ملکی سرمایہ کار ولاز خرید کر انہیں مختصر مدتی کرایے کی رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس کے بعد قیمتیں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ مقامی افراد ان جائیدادوں تک رسائی نہیں رکھ پاتے۔

ان کے مطابق مکمل ملکیت غیر ملکیوں کے پاس چلے جانے سے مقامی آبادی معاشی طور پر پیچھے رہ جاتی ہے اور یہی اصل مسئلہ ہے۔

سرمایہ کاری کے ماحول پر سوالات

کریک ڈاؤن کے نتیجے میں یہ خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ بعض جائز غیر ملکی سرمایہ کار نادانستہ طور پر قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے لیے تھائی لینڈ کی ساکھ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

ملک میں کنڈومینیم ملکیت کے قوانین کے تحت کسی بھی رہائشی منصوبے کا کم از کم 51 فیصد حصہ تھائی شہریوں کے لیے مختص ہونا ضروری ہے، تاہم بنکاک، فوکٹ اور پٹایا جیسے علاقوں میں بعض اوقات پورے اپارٹمنٹ بلاکس غیر ملکی خریداروں کو فروخت کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

آن لائن فورمز پر متعدد غیر ملکی افراد نے ایسے تجربات بیان کیے ہیں جن میں جائیداد خریدنے یا لیز پر لینے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ متعلقہ یونٹ قانونی طور پر تھائی شہریوں کے لیے مختص تھا اور وہ اس کے حقیقی مالک نہیں بن سکتے تھے۔

پٹایا میں مقیم غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکس کے ماہر وکٹر وونگ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار اس وقت شدید احتیاط اور ذہنی دباؤ کی کیفیت میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت قوانین کے نفاذ کو تو سخت کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی قانونی سرمایہ کاری کے نئے اور واضح راستے فراہم نہیں کیے جا رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب سرمایہ کار غیر قانونی شارٹ کٹس کے بجائے ایسے پائیدار اور قانونی ڈھانچوں کی تلاش میں ہیں جن کے ذریعے وہ اعتماد کے ساتھ تھائی لینڈ میں کاروبار جاری رکھ سکیں۔

تاہم بعض غیر ملکی رہائشی اس کریک ڈاؤن پر تنقید کو درست نہیں سمجھتے۔ برائن ریمزڈن کے مطابق اس صورتحال کا ذمہ دار تھائی لینڈ نہیں بلکہ وہ افراد ہیں جنہوں نے جانتے بوجھتے قوانین کی خلاف ورزی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی نے غیر ملکیوں کو غیر قانونی طریقے اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ جو لوگ قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کرتے، مسئلہ دراصل وہی ہیں۔

ان کے بقول یہ کریک ڈاؤن طویل مدت میں تھائی لینڈ کے لیے زیادہ محفوظ اور بہتر ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تھائی لینڈ غیرملکی سرمایہ کاری

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود