چھبیس نومبر احتجاج کیس، عدالتی حکم پر پی ٹی آئی 65رہنماوں اور کارکنان کی گرفتاریوں کیلئے ٹیمیں تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
چھبیس نومبر احتجاج کیس، عدالتی حکم پر پی ٹی آئی 65رہنماوں اور کارکنان کی گرفتاریوں کیلئے ٹیمیں تشکیل WhatsAppFacebookTwitter 0 31 July, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(سب نیوز) پولیس نے پی ٹی آئی رہنماوں کے عدالتی وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی۔پولیس ٹیموں نے سابق صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعلی کے پی کے، علیمہ خان سمیت دیگر رہنماوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے شروع کردئیے۔
ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ 26 نومبر احتجاج کے حوالے سے تھانہ صادق آباد، واہ کینٹ اور نصیر آباد کے مقدمات میں انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے پی ٹی آئی کے 65 رہنماوں و کارکنان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہونے پر وارنٹ جاری کئے گئے۔
تھانہ صادق آباد کے مقدمہ میں 28 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے، تھانہ واہ کینٹ کے مقدمہ میں 18 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے، جبکہ نصیر آباد کے مقدمہ میں 19 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔ملزمان میں سابق صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، علی امین گنڈا پور، علیمہ خان، عمر ایوب، زبیر نیازی، فرخ محمد سیال، حماد اظہر، مطیع اللہ شاہ، کنول شوزف، شیخ وقاص اکرم، اعجاز خان جازی، کرنل اجمل صابر، عامر مغل، سردار منصور، میاں اسلم اقبال بھی شامل ہیں۔
تھانہ صادق آباد کے مقدمہ میں 18 دیگر ملزمان کے عدم حاضری کی بنیاد پر وارنٹ بھی جاری ہوئے، ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل، مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جارہے ہیں، عدالتی حکم پر ہر صورت عملدرآمد کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے ہی ماہ مقرر کردہ ہدف حاصل کرلیا ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے ہی ماہ مقرر کردہ ہدف حاصل کرلیا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں تقرر و تبادلے ، نوٹیفکیشن سب نیوز پر ریاست نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی ہے، وزیراعظم ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم میں پاکستان کیخلاف ٹی 20سیریز کے لیے چار تبدیلیوں کا اعلان معروف امریکی سیاستدان محمد عارف کا وزیراعظم شہباز شریف سے نوبل انعام کیلئے امریکی صدر ٹرمپ کی نامزدگی کی توثیق کا مطالبہ تعلیم، خودمختاری کی پہلی سیڑھی ، حکومت خواتین کو قائدانہ کردار کیلئے تیار کر رہی ہے، وجیہہ قمرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وارنٹ گرفتاری جاری کے مقدمہ میں ٹیمیں تشکیل ملزمان کے جاری ہوئے پی ٹی آئی سب نیوز آباد کے کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس