Jasarat News:
2026-07-24@06:56:58 GMT

امریکا مت آئیو

اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا، وہ خوابوں کی سرزمین، جہاں لاکھوں دل ہر سال اپنی امیدوں کے پر جلاتے ہیں، اب ایک تاریک موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ وہی سرزمین ہے جہاں برصغیر کے تارکین وطن نے اپنی محنت کے موتی بکھیرے، اپنی صلاحیتوں سے اس کی گلیوں کو سجایا اور اپنے خوابوں کی قیمت اپنے وطن کی جدائی سے چْکائی۔ مگر امریکی عدالت عظمیٰ کے تازہ فیصلے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو جزوی طور پر بحال کر دیا جو پیدائشی شہریت کے حق کو چھینتا ہے۔ یہ فیصلہ برصغیر کے تارکین وطن کے لیے ایک زوردار طمانچہ ہے۔ وہ امریکا، جو کبھی ’’ترقی کا خدا‘‘ کہلاتا تھا، اب اپنے چاہنے والوں کے لیے مایوسی کا ایک کڑوا پیغام لے کر آیا ہے۔

جنوری 2025 میں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جو گویا امریکی آئین کی 14 ویں ترمیم کے سینے میں خنجر گھونپتا ہے۔ اس آرڈر کے مطابق، غیر قانونی تارکین وطن یا عارضی ویزوں، جیسے H1B، پر مقیم افراد کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے امریکی شہریت کا دروازہ بند کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ پالیسی غیر قانونی امیگریشن کے سمندر کو روکے گی اور امریکی وسائل پر بوجھ کم کرے گی۔ مگر یہ آرڈر آئینی تنازع کی آگ بھڑکاتا ہے، کیونکہ 14 ویں ترمیم کی آواز واضح ہے: ’’امریکا کی سرزمین پر پیدا ہونے والا ہر بچہ اس کا شہری ہے‘‘۔ یہ تنازع ایک ایسی لڑائی ہے جو قانون کے ایوانوں سے لے کر دلوں کی گہرائیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ جون 2025 میں، امریکی عدالت عظمیٰ نے 6-3 کے فیصلے سے ٹرمپ کے آرڈر کے خلاف ڈسٹرکٹ عدالتوں کے جاری کردہ ملک گیر حکم امتناع کے استعمال کو محدود کر دیا۔ یہ فیصلہ کوئی حتمی سزا نہیں، بلکہ ایک التوا ہے، جو پیدائشی شہریت کے حق کو 30 دنوں میں جزوی طور پر معطل کر سکتا ہے۔ عدالت نے آرڈر کی آئینی حیثیت پر فیصلہ موخر کر دیا، لیکن یہ کہا کہ ڈسٹرکٹ ججوں کے پاس صدارتی حکم کو ملک گیر سطح پر روکنے کا اختیار محدود ہونا چاہیے۔

یہ فیصلہ ایک تلخ سچائی کو عیاں کرتا ہے کہ امریکی عدالتیں سیاسی رنگوں میں رنگی ہوئی ہیں۔ جن چھے ججوں نے ٹرمپ کے حق میں فیصلہ دیا، وہ ریپبلکن کے نامزد کردہ ہیں اور جن تین نے مخالفت کی، وہ ڈیموکریٹس سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستانی تنقید نگار جو اپنی عدالتوں پر تنقید کرتے ہیں، شاید امریکی عدالتوں کی اس سیاسی وابستگی پر بھی نظر ڈالیں۔ یہاں انصاف کی دیوی کے ہاتھ میں ترازو کم، سیاسی وفاداری کا پرچم زیادہ نظر آتا ہے۔

ڈیموکریٹس اور شہری حقوق کی تنظیمیں، جیسے امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) نے اس ایگزیکٹو آرڈر کو عدالتوں میں گھسیٹ لیا۔ ان کا موقف ہے کہ یہ آرڈر 14 ویں ترمیم کے چہرے پر طمانچہ ہے۔ نیویارک، میری لینڈ، میساچوسٹس اور واشنگٹن کی عدالتوں میں مقدمات دائر ہوئے، جنہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیا۔ ڈیموکریٹس نے اسے سیاسی میدان میں بھی ٹرمپ کی امیگریشن مخالف پالیسیوں کا حصہ قرار دیا۔ مگر تارکین وطن کے لیے یہ شور ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ اوباما نے اپنے دور میں بلند و بانگ دعووں کے باوجود صرف آخری مہینوں میں DACA جیسا کمزور پروگرام دیا، جسے ٹرمپ نے ایک جھٹکے میں اُڑا دیا۔ ڈیموکریٹس تارکین وطن کے چمپئن بنتے ہیں، مگر ان کے وعدے اکثر ہوا کے جھونکوں کی مانند بے اثر ثابت ہوتے ہیں۔

اس ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف کم از کم تین مقدمات میری لینڈ، میساچوسٹس، اور واشنگٹن کی ڈسٹرکٹ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان عدالتوں نے آرڈر کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حکم امتناع جاری کیے، جنہیں عدالت عظمیٰ نے جزوی طور پر ہٹایا۔ مگر شہری حقوق کی تنظیمیں ہار ماننے کو تیار نہیں۔ یہ قانونی جنگ ایک ایسی شمع ہے جو ابھی ٹمٹما رہی ہے اور اس کے شعلے شاید تارکین وطن کے خوابوں کو مکمل طور پر راکھ ہونے سے بچا لیں۔

اس فیصلے سے سب سے زیادہ زخم غیر قانونی تارکین وطن اور H1B جیسے عارضی ویزوں پر مقیم افراد کو لگیں گے۔ برصغیر کے وہ لوگ جو اپنے بچوں کے لیے امریکی شہریت کا خواب لیے سمندر پار کرتے ہیں، اب اس امید کے دروازے بند پائیں گے۔ غیر قانونی طور پر مقیم حاملہ خواتین، گرفتاری کے خوف سے اسپتالوں سے دور رہیں گی۔ گھروں میں پیدائش کا سلسلہ بڑھے گا اور معصوم جانوں کی اموات کا سلسلہ بھی۔ ’’لٹل انڈیا‘‘، ’’لٹل پاکستان‘‘ اور ’’لٹل بنگلا دیش‘‘ جیسے علاقوں کی ثقافتی چمک دھیمی پڑ جائے گی۔ یہ وہ گلیاں ہیں جہاں برصغیر کے ذائقے، رنگ، اور خوشبوئیں امریکی فضا کو معطر کرتی ہیں۔ یہاں کے ریسٹورنٹس، دکانیں، اور ثقافتی کاروبار، جو غیر قانونی تارکین وطن کے سہارے چلتے ہیں، معاشی تنزلی کا شکار ہو جائیں گے۔ نان ایمیگرنٹ ویزوں والوں کے بچوں کا مستقبل H1B جیسے نان ایمیگرنٹ ویزوں پر مقیم افراد کے بچوں کے لیے امریکی شہریت کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ ان بچوں کا اسٹیٹس والدین کے ویزوں سے جڑا ہوگا اور شہریت کا حصول ایک لمبا، پیچیدہ، اور مہنگا عمل بن جائے گا۔ برصغیر کے ہنرمند پیشہ ور، جو اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر یہاں آتے ہیں، اب اپنے خاندان کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کی دلدل میں دھنسیں گے۔

ڈیموکریٹس آج تارکین وطن کے ہمدرد بنے پھرتے ہیں، مگر ان کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ان کے وعدے اکثر دھوئیں کے بادل ثابت ہوتے ہیں۔ اوباما نے اپنی دوسری مدت کے آخری ایام میں DACA جیسا کمزور پروگرام دیا، جو ٹرمپ کے ایک ہاتھ کے اشارے سے غائب ہو گیا۔ دوسری طرف، ریپبلکنز نے ماضی میں امیگریشن اصلاحات کی حمایت کی، جیسے 1986 کا امیگریشن ریفارم اینڈ کنٹرول ایکٹ، جس نے لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دی۔ مگر آج ٹرمپ کی قیادت میں ریپبلکنز امیگریشن مخالف پالیسیوں کی چوٹی پر کھڑے ہیں۔

اس پالیسی کا ایک چمکتا ہوا پہلو یہ ہے کہ برصغیر سے ہونے والا برین ڈرین شاید رک جائے۔ ہمارے ڈاکٹرز، انجینئرز، اور سافٹ ویئر ڈویلپرز، جو امریکی خواب کی چمک میں اپنا وطن چھوڑتے ہیں، اب اپنے دیس کی مٹی سے جڑے رہ سکتے ہیں۔ اس سے پاکستان، بھارت، اور بنگلا دیش کا متوسط طبقہ مضبوط ہوگا۔ اس کے ساتھ ایک تلخ سچائی بھی جڑی ہے۔ پاکستانی اشرافیہ، جو اپنے بچوں کی پیدائش کے لیے امریکا کا رخ کرتی ہے، اپنی وفاداریوں کو امریکی مفادات سے باندھ لیتی ہے۔ ان کا غیر اعلانیہ ’’امریکا فرسٹ‘‘ کا نظریہ قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ یہ پالیسی شاید اس رجحان کو روک دے، اور ہمارے اہل دماغ اپنے وطن کی اصلاح و ترقی کے لیے کام کریں۔

امریکا کی ترقی کا راز اس کے کھلے دروازوں میں ہے، جہاں دنیا بھر کے باصلاحیت دماغ یکجا ہوتے ہیں۔ اگر پیدائشی شہریت کا حق چھین لیا گیا تو یہ دروازے بند ہو جائیں گے۔ بین الاقوامی طلبہ یونیورسٹیوں سے غائب ہو جائیں گے، اور معاشی، سائنسی، ٹیکنالوجی، اور طبی شعبوں میں امریکا اپنی برتری کھو دے گا۔ یہ پالیسی گویا اس سرزمین سے اس کے خواب چھین رہی ہے۔

امریکا میں بڑی بڑی اسلامی کانفرنسوں میں شریک ہونے والوں کو لگتا ہے کہ یہاں آکر وہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مغرب کی چمک میں اکثر ہماری شناخت تحلیل ہو جاتی ہے۔ برصغیر کے تارکین وطن کی نسلیں مغربی تہذیب کے رنگ میں ڈوب کر اپنا نام و نشان کھو دیتی ہیں۔ یہ پالیسی شاید ہمیں اپنی جڑوں کی طرف لوٹنے پر مجبور کرے۔ امریکا کا یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے: ’’امریکا مت آئیو‘‘۔

برصغیر کے تارکین وطن کے لیے یہ وقت سوچنے کا ہے۔ شاید اب وقت ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو اپنے وطن کی مٹی سے جوڑیں، اپنے گھر کو سنواریں، اور اپنے خوابوں کو اپنی سرزمین پر سچ کریں۔ اور شکم کی ہجرت سے توبہ کریں۔ افتخار عارف کا شعر ہے:

شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غیر قانونی تارکین وطن برصغیر کے تارکین وطن ایگزیکٹو ا رڈر تارکین وطن کے امریکی عدالت یہ پالیسی شہریت کا یہ فیصلہ ٹرمپ کے کر دیا کے لیے وطن کی

پڑھیں:

’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان

پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ معروف گلوکار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے عیسیٰ خیل میں اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ آخرت کی تیاری کو زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے حال ہی میں صحافی ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، موسیقی اور ذاتی خیالات پر کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے۔ میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، مکمل بن چکی ہے۔ اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا ورنہ بعد میں خود ہی دیکھ لیں گے۔ ہمارا اپنا خاندانی قبرستان بھی ہے، جہاں میں نے اپنے لیے ایک قبر مخصوص کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ چند جگہیں اور بھی ہیں جن میں سے ایک کے بارے میں میں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ میری اہلیہ کے لیے ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ مذاق کر رہا ہوں حقیقت میں صرف اپنی قبر محفوظ کروائی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔

گلوکار نے قبر کے بارے میں بتایا کہ یہ خیال اس وقت آیا جب میں نے ایک فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروائی۔ پھر سوچا کہ میرے لیے بھی ایک جگہ ہونی چاہیے۔ میں اپنے کئی قریبی دوستوں، عزیزوں، خاندان کے افراد اور اپنی والدہ کو کھو چکا ہوں، اسی لیے موت کا خیال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ میری صرف یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے پُرسکون موت عطا فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں: عطااللہ عیسیٰ خیلوی کس کے لکھے گانے گا کر مشہور ہوئے؟

عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔ ایک صارف نے لکھا قبر پہلے سے بنوانا درست نہیں البتہ کفن کی تیاری کی جا سکتی ہے۔

ایک اور نے تبصرہ کیا صرف قبر تیار کر لینا کافی نہیں، اصل تیاری آخرت کی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان کا ایمان مضبوط ہے، ہم تو قبر کا ذکر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا قبر بنانے کے بجائے اگر اولڈ ایج ہوم بنا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عطااللہ عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی قبر قبر گلوکار ویڈیو وائرل

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی