پنجاب میں غیرقانونی طور پر رکھے گئے شیروں اور دیگر خطرناک جانوروں کےخلاف کریک ڈاؤن شروع
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
پنجاب بھر میں غیرقانونی طور پر رکھے گئے شیروں اور دیگر خطرناک جانوروں کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایت پر پنجاب وائلڈ لائف رینجرز نے صوبہ بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کارروائی کرتے ہوئے 18 شیر بازیاب کر لیے ہیں اور مختلف شہروں سے 5 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پنجاب وائلڈ لائف نے کارروائیوں کے دوران 5 مقدمات بھی درج کیےاور بتایا کہ دو کیسز زیر تفتیش ہیں۔
ڈی جی وائلڈلائف پنجاب کے مبین الہٰی کی سربراہی میں لاہور کے علاقہ بیدیاں روڈ میں ایک نجی بریڈنگ فارم سے پانچ شیر برآمد کیے گئے جن میں تین نر اور دو مادہ شیر شامل ہیں۔
ایکسپریس نیوز کو انٹرویو میں ڈی جی وائلڈلائف پنجاب مبین الہٰی نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں مختلف مقامات پر انسپکشن کی گئی، لاہور میں 9 شیر تحویل میں لیے گئے اور 4 افراد گرفتار ہوئے، ایک احاطہ سیل اور 3 مقدمات درج کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ گوجرانوالہ سے 4 شیر برآمد کیے گئے، ایک ایف آئی آر زیر کارروائی ہے، فیصل آباد میں 2 شیر تحویل میں لیے گئے، ایک احاطہ سیل کیا گیا اور ایک مقدمہ زیر تکمیل ہے، ملتان سے 3 شیر بازیاب کرائے گئے، ایک شخص گرفتار اور دو ایف آئی آرز درج کی گئیں۔
مبین الہٰی نے بتایا کہ بگ کیٹس کی کسی صورت شہری آبادیوں میں رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے اور خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔
وائلڈ لائف رینجرز کے مطابق پنجاب میں اس وقت 587 "بِگ کیٹس” کی موجودگی ظاہر کی گئی ہے تاہم حکام کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے جانور غیرقانونی طور پر شہری یا دیہی علاقوں میں پالے جا رہے ہیں۔
پنجاب کی سینئر وزیر اور جنگلات مریم اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ جنگلی حیات کا غیرقانونی کاروبار ناقابل برداشت ہے اور عوامی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ غیرقانونی طور پر شیر رکھنا نہ صرف سنگین جرم ہے بلکہ معاشرتی خطرہ بھی ہے۔
مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور وائلڈ لائف قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، "قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں”۔
وائلڈ لائف رینجرز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کہیں غیرقانونی طور پر شیر یا دیگر خطرناک جانور رکھے جانے کی اطلاع ہو تو فوری طور پر ہیلپ لائن 1107 پر اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
دوسری طرف جانوروں کے حقوق کی وکیل عزت فاطمہ نے کہا غیرقانونی بگ کیٹس رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن احسن اقدام ہے، وائلڈلائف کو خطرناک جانور نجی تحویل میں رکھنے سے متعلق مزید موثر اور سخت کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بگ کیٹس رکھنے کا لائسنس صرف ایسے افراد کو ملنا چاہیے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق بریڈنگ فارم بنائے، بگ کیٹس کے علاوہ دیگر نایاب جنگی حیات گھروں میں رکھنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں ہونی چاہیں۔
ماحولیاتی اور اینیمل رائٹس وکیل التمش سعید کہتے ہیں کہ سرکس میں شیروں کا کھیل تماشا دکھانے والوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا جائے اور انہوں نے اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان وائلڈ لائف کریک ڈاؤن بتایا کہ انہوں نے کے خلاف بگ کیٹس
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔