حکومت نے مشکل حالات میں متوازن بجٹ پیش کیا ہے، تمام شراکت داروں کی تجاویز اور سفارشات بجٹ کا حصہ ہیں، ٹیکس کی تعمیل اور بنیاد میں وسعت پر توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 جون2025ء) وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے مشکل حالات میں متوازن بجٹ پیش کیا ہے، تمام شراکت داروں کی تجاویز اور سفارشات بجٹ کا حصہ ہیں، 12 لاکھ تک کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح ایک فیصد رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ٹیکس کی تعمیل اور بنیاد میں وسعت پر توجہ دی جا رہی ہے، سولر پینلز پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہو گی، روئی اور دھاگے کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی کی چھوٹ ختم کر دی جائے گی، 75 سال سے زائد عمر والے پنشنرز کسی بھی قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔
پیر کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پرعام بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ وہ وزیراعظم، ڈپٹی وزیراعظم، اراکین قومی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیز کے چیئرمینوں اور اراکین، اتحادی جماعتوں کے اراکین، اراکین قومی اسمبلی اور تمام شراکت داروں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے بجٹ کی تیاری، بحث اور اس حوالہ سے تجاویز اور سفارشات کو حتمی شکل دینے میں تعاون فراہم کیا، اس رہنمائی کی وجہ سے حکومت کومتوازن بجٹ دینے میں مدد ملی۔(جاری ہے)
وزیرخزانہ نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے دوران حکومتی اخراجات میں کمی اورٹیکس کی بنیاد اور تعمیل پر زور دیا گیا ہے، ٹیکس کی بنیادمیں وسعت اورتعمیل کیلئے ایف بی آرمیں اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کوآگے بڑھایا جا رہا ہے، تنخواہ دارطبقہ پرٹیکسوں کابوجھ کم کر دیا گیا ہے، تعمیراتی شعبہ کوریلیف دیاگیا۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ ٹیرف کو معقول بنانا اہمیت کاحامل ہے،درآمدی خام مال اور ٹیرف لائنزمیں سہولت سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ صنعتوں کو فروغ دینے اور اصلاحات کے عمل کوآگے بڑھانے میں بھی مدد ملے گی، صنعتی پالیسی تیارہے اور اس کا اعلان جلد ہو گا جبکہ الیکٹرانک گاڑیوں کیلئے پالیسی کااعلان بھی جلدکیاجائے گا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ توانائی سمیت اہم شعبوں میں اصلاحات کاعمل جاری رہے گا،سماجی بہبودکے شعبہ میں بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ 592 ارب روپے سے بڑھاکر 716 ارب روپے کر دیا ہے۔ اس اقدام سے تقریباً ایک کروڑ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی بھرپور کوشش ہو گی کہ ان خاندانوں کے افراد کو ہنر مندکارکن بنایا جائے اور ان کو اپنی زندگیوں میں بڑی تبدیلی لانے، غربت کے چکر کو توڑنے اور معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے۔ اس حوالے سے حکومت، بینظیر ہنر مند پروگرام کو مطلوبہ وسائل فراہم کرے گی۔ اسی طرح حکومت برٹش ایشین ٹرسٹ کے اشتراک سے پاکستان کا پہلا سکلز ایمپیکٹ بانڈ متعارف کرانے جا رہی ہے جو نتائج پر مبنی مالی معاونت کی نئی مثال بنے گا اور نوجوانوں کو مارکیٹ سے ہم آہنگ تربیت فراہم کرے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے زرعی شعبہ کے فروغ اور چھوٹے کسانوں کی معاونت کیلئے بغیر ضمانت اور نقد بنیادوں پر قرضے فراہم کرنے کا فلیگ شپ پروگرام بنایا ہے جس کے تحت ساڑھے بارہ ایکڑ تک کے چھوٹے کسانوں کو ڈیجیٹل ذرائع سے 10 لاکھ روپے تک کے قرضے دیئے جائیں گے۔ اس قرض سے منظور شدہ بیج، کھاد، زرعی ادویات اور ڈیزل کی ادائیگی کی جا سکے گی اور کسان کو فصل اور زندگی کی بیمہ سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ حکومت کسانوں کیلئے الیکٹرانک ویئر ہائوس رسید کا نظام وضع کرنے جا رہی ہے جس کے تحت اناج کو سٹور کرنے میں مدد ملے گی، کسانوں کو اپنی فصل کی بہتر قیمت ملے گی اور مجموعی فوڈ سکیورٹی میں استحکام آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قابل اسطاعت ہائوسنگ فنانس کے فروغ اور پہلی بار گھر خریدنے یا تعمیر کرنے کے خواہشمند کم آمدنی والے افراد کیلئے 20 سالہ مدت کی قرض سکیم متعارف کرانے جا رہے ہیں، خواتین کی مالی شمولیت کیلئے خواتین کیلئے مخصوص مالیاتی پروگرام کے تحت ایک لاکھ ترانوے ہزار سے زیادہ خواتین کو 14 ارب روپے کے قرضے فراہم کئے جا چکے ہیں۔ اگلے مالی سال میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے خواتین کو تقریباً 14 ارب روپے کے مزید قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے بوجھ کا بخوبی احساس ہے۔ دستیاب مالی گنجائش میں رہتے ہوئے ریلیف فراہم کرنے کیلئے ، حکومت نے ابتدائی طور پر 32 لاکھ روپے تک کی آمدن کی سلیبز پر ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز دی۔ اسی طرح 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد کرنے کی تجویز تھی تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت نے اس آمدن یعنی 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے پر ٹیکس کی شرح مزید کم کر کے صرف ایک فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے اس کیٹگری میں شامل تنخواہ دار طبقہ کو اضافی ریلیف ملے گا اور ان کی مالی مشکلات میں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ میں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ بجٹ تقریر سے یہ تاثر لیا گیا کہ پنشن پر ٹیکس عائد ہونے کی وجہ سے کمیوٹیشن اور گریجویٹی کی رقم پر بھی ٹیکس عائد ہو گا لیکن ایسا نہیں ہے جو لوگ سالانہ ایک کروڑ سے زائد پنشن وصول کرتے ہیں صرف انہی پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے جبکہ وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات پر75سال سے زائد عمر والے پنشنر کسی بھی قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سولر آلات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا تھا جس کو اب کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس ٹیکس کا اطلاق صرف چھیالیس (46) فیصد درآمدی پرزہ جات پر ہو گا جس سے امپورٹڈ سولر پینلز کی قیمت میں صرف 4.6 فیصد اضافہ ہو گا۔ ہمیں درآمدی سولر پینلز پر مجوزہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے قبل ہی بعض عناصر کی جانب سے ناجائز منافع اور ذخیرہ اندوزی کی اطلاعات ملی ہیں۔ اس تجویز کے عملی نفاذ سے قبل ہی موقع پرست عناصر کی جانب سے قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کرنا قابل مذمت ہے۔ جیسا کہ میں نے سینیٹ میں کہا تھا میں ان عناصر کو سختی سے متنبہ کرتا ہوں کہ حکومت کسی کو عوام کے استحصال کی اجازت نہیں دے گی اور ان عناصر کیخلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پا کستان کی خصوصی ہدایت پر ٹیکس فراڈ کے حوالے سے ایف بی آر کے موجودہ اختیارات اور فنانس بل کے ذریعے مجوزہ تبدیلیوں کا ایک مرتبہ پھر بغور جائزہ لیا گیا، جس کے تحت ٹیکس فراڈ کی قابل اور ناقابل دست اندازی کیٹگریز بنا دی گئی ہیں۔ اب مزید پانچ کروڑ روپے تک کے کیسز میں ایف بی آر بغیر عدالتی وارنٹ گرفتاری نہیں کر سکے گا۔ علاوہ ازیں گرفتاری کیلئے تین بار نوٹسز کے باوجود جان بوجھ کر انکوائری کا حصہ نہ بننے، راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرنے اور ریکارڈ کو ٹمپر کرنے کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔ ان شرائط کے باوجود گرفتاری کی منظوری کسی ایک افسر کی بجائے ایف بی آر کی اعلیٰ سطحی تین رکنی کمیٹی دے گی اور گرفتار شدہ افراد کو 24 گھنٹوں میں سپیشل جج کی عدالت میں پیش کرنا لازم ہو گا۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی یقینی بنایا جائے گا کہ اس عمل کے دوران کسی شہری سے زیادتی نہ ہو اور قانون میں دیئے گئے اختیارات کا ناجائز استعمال نہ ہو۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی زیادہ تر سفارشات کو بھی مجوزہ ترمیمی فنانس بل میں شامل کر لیا گیا ہے جن میں سے اہم سفارشات کا تذکرہ کرنا ضروری ہے، مالی بل میں اس بار ای کامرس پر ٹیکس لگانے کے خصوصی اقدامات تجویز کئے گئے تھے۔ ان اقدامات کی بنیادی وجہ ریٹیل بزنس اور ای کامرس کے درمیان لیول پلے انگ فیلڈ پیدا کرنا تھا تاہم معاشی سرگرمیوں میں ای کامرس کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ای کامرس سرگرمیوں میں شامل مائیکرو اور سمال بزنس کو ایک آسان نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان پر ٹیکسوں میں اضافے کا اطلاق محدود بنیاد پر ہو گا۔ اس اقدام سے ای کامرس میں گھر سے کام کرنے والوں اور چھوٹے کاروبار کی سہولت میں اضافہ ہو گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ماضی میں لوگ ظاہر کئے گئے معاشی وسائل سے بڑھ کر بڑی بڑی جائیدادیں خریدتے تھے۔ مجوزہ فنانس بل میں انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 114 سی کے تحت ایسے لوگوں پر بڑی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز تھی۔ وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات پر اس نئے قانون کا اطلاق فی الوقت 5کروڑ روپے مالیت کے رہائشی پلاٹ یا مکان، دس کروڑ روپے مالیت تک کے کمرشل پلاٹ یا جائیداد اور 70 لاکھ روپے تک کی گاڑی کی خریداری پر نہیں ہو گا۔ وفاقی حکومت کو مناسب وقت پر ان مالیاتی حدود میں کمی بیشی کرنے کا اختیار دینے کی تجویز ہے۔ اس اقدام سے معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد ملے گی۔ موجودہ قانون کے تحت یکم جولائی 2024ء سے پہلے خریدی گئی جائیداد پر 6 سال کی مدت گزرنے کے بعد کیپٹل گین ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا ہے تاہم اس جائیداد کی فروخت پر ساڑھے چار سے چھ فیصد تک ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ یہ ٹیکس عمومی طور پر ریٹرن فائل کرنے پر ریفنڈ کی شکل میں واپس کر دیا جاتا ہے جس میں تاخیر کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایات پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ15سال یا اس سے زائد مدت تک ذاتی استعمال میں رہنے والی رہائش پر اس ودہولڈنگ ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔ اس سہولت کے بیجا استعمال کو روکنے کیلئے اس سہولت کا اطلاق 15 سال میں صرف ایک ذاتی جائیداد کی فروخت پر ہو گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں برآمدات میں اضافہ کیلئے چند سالوں سے برآمدی سہولت سکیم متعارف کرائی گئی تھی جس میں ایکسپورٹرز کو بغیر ڈیوٹی اور ٹیکس دیئے خام مال درآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ پچھلے تین سال کے اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سکیم کے تحت دی گئی رعایت کی وجہ سے پاکستان میں پیدا شدہ کپاس، روئی اور دھاگہ کی قیمت اور درآمد شدہ اشیاء کی قیمتوں میں واضح فرق پیدا ہو ا جس کی وجہ سے کپاس کی فصل اور اس کے کاشتکاروں پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ درآمدی اور ملکی پیداوار میں اس فرق کو ختم کرنے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ روئی اور دھاگے کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی کی چھوٹ ختم کر دی جائے۔ اس اقدام سے کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہو گا، سپننگ ملوں کی بحالی ہو گی اور غیر ملکی زر مبادلہ کی بچت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم فنڈ پروگرام کے تحت ملک میں مالیاتی نظم و ضبط میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان بیان کردہ ٹیکس رعایتوں کے نتیجے میں ٹیکس وسائل میں کمی کو پورا کرنے کیلئے تین مزید بجٹ تجاویز اس ایوان میں پیش کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات میں یہ خیال رکھا گیا ہے کہ صنعتی اور کاروباری طبقہ کے اوپر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ کوشش ہے کہ یہ نئے ٹیکس اقدامات صاحب حیثیت افراد پر عائد کئے جائیں۔ میں یہ بھی واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات پر صنعتوں کو بھی نئے ٹیکس اقدامات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ہماری صنعتیں عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل ہو سکیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ انکم ٹیکس کے ضمن میں سب سے پہلے تجویز یہ ہے کہ میوچل فنڈز کی طرف سے کمپنیوں کو جاری کردہ ڈیویڈنڈ میں سے ڈیبٹ پورشن سے حاصل شدہ آمدن پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے بڑھا کر 29 فیصد کی جائے۔ واضح رہے کہ ان کمپنیوں کے دیگر ذرائع آمدن پر 29 فیصد کی شرح پہلے سے لاگو ہے، کارپوریشنز اور کمپنیوں کی طرف سے گورنمنٹ سکیورٹیز میں کی گئی سرمایہ کاری پر ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے، میں یہاں یہ بات واضح کر دوں کہ حکومت کی ایک ترجیح یہ بھی ہے کہ نجی کاروبار وں کو زیادہ سے زیادہ قرضے مل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری کی صنعت میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور اس صنعت میں چوزوں کی ہیچری کا کاروبار ایک اہم جزو کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس سے وصول ہونے والا ٹیکس نہ ہونے کے برابر ہے، لہٰذا اس کی درستگی کیلئے تجویز کیا جا رہا ہے کہ ہیچری کے ایک دن کے چوزوں پر دس روپے فی چوزہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے تاکہ قومی آمدنی میں اس شعبے کا حصہ بھی شامل ہو سکے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران۔ اسرائیل جنگ کی وجہ سے ہمارے خطے کے معاشی توازن پر منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ میں اس معزز ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت ان تمام معاملات پر اور ان کے نتیجے میں ہماری معیشت پر ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے اس حوالے سے ایک اہم کمیٹی 14 جون کو ہی تشکیل دے دی تھی جس میں میرے علاوہ متعلقہ وزرا اور اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان انہوں نے کہا کہ خزانہ نے کہاکہ پر ٹیکس کی شرح کرنے کی تجویز قومی اسمبلی کیا گیا ہے کی جائے گی میں اضافہ ہدایات پر ٹیکس عائد لاکھ روپے فیصلہ کیا کی وجہ سے جا رہی ہے اضافہ ہو کا اطلاق کی خصوصی کہ حکومت ارب روپے حکومت نے روپے تک فیصد کر ملے گی گی اور کے تحت کر دیا اور ان میں یہ کا حصہ ایف بی اور اس میں ای
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔