پشاور ہائی کورٹ کا اعظم سواتی کو نیب تفتیش جوائن کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
پشاور:
ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو نیب تفتیش جوائن کرنے کا حکم دے دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے اور بیرونی ملک جانے کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
عدالت کا اعظم سواتی کو نیب تفتیش جوائن کرنے کا حکم دے دیا اور ساتھ ہی عدالت نے نیب کو اعظم سواتی سے تفتیش جلد مکمل کرنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کرانے کا حکم بھی دیا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق نیب انوسٹیگیشن آفیسر آئند سماعت پر پیش ہوں اور تفتیش کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کریں۔ نیب نے اعظم سواتی کو کال آف نوٹس جاری کیا، درخواست گزار نے نیب تفتیش جوائن کی ہے۔ نیب جلد تفتیش مکمل کرنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کرے۔
حکم نامے میں عدالت نے مزید لکھا کہ وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار دل کا مریض ہے اور یو اے ای علاج کے لیے جانا چاہتا ہے۔درخواست گزار کو یو اے ای کا 60 دن کا ویزا جاری ہوا ہے۔ درخواست گزار اس سے پہلے بھی اس عدالت سے رجوع کر چکا ہے اور عدالت کے حکم پر ان کا نام ای سی ایل، پی سی ایل و دیگر لسٹ سے نکالا گیا تھا۔
پشاور ہائی کورٹ نے حکم نامے میں مزید لکھا کہ درخواست گزار نے اس دوران کوئی جرم نہیں کیا۔ درخواست گزار کا آئینی حق ہے کہ ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔ درخواست گزار کو آزاد گھومنے پھرنے کا حق حاصل ہے۔ درخواست پر ابھی فائنل فیصلہ نہیں ہوا۔ پشاور۔ نیب جلد تفتیش مکمل کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان نیب تفتیش جوائن اعظم سواتی کو درخواست گزار کا حکم کے لیے
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔