کراچی ناقابل رہائش ہے تو ہزاروں لوگ کراچی کیوں آ رہے ہیں؟ شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
سندھ اسمبلی سے خطاب میں وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ مانتے ہیں کراچی میں مسائل ہیں مگر تین کروڑ لوگوں کو کسی نہ کسی طرح پانی مل رہا ہے، کراچی میں صفائی بھی ہو رہی ہے، کچرا بھی اٹھ رہا ہے اور لوگ کام پر بھی جا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں ایک رپورٹ کو اچھالا گیا کہ کراچی قابل رہائش شہر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی قابل رہائش نہیں ہے تو پورے ملک سے ہزاروں لوگ کراچی کیوں آرہے ہیں؟ سندھ اسمبلی سے خطاب میں شرجیل میمن نے یہ سوال بھی کیا کہ اگر کراچی قابل رہائش نہیں ہے تو پورے ملک کے لوگ کراچی کے بجائے لاہور، اسلام آباد اور پشاور کیوں نہیں جارہے؟ انہوں نے کہا کہ مانتے ہیں کراچی میں مسائل ہیں مگر تین کروڑ لوگوں کو کسی نہ کسی طرح پانی مل رہا ہے، کراچی میں صفائی بھی ہو رہی ہے، کچرا بھی اٹھ رہا ہے اور لوگ کام پر بھی جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔