فاطمہ بھٹو کے ہمراہ نئی پارٹی کا اعلان ‘لیاری سے الیکشن لڑوں گا: ذوالفقار جونیئر
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ذوالفقار جونیئر نے کہا ہے کہ اگر موقع ملا تو لیاری سے الیکشن لڑوں گا۔ مجھے اسٹیبلشمنٹ کی کوئی سپورٹ نہیں۔ پارٹی کے نام پر غور کررہے ہیں۔ کراچی 70کلفٹن میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیاری کے لوگ اور عوام مشکل میں ہیں۔ لیاری میں تقریباً 150 عمارتیں سیل کردی گئی ہیں۔ آج میں بغدادی واقعہ کے متاثرین کیلئے یہاں موجود ہوں۔ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت متاثرین کوگھر فراہم کرے۔ لیاری کے لوگوں نے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا لیکن آج کے لیاری کی صورتحال دیکھیں۔ لیاری کے لوگوں کے حقوق کے لئے لیاری سے الیکشن لڑوں گا۔ ایل ڈی اے کی سکیم 42 میں لیاری متاثرین کو جگہ دینی چاہیے۔ اپنی پارٹی حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم پارٹی کے نام پر غور کررہے ہیں۔ فاطمہ بھٹو آرہی ہیں، ان کے ساتھ پارٹی کا اعلان کریں گے۔ ذوالفقار جونیئر نے کہا کہ شاہراہ بھٹو کراچی کے عوام کے منہ پر طمانچہ اور فضول پروجیکٹ ہے۔ مجھے اسٹیبلشمنٹ کی کوئی سپورٹ نہیں، یہ جھوٹ ہے کہ مجھے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔