جب دنیا “چین کو ٹٹولتے ہوئے دریا پار کرنے” لگی،چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
بیجنگ:چین کو ٹٹولتے ہوئے دریا پار کرنا”۔ یہ فقرہ آج کل کے دور میں کئی ممالک کی جانب سے چین کے ترقیاتی تجربات سے استفادہ کرنے کے عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اصل میں چین کے مرحوم معاشی رہنما چھن یون کے 1950 میں پیش کردہ ایک نعرے “پتھروں کو ٹٹولتے ہوئے دریا پار کرو” کی جدید شکل ہے، جس کا مطلب یہ تھا کہ معاشرتی و معاشی ترقی اور اصلاحات کے تجربے کی کمی کے دور میں بڑے پیمانے پر تجربات کریں، متجسس انداز میں راستہ تلاش کریں، اصولوں کو سمجھیں اور مستحکم طور پر آگے بڑھیں۔1978 میں شروع ہونے والی چین کی اصلاحات و کھلے پن کی پالیسی اسی “پتھروں کو ٹٹولتے ہوئے دریا پار کرو” کے اصول پر عمل کرتی رہی، جس میں مقامی سطح پر تجربات کرنے، تجربات سے سبق سیکھنے اور پھر انہیں وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کے ذریعے چین نے اپنی قومی خصوصیات کے مطابق ترقی کا راستہ تلاش کیا۔ آج کئی ممالک چین کے اس ترقیاتی ماڈل سے استفادہ کر رہے ہیں اور قابل ذکر کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔
چین کو ٹٹول کر دریا پار کرنا” کا یہ فقرہ چین کے عالمی اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔جب ویتنام نے چین کی اصلاحات کی تقلید کرتے ہوئے 6% سالانہ شرح نمو کے ساتھ “جنگ کے بعد ترقیاتی معجزہ” تخلیق کیا، جب روانڈا چینی ماڈل اپنا کر افریقہ کی نئی ترقیاتی قوت بن کر ابھرا، جب امریکی اعلیٰ عہدیدار نے چین کی “طویل المدتی منصوبہ بندی کی صلاحیت” سے سیکھنے کی بات کی ، تو عوامی مرکزیت پر مبنی، عملی اور کھلے چینی ترقیاتی نمونے نے عالمی سطح پر اپنی افادیت ثابت کی ہے، جو نظریات سے بالاتر ہو کر ایک جدید ترقیاتی نقطہ نظر اور کامیابی کا راستہ بن چکا ہے۔ویتنام کی مثال لیجئے۔ بہت سے چینی باشندوں کی نظر میں ویتنام خوراک، لباس، رہائش اور نقل و حمل سے لے کر ثقافت اور معیشت تک ایک “چین کا چھوٹا ورژن” لگتا ہے۔ ان کی اصلاحات کی راہ بھی واضح طور پر چینی انداز کی پیروی کرتی ہے۔ ویتنام نے 1986 سے چین کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اصلاحات پر مبنی اور کھلی پالیسی اپنائی اور سوشلسٹ مارکیٹ معیشت قائم کی۔ ابتدائی اصلاحات میں سنگین معاشی بحران کے پیش نظر کچھ محدود اور بتدریج اقدامات کیے گئے، جیسے کہ زراعت، صنعت اور بیرونی تجارت پر کنٹرول میں نرمی، نجی کاروبار اور مارکیٹ لین دین کی اجازت، کسانوں کو زمین کے استعمال کے حقوق کی تقسیم وغیرہ۔ بعد میں وسیع پیمانے پر گہری اصلاحات کی گئیں جن میں سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی کا قیام، غیر اہم شعبوں میں نجی ملکیت کو تسلیم کرنا، سرکاری اداروں کی اصلاح اور نجی شعبے کی ترقی، عالمی تجارتی تنظیم اور علاقائی معاشی گروپوں میں شمولیت، اور کھلے پن کی پالیسیاں شامل ہیں۔ان اقدامات نے ویتنام کی معاشی ساخت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا اور بین الاقوامی سطح پر انضمام کو فروغ دیا، جس سے ویتنام جنوب مشرقی ایشیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک بن گیا۔
صرف ویتنام ہی نہیں، بلکہ گلوبل ساؤتھ کے وسیع خطوں میں چین کے تجربات مقامی حالات کے مطابق ترقیاتی قوت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ازبکستان نے غربت کے خلاف قومی حکمت عملی اور اہداف طے کیے ہیں اور تمام صوبوں میں غربت کے خلاف چین کے تجربات کو آزمایا جا رہا ہے۔ تقریباً دس ہزار ازبک شرکاء نے غربت کے خلاف چین کے آن لائن تربیتی کورسز میں حصہ لیا۔ ازبکستان نے کمیونٹی پر مبنی ایک نظام قائم کیا ہے جس میں “غریب خاندانوں کی مدد کی فہرست”، “خواتین کی مدد کی فہرست” اور “نوجوانوں کی مدد کی فہرست” اہم حصہ ہیں، اور اس کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں۔ایسی اور بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ ان عملی اقدامات سے چینی ماڈل کی روح واضح ہوتی ہے: ریاستی رہنمائی اور مارکیٹ کی سرگرمیوں کا باہمی تعاون، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی منصوبہ بندی کے ذریعے ترقی کی بنیاد رکھنا، اور مخلوط ملکیت کے نظام کے ذریعے معیشت کو خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرنا۔ تبدیل ہوتی معیشتوں کے لیے چین نے بتدریج اصلاحات کا ایک سائنسی طریقہ کار پیش کیا ہے، جس میں “پائلٹ پراجیکٹس – وسیع نفاذ” کا طریقہ کار انتہائی تبدیلیوں کے جھٹکوں سے بچاتا ہے، جبکہ کھلے پن کی پالیسی اصلاحات کے لیے قوت محرکہ بنتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک بھی چینی راستے کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کر رہے ہیں۔ امریکہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے حال ہی میں کہا کہ چین کے ساتھ تین سال کے تعلقات سے انہیں بہت فائدہ ہوا۔ انہوں نے خاص طور پر چین کی “طویل المدتی اور مسلسل حکمت عملی” اور دوسرے ممالک کے ساتھ ترقی کے فوائد بانٹنے پر مبنی “باہمی تعاون سے جیت جیت” ماڈل کا ذکر کیا۔
صرف امریکہ ہی نہیں، موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں چین نے “کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی” کے اہداف کو صنعتی مواقع میں تبدیل کر کے “چیلنجز کو قوت میں بدلنے” کا عملی فلسفہ پیش کیا ہے، جس سے یورپی یونین کی گرین ڈیل نے بھی استفادہ کیا ہے۔ “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشی ایٹو نے 150 سے زائد ممالک کے تعاون کے نیٹ ورک کے ذریعے مشاورت، مشترکہ تعمیر اور فوائد کی برابر کی شراکت کے نظریے سے کثیر الجہتی نظام کی روح کو نئی شکل دی ہے، جس نے زیرو سم گیم کی سوچ کو ترک کرتے ہوئے “شراکت” کو انسانی ترقی کا نیا اصول بنا دیا ہے۔بلاشبہ، دنیا کو محض کسی ایک ماڈل کی نقل کی نہیں، بلکہ تحریک کے مختلف ذرائع کی ضرورت ہے۔ ویتنام کی فیکٹریوں کی مشینوں کی آوازیں، صحارا ریگستان میں شمسی پینلز، اور ڈیووس فورم میں “نئ معیاری پیداواری صلاحیتوں” پر بحث ، یہ سب مل کر کسی اندھی تقلید کے بجائے متنوع ترقی کی ایک ہم آہنگ تصویر پیش کرتے ہیں۔ چینی راستے کی حتمی معقولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ ہر ملک اور قوم اپنے قومی حالات کے مطابق اپنے لیے موزوں ترقی کا راستہ تلاش کر سکتی ہے، اور یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ انسانیت بالادستی کے نظریات اور طاقت پر انحصار کے نظریوں سے بالاتر ہو کر آزاد انہ جدت طرازی اور مشترکہ تقدیر کے توازن میں جدید تہذیب کی تعمیر کر سکتی ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے ذریعے رہے ہیں چین کے سے چین چین کی کیا ہے
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :