انگلینڈ بھارت ٹیسٹ کے دوران پاکستانی شائق کو شرٹ ڈھانپنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
انگلینڈ اور بھارت کے درمیان اولڈ ٹریفورڈ میں جاری چوتھے ٹیسٹ میچ کے دوران ایک پاکستانی شائقِ کرکٹ کو اپنی قومی ٹیم کی جرسی پہننے پر سیکیورٹی اہلکار کی جانب سے شرٹ ڈھانپنے کی ہدایت دی گئی، جس پر تنازع کھڑا ہو گیا، میزبان کلب لنکاشائر نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’کھیل کو کھیل ہی رہنے دو‘، دانش کنیریا بھارتی ٹیم کی منافقت پر پھٹ پڑے
فاروق نذر نامی پاکستانی شائق نے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی، جس میں انہیں سبز رنگ کی پاکستانی ٹیم کی ٹی شرٹ پہنے اسٹیڈیم میں بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک سیکیورٹی اہلکار انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے کنٹرول روم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آپ یہ شرٹ ڈھانپ لیں۔ کچھ دیر بعد ایک اور اسٹیوَرڈ شرٹ کو ’’قوم پرستانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے چھپانے کی بات کرتا ہے۔
ویڈیو میں فاروق نذر کو صورتحال پر برہم ہوتے اور شرٹ ڈھانپنے کی بار بار کی گئی درخواستوں پر پریشان ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ بعد ازاں ایک پولیس افسر ان سے بات کرنے کے لیے انہیں اسٹیڈیم کے نشستوں والے حصے سے باہر لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فاروق نذر نے شرٹ چھپانے کے بجائے میدان چھوڑنے کو ترجیح دی۔
برطانیہ میں
انگلینڈ اور بھارت کے میچ میں
ایک پاکستانی کو پاکستان کی شرٹ پہن کر میچ دیکھنے سے روک دیا گیا۔
یہ کیا”بیہودگی اور گھٹیاپن”ہے؟ pic.
— Asad R Chaudhry (@Asadrchaudhry) July 28, 2025
یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ واقعہ 5 روزہ ٹیسٹ میچ کے کس دن پیش آیا، تاہم لنکاشائر کاؤنٹی کلب نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ کلب کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس واقعے سے باخبر ہیں اور اس کے تمام پہلوؤں اور سیاق و سباق کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، خصوصاً جون کے آغاز میں ہونے والی مختصر سرحدی جھڑپوں کے بعد اس تناؤ کا اثر دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز، بی سی سی آئی اور پی سی بی کے تعلقات پر بھی پڑا ہے، پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے مابین درمیان 2012-13 کے بعد کوئی باقاعدہ سیریز نہیں ہوئی، جبکہ ٹیسٹ کرکٹ تو 2007-08 سے بند ہے۔
آئی سی سی ایونٹس میں بھی دونوں ممالک کے درمیان میچز کے لیے حالیہ برسوں میں غیر جانبدار مقام کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ کسی ایک ملک کی میزبانی کا تنازع نہ پیدا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی: ہربھجن سنگھ کی بھارتی ٹیم کی پاکستان آمد سے قبل زہر افشانی
دوسری جانب لنکاشائر کلب حالیہ برسوں میں بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ دی ہنڈریڈ لیگ کی ٹیم ’مانچسٹر اوریجنلز‘ اپنی آمدنی کا 70 فیصد حصہ بھارتی بزنس مین سنجیو گوئنکا کے آر پی ایس جی گروپ کے پاس جانے والا ہے، جو انڈین پریمیئر لیگ میں لکھنؤ سپر جائنٹس کے بھی مالک ہیں۔
لنکاشائر کے چیف ایگزیکٹیو ڈینیئل گڈنی نے ماضی میں بی سی سی آئی کو دی ہنڈریڈ میں شراکت دار بنانے کی تجویز بھی دی تھی۔
یہ واقعہ برطانوی کرکٹ گراؤنڈز میں کھیل سے ہٹ کر سیاسی حساسیت کے اثرات کی ایک تازہ مثال بن کر سامنے آیا ہے، جس پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انگلینڈ اولڈ ٹریفورڈ بھارت پاکستانی شائق شرٹ کرکٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انگلینڈ بھارت پاکستانی شائق کرکٹ پاکستانی شائق کے لیے ٹیم کی
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔