پی ٹی آئی کی تحریک سے کوئی خطرہ نہیں، سازشوں کا حصہ نہیں بنیں گے: سینیٹر عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی کسی تحریک سے حکومت کو کوئی خوف یا خطرہ نہیں۔ وفاقی دارالحکومت سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے خوشی سے پاکستان آئیں، برطانیہ میں جو احتجاج دیکھے ان کے مطابق یہاں بھی احتجاج کریں، کسی کو نہیں روکا جائے گا انہوں نے محمود اچکزئی کے اس بیان پر ردعمل دیا کہ خیبرپختونخوا میں اے پی سی حکومت گرانے کے لیے بلائی جا رہی ہے۔ سینیٹر کا کہنا تھا کہ ہم کسی سازش کا حصہ نہیں بن سکتے، اور ہمیں ایسی کسی تحریک سے پریشانی بھی نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن کو اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں، اسی لیے اب تک کوئی اجلاس بھی نہیں بلایا گیا عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں مگر پی ٹی آئی کو چھت پر چڑھ کر آواز نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم کے بعد کوئی بھی نئی ترمیم 27ویں ہو گی، تاہم فی الحال حکومت کسی آئینی ترمیم پر کام نہیں کر رہی 9 مئی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دفاعی تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں پر حملے سنگین جرائم تھے اور ایسے مجرموں کو قانون کے مطابق سزائیں ملنی چاہییں۔ نواز شریف سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی صدر کے طور پر متحرک ہیں اور بلاوجہ بیان بازی سے گریز کرتے ہیں، وقت آنے پر بھرپور سیاسی کردار ادا کریں گے عرفان صدیقی نے علی امین گنڈاپور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خارجہ امور وفاقی حکومت کا دائرہ کار ہے، یہ کام ان کا نہیں۔ بہتر ہوگا کہ وہ اپنے صوبے کے امن و امان اور مالی بدعنوانیوں پر توجہ دیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی پی ٹی آئی
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ