ایران پر امریکی حملوں کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں شدید مندی، بٹ کوائن کی قیمت کم ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
کاروباری ہفتے کے اختتام پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے اور مہنگائی کے خدشات کے باعث ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ میں شدید فروخت دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن کی قیمت مئی کے بعد پہلی بار کم ترین سطح تک پہنچ گئی۔
اتوار کے روز بٹ کوائن عارضی طور پر 99,000 ڈالر سے نیچے گر گیا، جو ایک ماہ سے زائد عرصے میں اس کی کم ترین سطح تھی، اسی دوران ایتھرم کی قیمت میں بھی 10 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی۔
دیگر کرپٹو کرنسیز جیسے سولانا، ایکس آر پی اور ڈوج کوائن نے بھی نمایاں گراوٹ کا سامنا کیا، جس کے باعث کرپٹو مارکیٹ مجموعی طور پر شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں:
تاہم اتوار کی شام تک ڈیجیٹل اثاثوں میں کچھ حد تک بحالی دیکھی گئی، بٹ کوائن کی قیمت 101,000 ڈالر کے قریب آ گئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف 1 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ ایتھرم کی قدر میں بھی کچھ بہتری آئی اور وہ 2.
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی ہے، جو عالمی تیل کی رسد کا تقریباً 20 فیصد سنبھالتی ہے، جے پی مورگن نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ راستہ مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے تو تیل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
ایک نمایاں تحقیقی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ امریکی افراط زر کو دوبارہ 5 فیصد کی سطح تک لے جا سکتا ہے، جو مارچ 2023 کے بعد سب سے زیادہ ہو گا۔
مزید پڑھیں:
اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو شرح سود کے مستقبل پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں قیاسی اثاثوں، خاص طور پر کرپٹو، سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
اگرچہ بٹ کوائن کو اکثر افراط زر سے بچاؤ کا ذریعہ بتایا جاتا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں اس کا رویہ زیادہ رسک والے ٹیکنالوجی اسٹاک کی طرح دکھائی دے رہا ہے۔
کرپٹو ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی کائیکو کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں بٹ کوائن اور ٹیکنالوجی پر مبنی نیس ڈیک انڈیکس کے درمیان تعلق میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو رواں سال کے آغاز میں کئی مہینوں کی کم ترین سطح پر تھا۔ اُس وقت بٹ کوائن کے اسپاٹ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ میں سرمایہ کاری میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا تھا۔
مزید پڑھیں:
ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے رجحان میں بھی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ کوائن گلاس کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ہفتے پیر سے بدھ تک اسپات بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ میں 1.04 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ آیا، لیکن اختتام ہفتہ سے قبل یہ رجحان تقریباً ختم ہو گیا۔
جمعرات کو خالص سرمایہ کاری صفر رہی جبکہ جمعہ کو محض 6.4 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جی 7 اجلاس سے قبل از وقت روانہ ہونے اور ایران سے متعلق 2 ہفتے کی پالیسی نظرثانی کے اعلان کے ساتھ موافق تھی۔
اس کے علاوہ تکنیکی سطح پر ہونے والی گراوٹ نے بھی فروخت کے رجحان کو مزید بڑھاوا دیا۔
مزید پڑھیں:
کوائن گلاس کی تحقیق کے مطابق، بٹ کوائن کے 99,000 ڈالر سے نیچے گرنے کے بعد بائنانس اور بائی بٹ جیسے غیر ملکی ڈیریویٹو پلیٹ فارمز پر جبری فروخت کا عمل شروع ہوا، اتوار کے روز 24 گھنٹوں کے اندر ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو پوزیشنز ختم کر دی گئیں، جن میں سے 95 فیصد طویل المدتی خریداریوں پر مشتمل تھیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اختتامِ ہفتہ سے قبل مارکیٹ میں غیر معمولی حد تک زیادہ خطرہ لیا جا رہا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپاٹ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ بائنانس بٹ کوائن پلیٹ فارمز سرمایہ کاری کائیکو کرپٹو کرنسی کرپٹو مارکیٹ کوائن گلاس نیس ڈیک انڈیکس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بٹ کوائن پلیٹ فارمز سرمایہ کاری کائیکو کرپٹو کرنسی کرپٹو مارکیٹ نیس ڈیک انڈیکس سرمایہ کاری بٹ کوائن کے مطابق ڈالر سے میں بھی کی قیمت کے بعد
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔