خضدار میں دہشت گردوں کا حملہ، قبائلی رہنما میر عطاالرحمان مینگل جاں بحق، بیٹے سمیت چار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
خضدار میں دہشت گردوں نے قبائلی رہنما میر عطاالرحمان مینگل کے قافلے پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کے بیٹے سمیت چار افراد زخمی ہو گئے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب میر عطاالرحمان مینگل اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آڑنجی کی جانب جا رہے تھے۔
حملے کے فوراً بعد مقامی افراد اور سیکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا، جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
میر عطاالرحمان مینگل، معروف قبائلی شخصیات میر نصیر مینگل اور میر شفیق الرحمان مینگل کے بھائی تھے، اور علاقے میں ان کا گہرا اثر و رسوخ تھا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے جبکہ سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور دہشت گردوں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔