عمرایوب کے اکتوبر 2024 کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2025ء)اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے گزشتہ سال اکتوبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے۔4 اکتوبر 2024 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مظاہرین اور اسلام آباد پولیس کے درمیان اس وقت جھڑپیں ہوئیں، جب سیکڑوں پارٹی کارکنوں نے سیکیورٹی اقدامات اور سڑکوں کی بندش کے باوجود شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس سے چند روز قبل مختلف مقامات پر اکٹھا ہونے کی کوشش کی تھی، اس موقع پر سابق وزیراعظم عمران خان کی دو بہنوں سمیت 100 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج مقدمے کی سماعت کی۔(جاری ہے)
پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے وکلا سردار مصروف خان، زاہد بشیر ڈار، مرتضیٰ طوری اور مرزا عاصم عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران، جج طاہر عباس سپرا نے عمر ایوب کے خلاف قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان تمام ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرنے کا حکم دیا جو آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے تاہم، جج نے سینیٹر اعظم سواتی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی، جو وکیل کے مطابق گزشتہ روز جمع کرائی گئی تھی، بعد ازاں، عدالت نے مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔
گزشتہ روز جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں وکیل مصروف خان نے ان مقدمات کی سماعت کی رفتار پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ بعض ملزمان دور دراز علاقوں جیسے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے مردان سے آئے تھے، جنہیں اسلام آباد میں رات گزارنے کی کوئی جگہ نہیں ملی۔انہوں نے کہا کہ اگر ان مقدمات کو اس طرح بلڈوز کیا جائے گا اور آپ انہیں منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں دیں گے تو انصاف کی فراہمی ممکن نہیں رہے گی، وکیل نے عدالتوں سے اپیل کی کہ صرف ان افراد کو سزا دی جائے جو واقعی قصوروار ہیں، بے گناہوں کو نہ پھنسایا جائے۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے، جب حالیہ دنوں میں 2 انسداد دہشت گردی عدالتوں نے 9 مئی 2023 کے پٴْرتشدد ملک گیر فسادات سے متعلق مقدمات میں پی ٹی آئی کے کئی اہم رہنماؤں کو 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی ہیں۔لاہور کی اے ٹی سی نے 8 رہنماؤں کو 10 سال قید بامشقت کی سزا دی، جب کہ 6 کو بری کر دیا، سرگودھا کی اے ٹی سی نے بھی ایم این اے احمد چٹھہ اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر سمیت 32 ملزمان کو سزا سنائی تھی۔مئی میں اسلام آباد پولیس کی پراسیکیوشن نے 4 اکتوبر کے احتجاج پر کورال تھانے میں درج مقدمے میں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت (جن میں عمر ایوب، چیئرمین گوہر خان، کے پی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر محمد علی سیف) کو بھی نامزد کیا۔اسی مہینے، لاہور کی اے ٹی سی نے پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر اور رانا شہباز احمد کو دو مقدمات میں مفرور قرار دیا، جو مبینہ طور پر پنجاب پولیس پر حملے اور مینارِ پاکستان کی جانب مارچ کے دوران درج کیے گئے تھے۔وفاقی دارالحکومت کے نون اور رمنا تھانوں میں بھی ان جھڑپوں سے متعلق دیگر مقدمات درج کیے گئے تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسلام ا باد پی ٹی ا ئی میں پی
پڑھیں:
’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے طلبہ احتجاج کے تناظر میں ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے طلبہ اور سونم وانگچک سے اپیل کی ہے۔
سلمان خان نے نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’طلبہ کی تعلیم اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں خود بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے والدین کو مزید پریشان کرنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’معزز وزیرِ اعظم اس معاملے پر ٹوئٹ کر چکے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پرچہ لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ لہٰذا تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘‘
View this post on Instagramاداکار نے اپنے پیغام میں گزشتہ 25 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تعلیمی کارکن سونم وانگچک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’سونم، اب بہت ہو گیا، بھائی۔ براہِ کرم اپنی بھوک ہڑتال مزید طویل نہ کریں۔ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو احتجاج کا جذبہ برقرار رکھیے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب اس کی ضرورت ہے۔ کچھ کھا لیجیے، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے آپ کے لیے کھانا بھی بھجوا دوں گا۔‘‘
یہ بیان سلمان خان کی جانب سے 24 گھنٹوں کے دوران اس معاملے پر دوسری عوامی اپیل ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے نیٹ امتحان کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا تھا۔
View this post on Instagramواضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔