data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ /واجد حسین انصاری ) شہر قائدکی ترقی کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی سندھ حکومت کی کراچی دشمنی ایک مرتبہ پھر کھل کر سامنے آگئی۔ مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں شہر کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم میں سے 183ارب روپے خرچ ہی نہیں کیے جاسکے۔ عوام کو جھانسہ دینے کے لیے بچ جانے والی رقم کو نئے مالی سال میں منتقل کردیا گیا۔کراچی کی نمائندگی کادعویٰ کرنے والی
جماعتوں ایم کیو ایم پاکستان اور تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کی کھلی ناانصافی کے خلاف چپ سادھ لی اور شہر سے ہونے والی زیادتی پر سندھ اسمبلی کے ایوان میں کوئی آواز بلند نہیں کی۔ ذرائع کے مطا بق مالی سال 2024-25کے لیے صوبائی حکومت نے کراچی کے 4644ترقیاتی منصوبوں کے لیے 493ارب مختص تھے۔اس رقم میں کیپٹل پر 445ارب اور ریونیو پر 47ارب روپے شامل تھے۔ذرائع نے بتایا کہ پورے مالی سال میں 299ارب روپے جاری کیے گئے جس میں کیپٹل پر 272ارب اور ریونیو پر 24روپے شامل تھے۔ حیرت انگیزطور پر مالی سال میں صرف 282روپے خرچ کیے جاسکے اور 193ارب روپے خرچ ہی نہ ہوسکے۔پورے مالی سال میں کراچی کے لیے مختص رقم میں سے صرف 57.

2فیصد رقم ہی خرچ کی جاسکی جو پیپلزپارٹی کی حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ خرچ کیے جانے والے 282ارب روپے میں بھی مالی باقاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ ریکارڈ کی درستگی کے لیے بچ جانے والی 183ارب روپے کی رقم نئے مال میں منتقل کردی گئی ہے اور جھانسہ دیا جارہا ہے اس مالی سال میں کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ رقم خرچ کی جائے گی۔اس ضمن میں شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت پہلے ہی کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقم کم رکھتی ہے اور اس میں سے بھی رقم کا استعمال نہ کیا جانا حیرت انگیز ہے۔کراچی اس وقت مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے لیکن پیپلزپارٹی حکومت نادر شاہی انداز میں شہر کے لیے احکامات جاری کررہی ہے۔ان حلقوں کا کہنا ہے کہ کراچی کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی جماعتوں ایم کیو ایم پاکستان اور تحریک انصاف کا پیپلزپارٹی کی اس کھلی ناانصافی پر خاموش رہنما ایک سوالیہ نشان ہے۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ کراچی کے لیے مختص رقم کو شفاف انداز میں شہر کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔سوائے جماعت اسلامی کے کوئی اور سیاسی جماعت کراچی کا مقدمہ لڑنے میں ناکام رہی ہے۔سندھ اسمبلی میں موجود اپوزیشن جماعتوں کو اس حوالے سے ایوا ن میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ترقیاتی منصوبوں پیپلزپارٹی کی مالی سال میں لیے مختص کراچی کے کے لیے خرچ کی

پڑھیں:

لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی

فائل فوٹو

ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔

ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔

ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔

لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا