ہونڈا کمپنی نے اپنا پہلا دوبارہ قابل استعمال راکٹ لانچ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ہونڈا نے اپنا پہلا تجرباتی دوبارہ قابل استعمال راکٹ لانچ اور محفوظ لینڈنگ کے ساتھ کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔
یہ راکٹ ٹیسٹ رواں ماہ کو جاپان کے ٹائکی ٹاؤن میں ہوا جہاں راکٹ نے 271 میٹر (تقریباً 890 فٹ) بلندی تک پرواز کی اور 56.6 سیکنڈ کے پرواز کے بعد زمین پر اتر کر نشانے پر لینڈ کیا۔
راکٹ کی لمبائی 6.3 میٹر (20.
یہ تجربہ راکٹ کے ثابت قدمی، کنٹرول اور عمودی لینڈنگ کی صلاحیت کو ثابت کرتا ہے۔ ہونڈا نے یہ راکٹ اپنی گاڑیوں اور آٹو ڈرائیونگ ٹیکنالوجیز میں موجود تجربات کی بنیاد پر تیار کیا ہے۔
علاوہ ازیں اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ متعدد شعبوں کو یکجا کر کے ٹیکنالوجی میں توسیع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہونڈا نے یہ نوٹ کیا کہ 2029 تک سب آربیٹل پرواز کریں گے یعنی وہ آسمان کے قریب ترین خلائی دائرہ کو چھونے کی کوشش کریں گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔